شاعری

شہر

لوگ کہتے ہیں کہ تجھ سے تھک جانا مر جانے کے برابر ہے اور مجھے بھی کبھی کبھی ایسا ہی لگتا ہے تو سن شہر میں تجھ سے صاف صاف کہہ دوں کہ میں تجھ سے تھک گیا ہوں یا مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے سر سے اس باپ کا سایہ اٹھ گیا ہے جو اتنے دنوں میری نگہبانی کر رہا تھا سن شہر اگر مر جاؤں اور لوگ مجھے ...

مزید پڑھیے

سمندر کا خیال

اپنی دہلیز پہ کھڑا تنہا اپنا گھر اجنبی سا لگتا تھا اس کی رخصت تھی مانند پرواز ہر طرف ابتری کا منظر تھا ایک لکنت زدہ سی ویرانی در و دیوار پہ تھی حیرانی لرزتے آنسو اور دکھتا ہوا سر روکتے تھے اسے پیمائش ویرانی سے وہ کہ سویا ہے یا کہ جاگا ہے صبح سے کیوں یہ سمندر کا خیال ذہن میں آج ...

مزید پڑھیے

کون ہے تو

سایہ میرا مجھ کو دیکھ کے بھاگے ہے پھر بھی میرے ساتھ رہے ہے کون ہے تو ابھی قربت ہی زیست کا باعث ہے پھر بھی تجھ سے ڈر ہی لگے ہے کون ہے تو تجھ کو دیکھ کے پیار سے دل بھر آئے کبھی دوجے لمحے دل لرزے ہے کون ہے تو تیرے من کی باتیں من کی باتیں ہیں پھر بھی من کی بات نہ سمجھے کون ہے تو راز کی ...

مزید پڑھیے

بیڑیاں

ہر رات اک ہجوم پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کو بے قرار ہر رات بیڑیاں پاؤں کو نگل جاتی ہیں صرف بائیں کو حرکت کی اجازت ہے دایاں بیڑیوں میں محفوظ ہے اگر بیڑیاں پاؤں نہ نگلیں تو ان سروں کا کیا ہوگا جو پاؤں کے بل کھڑے ہیں

مزید پڑھیے

میرے بعد آ

بدلے گا رنگ شام الم میرے بعد آ ہوگا ذرا سا درد بھی کم میرے بعد آ تنہائیاں بھی اپنی ہیں اپنی ہیں ساعتیں خود ساختہ ہیں سارے یہ غم میرے بعد آ خوابوں کے اس منڈیر سے دیکھا کیے مجھے یہ اور بات ہے کہ ہوئی چشم میری نم نمناکیوں کی بات ختم میرے بعد آ ہریالیوں کی بھیڑ مگر دکھ کی کاشت ہے بدلے ...

مزید پڑھیے

کون ہے اپنا

سوچو تو کون ہے اپنا دنیا ساری ان کی دنیا اپنی دنیا دکھ کی دنیا سوچو تو کون ہے اپنا سب ہی مگن ہیں اپنے سکھ میں ہم جیتے ہیں پالے دکھ میں سوچو تو کون ہے اپنا خوابوں کی دنیا میں اکیلے ہم ہی نہیں تھے تنہا نہیں تھے ساتھ تھے اپنے خواب ادھورے سوچو تو کون ہے اپنا دکھ جب ہم کو دئے گئے ...

مزید پڑھیے

زرد پتے

ڈھیر میں خاموش سوئے تھے وہ سب یک بیک جنبش ہوئی جاگے سبھی پھر شرارت سے ہوا میں تیرنے اڑنے لگے آئے تھے کیوں اور کیوں چلے میں نے کہا پتے پتے پتے ہیں اٹھلا کے وہ کہنے لگے ہم یہاں ایک خوب صورت خواب آنکھوں میں جگائے سو رہے تھے کہ کوئی فن کار سنہرے زرد اور بھورے رنگوں میں ڈھال دے ہم ...

مزید پڑھیے

ایک لوری صرف اپنے لئے

آسمان نیلا ہے دھرتی تو بھرتی ہے راجا بیٹے جتنا جی چاہے اب سو جا خوابوں کی دنیا میں شہزادی پریاں ہیں ان کی پناہوں میں ان کی ہی بانہوں میں سیانے بیٹے جتنا جی چاہے اب سو جا

مزید پڑھیے

۳۱ دسمبر

ایک اور سال بیت گیا اضطراب کا ایک اور شام ڈھل گئی بے چینیوں کی آج ایک اور دن کی شام کسی طرح ہو گئی کچھ دے دلا کے حال کو ماضی بنا دیا

مزید پڑھیے

ہم سفر

اک سفر کی شروعات ہو سکتی ہے تم اگر ہاں کہو تم اگر ہاں کہو شاہراہوں میں گلیوں میں بھٹکیں گے ہم کوئی منزل نہ ہو نہ ہو زاد سفر کوئی منزل نہ ہو نہ ہو زاد سفر ہم سفر ہم سفر ہم سفر ہم سفر اور بننے میں تم کو مہارت تو ہے خواب بنتے چلیں گے ڈگر سے ڈگر تم اگر ہاں کہو تم اگر ہاں کہو ہم سفر ہم سفر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5455 سے 5858