شاعری

سینہ خوں سے بھرا ہوا میرا

سینہ خوں سے بھرا ہوا میرا اف یہ بد مست مے کدہ میرا نا رسائی پہ ناز ہے جس کو ہائے وہ شوق نا رسا میرا دل غم دیدہ پر خدا کی مار سینہ آہوں سے چھل گیا میرا یاد کے تند و تیز جھونکے سے آج ہر داغ جل اٹھا میرا یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا منت چرخ سے بری ہوں میں نہ ہوا ...

مزید پڑھیے

چیر کر سینے کو رکھ دے گر نہ پائے غم گسار (ردیف .. ے)

چیر کر سینے کو رکھ دے گر نہ پائے غم گسار دل کی باتیں دل ہی سے کوئی بیاں کب تک کرے مبتلائے درد ہونے کی یہ لذت دیکھیے قصۂ غم ہو کسی کا دل مرا دھک دھک کرے سب کی قسمت اک نہ اک دن جاگتی ہے ہاں بجا زندگی کیوں کر گزارے وہ جو اس میں شک کرے

مزید پڑھیے

دن مرادوں کے عیش کی راتیں

دن مرادوں کے عیش کی راتیں ہائے کیا ہو گئیں وہ برساتیں رات کو باغ میں ملاقاتیں یاد ہیں جیسے خواب کی باتیں حسرتیں سرد آہیں گرم آنسو لائی ہے برشگال سوغاتیں خوار ہیں یوں مرے شباب کے دن جیسے جاڑوں کی چاندنی راتیں دل یہ کہتا ہے کنج راحت ہوں دیکھنا غم نصیب کی باتیں جن کے دم سے شباب ...

مزید پڑھیے

جزو‌ و‌ کل کا ہم اس انداز سے رشتہ سمجھے

جزو‌ و‌ کل کا ہم اس انداز سے رشتہ سمجھے دیکھ کر قطرے کو ماہیت دریا سمجھے ہر ادا تیری ہم آہنگ تھی دل سے اتنی ہر ادا کو تری ہم دل کا تقاضا سمجھے ہم وہ خودبیں ہیں کہ ہنگامۂ دل کے آگے سارے ہنگامۂ گیتی کو تماشا سمجھے ہم کو مٹی کے گھروندوں کی حقیقت معلوم جسم کی خاک کو ہم نفس کا سایہ ...

مزید پڑھیے

اک جل تھل تھی کل تک یہ زمیں یہ دشت بھی کل تک دریا تھے

اک جل تھل تھی کل تک یہ زمیں یہ دشت بھی کل تک دریا تھے یہ شور تھا کل اک سناٹا یہ شہر بھی کل تک صحرا تھے آغاز اپنا وحشت بصری انجام اپنا شوریدہ سری ہم آج بھی ہیں بدنام بہت ہم کل بھی نہایت رسوا تھے تنہائی ذات کا سایہ ہے تنہائی اپنا ورثہ ہے ہم آج بھی ہیں تنہا تنہا ہم کل بھی تنہا تنہا ...

مزید پڑھیے

کس چمن کی خاک میں پھولوں کا مستقبل نہیں

کس چمن کی خاک میں پھولوں کا مستقبل نہیں دوربیں نظروں میں رنگ و بو ہیں آب و گل نہیں شوخیاں ہیں جس کی ہر جنبش میں لاکھوں بے نقاب کیوں وہ دزدیدہ نگاہی حق شناس دل نہیں جبر سہتا ہوں مگر کب تک سہوں انسان ہوں صبر کرتا ہوں مگر دل صبر کے قابل نہیں اے حوادث آشنا ایذا‌ طلب دل مژدہ باد جا ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں جذبات کا طوفان کتنا تیز ہے

کیا کہوں جذبات کا طوفان کتنا تیز ہے دل بہ حد بے خودی احساس سے لبریز ہے عشق کی دنیا میں ہر تکلیف راحت خیز ہے اضطراب دل بھی اک حد تک سکوں آمیز ہے دیدنی ہے اب شکست ضبط کی بے چارگی مسکراتا ہوں مگر دل درد سے لبریز ہے دل نگاہ ناز کے اٹھنے سے پہلے اٹھ گیا میرے احساسات کی رفتار کتنی تیز ...

مزید پڑھیے

موت اس بیکس کی غایت ہی سہی

موت اس بیکس کی غایت ہی سہی عمر بھر جس نے مصیبت ہی سہی حسن کا انجام دیکھیں اہل حسن عشق میرا بے حقیقت ہی سہی زندگی ہے چشم عبرت میں ابھی کچھ نہیں تو عیش و عشرت ہی سہی دیکھ لیتا ہوں تبسم حسن کا غم پرستی میری فطرت ہی سہی پردہ دار سادگی ہے ہر ادا یہ تصنع بے ضرورت ہی سہی درپئے آزار ہے ...

مزید پڑھیے

یوں سنگ دل حیات سے عہد و وفا کیا

یوں سنگ دل حیات سے عہد و وفا کیا دیوار درمیاں تھی مگر خود کو وا کیا مٹی کا رنگ و نور سے رشتہ قدیم تھا ہر بار زندگی نے نیا تجربہ کیا تھے دسترس میں یوں تو سب اسرار کائنات اس عمر بے وفا نے مگر نارسا کیا ہر اجنبی مقام سے تنہا گزر گئے اپنا ہی نقش پا تھا جسے رہنما کیا چمکا دیا لہو نے ...

مزید پڑھیے

ہر نفس منت کش آلام ہے

ہر نفس منت کش آلام ہے زندگی شاید اسی کا نام ہے ایک آنسو اور وہ بھی صرف ضبط کیا یہی امید کا انجام ہے سرگزشت عشق افسانہ نہیں زینت عنوان تیرا نام ہے حسن کی تفسیر بھی کچھ کیجیئے عشق بے شک اک خیال خام ہے عشق کی بے تابیاں ہوشیار ہوں اہل دل پر ضبط کا الزام ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5411 سے 5858