شاعری

قسطوں میں خواب

میں جب چھوٹا تھا تو چلتے چلتے خواب دیکھا کرتا تھا اکثر میں صرف خواب دیکھنے کے لیے ہی چلتا تھا صبح کو دوپہر کو شام کو رات کو گہری نیند سوتا تھا جو گہری نیند سوتے ہیں وہ خواب نہیں دیکھتے سارے خوابوں کا مرکزی کردار میں ہی ہوا کرتا تھا مگر میرے قریبی اور پیارے لوگ بھی اس میں شامل رہتے ...

مزید پڑھیے

آنسوؤں کے رتجگوں سے

سارے منظر ایک جیسے ساری دنیا ایک سی ناشپاتی کے درختوں سے کھجوروں کی گھنی شاخوں تلک دنیا اچانک ایک جیسی ہو گئی ہے مصر کے اہرام کی محزوں فضائیں دم بخود ہیں کوفہ و بغداد کے بازار میں کاظمین و مشہد اعراق سے نوحے نکل کر سرحد لبنان تک پہنچے ہوئے ہیں شہر دلی کے اندھیرے ظلمت لاہور سے ...

مزید پڑھیے

زمین اپنے بیٹوں کو پہچانتی ہے

زمین ایک مدت سے ہفت آسماں کی طرف سر اٹھائے ہوئے رو رہی ہے زمین اپنے آنسو بہت اپنی ہی کوکھ میں بو رہی ہے زمیں دل کشادہ ہے کتنی فلک کے اتارے ہوئے بوجھ بھی ڈھو رہی ہے فضا پر بہت دھند چھائی ہوئی ہے جواں گل بدن شاہزادے زمیں کے دلارے اجڑتی ہوئی بزم کے چاند تارے کٹی گردنوں گولیوں سے چھدے ...

مزید پڑھیے

بدلنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا

چلے تھے لوگ جب گھر سے تو اک وعدے کی تختی اپنی پیشانی پر رکھ کر لائے تھے جس کی گواہی میں سفر کو آگے بڑھنا تھا اور اس کے ساتھ خوابوں خواہشوں کے نام اس ویران گھر کو آگے بڑھنا تھا تو اک وعدے کی تختی تھی بہت دن تک جو روشن تھی سرابوں میں پرانی داستانیں جاگتی تازہ نصابوں میں بہت دن تک ہوا ...

مزید پڑھیے

پہلے تو شہر ایسا نہ تھا

اک بار چل کر دیکھ لیں شاید گزشتہ موسموں کا کوئی اک دھندلا نشاں مل جائے اور پھر سے فضا شاداب ہو اجڑا ہوا اک خواب ہو تصویر میں کچھ گرد باد باقیات منبر و محراب ہو اک بار چل کر دیکھ لیں پھر بند ہوتے شہر کے بازار کو جھانکیں ذرا اجڑی دکانوں میں کلاہ و جبہ و دستار کو اک شہر تازہ کار کو کچھ ...

مزید پڑھیے

فلک پہ چاند نہیں کوئی ابر پارہ نہیں

فلک پہ چاند نہیں کوئی ابر پارہ نہیں یہ کیسی رات ہے جس میں کوئی ستارہ نہیں یہ انکشاف ستاروں سے بھر گیا دامن کسی نے اتنا کہا جب کہ وہ ہمارا نہیں زمیں بھنور ہو جہاں آسماں سمندر ہو وہاں سفر کسی ساحل کا استعارہ نہیں میں مختلف ہوں زمانے سے اس لیے شاید کسی خیال کی گردش مجھے گوارہ ...

مزید پڑھیے

اک تصور تو ہے تصویر نہیں

اک تصور تو ہے تصویر نہیں خواب ہے خواب کی تعبیر نہیں یہ رہائی کی تمنا کیا ہے جب مرے پاؤں میں زنجیر نہیں صبح میری طرح آباد نہیں شام میری طرح دلگیر نہیں کیوں ابھر آیا تری یاد کا چاند جب اجالا مری تقدیر نہیں سنگ میں پھول کھلانے والو فن یہاں باعث توقیر نہیں بات کہنے کا سلیقہ ہے ...

مزید پڑھیے

دیرینہ خواہشوں سے سجایا گیا مجھے

دیرینہ خواہشوں سے سجایا گیا مجھے مقتل میں کس فریب سے لایا گیا مجھے بار ثمر سے شاخ شجر جھک گئی تو کیا میں بے ثمر تھا پھر بھی جھکایا گیا مجھے سیارۂ زمیں ہے کہاں سوچتا ہوں میں پاتال میں فلک سے گرایا گیا مجھے میں نقش ہجر یار ہوں شب کی فصیل پر جلتا ہوا چراغ بنایا گیا مجھے لائے ہیں ...

مزید پڑھیے

دن ہوا کٹ کر گرا میں روشنی کی دھار سے

دن ہوا کٹ کر گرا میں روشنی کی دھار سے خلق نے دیکھے لہو میں رات کے انوار سے اڑ گیا کالا کبوتر مڑ گئی خوابوں کی رو سایۂ دیوار نے کیا کہہ دیا دیوار سے جب سے دل اندھا ہوا آنکھیں کھلی رکھتا ہوں میں اس پہ مرتا بھی ہوں غافل بھی نہیں گھر بار سے خاک پر اڑتی بکھرتی پرزہ پرزہ آرزو یاد ہے یہ ...

مزید پڑھیے

یہ تیرا خیال ہے کہ تو ہے

یہ تیرا خیال ہے کہ تو ہے جو کچھ بھی ہے میری آرزو ہے دل پہلو میں جل رہا ہے جیسے یہ کیسی بہار رنگ و بو ہے تقدیر میں شب لکھی گئی تھی کہنے کو یہ زلف مشکبو ہے وہ دست خزاں سے بچ گیا ہے جس پھول میں رنگ ہے نہ بو ہے پتھر کو تراش کر بھی دیکھو یہ فن بھی خدا کی جستجو ہے پردیس ہے شہر شہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5456 سے 5858