کبھی جو ویرانیوں میں دیکھا گھنا سا اک بھی شجر نہیں ہے
کبھی جو ویرانیوں میں دیکھا گھنا سا اک بھی شجر نہیں ہے شجر بھی ایسے ہیں دیکھ رکھے کہ جس میں کوئی ثمر نہیں ہے سبھی نظارے مری نظر میں غبار بن کر سمٹ گئے ہیں تجھے نہ آیا نظر تو شاید نظر میں تیری اثر نہیں ہے عجیب ہوگی ہوا کی صورت غضب کی ہوگی ہوا کی رنگت تجھے بھی اس کا پتہ نہیں ہے مجھے ...