ہر خزاں غارت گر چمن ہی سہی
ہر خزاں غارت گر چمن ہی سہی پھر بھی اک سر خوشی بہار میں ہے موت پر اختیار ہو کہ نہ ہو زندگی اپنے اختیار میں ہے
ہر خزاں غارت گر چمن ہی سہی پھر بھی اک سر خوشی بہار میں ہے موت پر اختیار ہو کہ نہ ہو زندگی اپنے اختیار میں ہے
ہے مرے پاس اک مرا چوہا خوب صورت سا دل ربا چوہا دم بھی چوہے کی سر بھی چوہے کا ہے مرا چوہا بس نرا چوہا بلی کو بھی سبق پڑھاتا ہے ہے بہت ہی پڑھا لکھا چوہا میرے چوہے کو کوئی کچھ نہ کہے مرا چوہا ہے لاڈلا چوہا سو گیا دیکھ کر وہ بلی کو لوگ سمجھے کہ مر گیا چوہا حرکتیں اس کی سب دلیروں کی کام کا ...
بلی کو سمجھانے آئے چوہے کئی ہزار بلی نے اک بات نہ مانی روئے زار و زار سنو گپ شپ سنو گپ شپ ناؤ میں ندی ڈوب چلی ہاتھی کو چیونٹی نے پیٹا مینڈک شور مچائے اونٹ نے آ کر ڈھول بجایا مچھلی گانا گائے سنو گپ شپ سنو گپ شپ ناؤ میں ندی ڈوب چلی آدھی رات کو چاند اور سورج بادل کے گھر آئے بجلی نے ...
اک فسوں کار بت تراش ہوں میں زندگی کی طویل راتوں کو بار ہالے کے تیشۂ افکار بت تراشے ہیں سینکڑوں میں نے ترے سانچے میں ڈھالنے کے لیے چاند سے نور مرمریں لے کر تیرا سیمیں بدن تراش لیا مہر سے تاب آتشیں لے کر ترے رنگیں لبوں کا روپ دیا لے کے توبہ کی عنبریں سائے تیری زلفوں کے بال ...
جو سفر بھی تھا زندگانی کا یونہی بے رسم و راہ ہم نے کیا خود گناہوں کو شرم آئی ہے ایسا ایسا گناہ ہم نے کیا
آج کچھ مضمحل سی یادوں کے یوں سلگنے لگے ہیں افسانے جیسے اک نیم سوز شمع کے گرد سسکیاں لے رہے ہوں پروانے
جس نے بنائی دنیا جس نے بسائی دنیا ہاں وہ مرا خدا ہے مجھ کو بھی زندگی دی تجھ کو بھی زندگی دی ہاں وہ مرا خدا ہے اس نے بنائے سارے یہ چاند اور تارے سورج کو روشنی دی پھولوں کو تازگی دی ہاں وہ مرا خدا ہے لیتا ہوں نام اس کا کرتا ہوں اس کی پوجا وہ میرا رہنما ہے وہ میرا آسرا ہے ہاں وہ مرا ...
زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست زندگی ہے تو بدل جائیں گے یہ لیل و نہار یہ شب و روز، مہ و سال گزر جائیں گے ہم سے بے مہر زمانے کی نظر کے اطوار آج بگڑے ہیں تو اک روز سنور جائیں گے فاصلوں، مرحلوں راہوں کی جدائی کیا ہے دل ملے ہیں تو نگاہوں کی جدائی کیا ہے کلفت زیست سے انسان پریشاں ...
یہ کس نے مری نظر کو لوٹا ہر چیز کا حسن چھن گیا ہے ہر شے کے ہیں اجنبی خط و خال بڑھتے چلے جا رہے ہیں ہر سمت موہوم سی بے رخی کے سائے کچھ اس طرح ہو رہا ہے محسوس جیسے کسی شے کا نقش مانوس آ آ کے قریب لوٹ جائے بیگانہ ہوں اپنے آپ سے میں اور تو بھی ہے دور دور مجھ سے کچھ ایسے بکھر بکھر ...
رات آئی اور جاگے تارے ننھے منے چھوٹے چھوٹے آ بیٹھے ہیں مل کر سارے رات آئی اور جاگے تارے دیکھو کیسے چمک رہے ہیں گویا موتی دمک رہے ہیں کتنے اچھے کتنے پیارے رات آئی اور جاگے تارے تھک جاتے ہیں چلتے چلتے آخر آنکھیں ملتے ملتے سو جاتے ہیں نیند کے مارے رات آئی اور جاگے تارے چپکے چپکے ...