بدن کی آنچ سے چہرہ نکھر گیا کیسا
بدن کی آنچ سے چہرہ نکھر گیا کیسا یہ میری روح میں شعلہ اتر گیا کیسا ہزار آنکھوں سے میں اس کا منتظر اور وہ مرے قریب سے ہو کر گزر گیا کیسا یہ کس ہوا کی انا توڑتی رہی ہم کو ہمارے خوابوں کی خرمن بکھر گیا کیسا دکھا کے ایک جھلک چاند ہو گیا اوجھل چڑھا نہ تھا کہ یہ دریا اتر گیا کیسا کس ...