شاعری

بدن کی آنچ سے چہرہ نکھر گیا کیسا

بدن کی آنچ سے چہرہ نکھر گیا کیسا یہ میری روح میں شعلہ اتر گیا کیسا ہزار آنکھوں سے میں اس کا منتظر اور وہ مرے قریب سے ہو کر گزر گیا کیسا یہ کس ہوا کی انا توڑتی رہی ہم کو ہمارے خوابوں کی خرمن بکھر گیا کیسا دکھا کے ایک جھلک چاند ہو گیا اوجھل چڑھا نہ تھا کہ یہ دریا اتر گیا کیسا کس ...

مزید پڑھیے

پیہم اک اضطراب عجب خشک و تر میں تھا

پیہم اک اضطراب عجب خشک و تر میں تھا میں گھر میں آ رکا تھا مرا گھر سفر میں تھا کیا روشنی تھی جس کو یہ آنکھیں ترس گئیں کیا آگ تھی کہ جس کا دھواں میرے سر میں تھا بس ایک دھند خوابوں کی فکر و خیال میں بس ایک لمس درد کا شام و سحر میں تھا ہر عہد کو سمیٹے ہوئے چل رہا تھا میں نادیدہ ساعتوں ...

مزید پڑھیے

لفظوں کے ستم لہجوں کے آزار بہت ہیں

لفظوں کے ستم لہجوں کے آزار بہت ہیں کہنے کو تو اس شہر میں غم خوار بہت ہیں کچھ اپنے ہی دنیا میں نہیں اتنے زیادہ کچھ ان میں سے بھی شامل اغیار بہت ہیں ہر سمت سپیرے ہیں جمائے ہوئے ڈیرے اس شہر میں سانپوں کے خریدار بہت ہیں ہر سمت سے طوفان کی آمد کی ہیں خبریں اب مان لو ہم لوگ گنہ گار بہت ...

مزید پڑھیے

دل کی آنکھوں سے نکلتے ہیں جو کم کم آنسو

دل کی آنکھوں سے نکلتے ہیں جو کم کم آنسو جسم کی آنکھ میں آ جائیں نہ یک دم آنسو کیسے پانی پہ کوئی ریت سے بن پائے گا گھر کیسے مسکان سے کر پائیں گے سنگم آنسو جیسے ساون میں کبھی ٹوٹ کے بادل برسے یوں برستے ہیں مری آنکھ سے چھم چھم آنسو میں نے اجداد سے میراث میں پایا کیا ہے چار چھ نوحے ...

مزید پڑھیے

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود رونق لگائے رکھتا ہے اک خواب کا وجود اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میں میری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود اس بات سے ہی دیکھ لیں قربت ہمارے بیچ پہنا ہے میں نے روح پہ اس شخص کا وجود پھر میں کروں نہ ناز کیوں اپنی بڑائی پر یزداں نے اپنے ہاتھ سے ...

مزید پڑھیے

مشکل کو ذرا چھوڑ کے آسان کے بارے

مشکل کو ذرا چھوڑ کے آسان کے بارے کچھ سوچ مری تنگئ دامان کے بارے اک تیرے بلاوے پہ بہل جاتا ہے ورنہ معلوم ہے مجھ کو دل نادان کے بارے آغاز محبت میں توکل ہے ضروری مت سوچ کسی فائدہ نقصان کے بارے اس شہر میں ہر شخص کو سونے کی پڑی ہے حالانکہ بتایا بھی ہے طوفان کے بارے اس بستیٔ خوش آب ...

مزید پڑھیے

زمانے بھر کا جو سارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے

زمانے بھر کا جو سارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے یقیں کرو جو تمہارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے یہ ساری دنیا ہمارے دکھ سے بھری پڑی ہے یہ چاند سورج ستارہ دکھ ہے ہمارا دکھ ہے تمہاری نسبت سے ہی جو مجھ کو ملا ہوا ہے یہ ہجر بھی کتنا پیارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے یہ دنیا گویا ہے ایک بلڈنگ پہ کام جاری ہے ...

مزید پڑھیے

یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے

یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے سو اس کے جانے پہ دل مرا مجھ سے مشتعل ہے خصوصی باتیں جو شاعری کی ہیں ایک ان میں یہ خون پیتی ہے اور پیتی بھی مستقل ہے ہمارا ہر دن کتاب کا ایک باب ہے اور کتاب وحشت کی داستانوں پہ مشتمل ہے ہے ایک خواہش کہ بہتے پانی میں جو ہے مضمر ہے ایک حسرت کہ جو ...

مزید پڑھیے

عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا

عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا تو کبھی دشت میں آئے گا تو چھا جائے گا بات سے بات گھمانے پہ تجھے داد ملی پھر تو تو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا رقص فرقت میں کروں گا تو کیے جاؤں گا ابر وحشت کا جو چھائے گا تو چھا جائے گا وصل میں جان سے جائے گا تو مر جائے گا ہجر میں جان سے جائے گا تو ...

مزید پڑھیے

آیا ہوں ترے خواب کنارے پہ لگا کر

آیا ہوں ترے خواب کنارے پہ لگا کر طوفان سے تعبیر کی کشتی کو بچا کر جینے کا مزہ تجھ کو بھی آ جائے گا لیکن جو تجھ سے دغا کرتے ہیں تو ان سے وفا کر گاؤں کی روایت کو رکھا قائم و دائم اس شہر میں ہر موڑ پہ اک پیڑ لگا کر اس شہر کی گلیاں بھی مجھے کہتی ہیں عاجز لے جائے ہمیں اس کے محلے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5412 سے 5858