شاعری

کتنے میلے ہیں آسمانوں میں

کتنے میلے ہیں آسمانوں میں اور ہم بند ہیں مکانوں میں نسل آدم نکل کے غاروں سے آ گئی ہے کتاب خانوں میں لوگ کرتے ہیں انتظار مرا تیر کھینچے ہوئے کمانوں میں اژدہے ہیں بہ صورت اشیا سر اٹھائے ہوئے دکانوں میں ہم وہ صحرا نورد ہیں جن کا نجد پھیلا ہے آسمانوں میں ساعتوں سے گزر رہی ہے ...

مزید پڑھیے

خار کو پھول کہو دشت کو گلزار کہو

خار کو پھول کہو دشت کو گلزار کہو اور اس جبر کو آزادیٔ افکار کہو جن کے ہاتھوں میں علم اور نہ کمر میں شمشیر وہ بھی کہتے ہیں ہمیں قافلہ سالار کہو میں تو اک شوخ کے دامن سے کروں گا تعبیر تم اسے شوق سے بت خانے کی دیوار کہو زلف بہکے تو اسے باد بہاراں سمجھو چاند نکلے تو اسے شعلۂ رخسار ...

مزید پڑھیے

جو بجھ چکے ہیں وہ لمحے اجالتا کیوں ہے

جو بجھ چکے ہیں وہ لمحے اجالتا کیوں ہے مرے بدن پہ خراشیں بھی ڈالتا کیوں ہے میں معترض تو نہیں ہوں مگر یہ سمجھا دے جو مارنا ہے تو دنیا کو پالتا کیوں ہے تجھے تلاش ہے جس کی وہ تیری ذات میں ہے یہ کوہ و بن یہ سمندر کھنگالتا کیوں ہے نہیں ہے وہ ترا کوئی تو پھر ضرورت کیا تو اس کے حسن کو ...

مزید پڑھیے

میں کہ غم کی آگ میں ڈوب کر سنور گیا

میں کہ غم کی آگ میں ڈوب کر سنور گیا اور ہر گریز پا اپنی موت مر گیا آپ مضمحل نہ ہوں دل کی واردات پر پھول تھا جھلس گیا رنگ تھا بکھر گیا مجھ سے کیا زوال کی مناسبت کہ دوستو دن ڈھلے تو اور بھی غم مرا نکھر گیا ان کو چھو لیا نگاہ نے تو یہ لگا مجھے جیسے کوئی روح میں دور تک اتر گیا چہرۂ ...

مزید پڑھیے

غم ہے آزار ہے اذیت ہے

غم ہے آزار ہے اذیت ہے ایک دل ہے ہزار آفت ہے حسن رنگینئ حیات سہی عشق بھی آدمی کی فطرت ہے آج اللہ کو جانتا ہے کون خواہش و حرص کی عبادت ہے تیری کافر اداؤں کو قاتل تیغ و خنجر کی کیا ضرورت ہے کچھ تو فرمائیے گا بندہ نواز خامشی آپ کی قیامت ہے دور حاضر کے آدمی کا چلن باعث ننگ آدمیت ...

مزید پڑھیے

زیست بے آسرا نہ ہو جائے

زیست بے آسرا نہ ہو جائے درد دل سے جدا نہ ہو جائے لطف آتا ہے رنج سہنے میں میرے غم کی دوا نہ ہو جائے آ رہی ہے بہار پھولوں پر جوش وحشت سوا نہ ہو جائے کہہ تو دوں حال دل اسے لیکن ڈر ہے ظالم خفا نہ ہو جائے خوف ہے مجھ سے آنکھ لڑتے ہی ان کی شوخی حیا نہ ہو جائے وہ گریزاں سے ہیں ستم سے ...

مزید پڑھیے

یوں بظاہر دیکھنے میں گو کہ بے چہرہ ہوں میں

یوں بظاہر دیکھنے میں گو کہ بے چہرہ ہوں میں مجھ میں اپنے خال و خط دیکھو کہ آئینہ ہوں میں جذبۂ صحرہ نوردی تھک کے کب رکتا ہوں میں پاؤں سے کانٹا نکلنے دے ابھی چلتا ہوں میں حال زہر آلود ماضی فوت مستقبل سیاہ آج کے انسان کی تقدیر پڑھ سکتا ہوں میں مے کشی تو کیا بجھا پائے گی میری ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں ان کی نگاہ فتنہ زا کیا کہہ گئی

کیا کہوں ان کی نگاہ فتنہ زا کیا کہہ گئی لب تک آتے آتے دل کی بات دل میں رہ گئی تاب نظارہ تھی کس کو جب وہ آئے بے نقاب دید کی ایک ایک رت تو دل میں گھٹ کر رہ گئی کٹ گئی شب روتے روتے انتظار یار میں آرزو ایک ایک دل کی اشک بن کر بہہ گئی آپ سے لب پر شکایت بھی کبھی آئی کہو گو مری جان حزیں ...

مزید پڑھیے

اک وہ ہیں کہ وعدہ کوئی ایفا نہیں کرتے

اک وہ ہیں کہ وعدہ کوئی ایفا نہیں کرتے اک ہم ہیں کہ اس کا کوئی شکوہ نہیں کرتے ان کا تو ہے دستور بھلا دیتے ہیں سب کو ہم ان کو کسی حال میں بھولا نہیں کرتے رو رو کے شب و روز ترے ہجر میں اے دوست ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے تم جن کی نگاہوں میں سما جاتے ہو پھر وہ دنیا کی کسی شے کی ...

مزید پڑھیے

آرزوئے وصال کیا مطلب

آرزوئے وصال کیا مطلب اے دل پر ملال کیا مطلب ٹوٹ جائے تو دل کی قدر بڑھے اس قدر دیکھ بھال کیا مطلب بے پر و بال طائروں کے لیے دانہ و دام و جال کیا مطلب ناز تھا جن کو ضبط پر اپنے ان کے لب پر سوال کیا مطلب مصلحت کیشیوں کے ساتھ اے دوست غیرت و انفعال کیا مطلب انتظار اور اس ستم گر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4405 سے 5858