شاعری

ترے فراق میں جب بھی بہار گزری ہے

ترے فراق میں جب بھی بہار گزری ہے ہمیں رلا کے لہو بار بار گزری ہے پناہ خدا کی حسینوں کی بد مزاجی سے مری دعا بھی انہیں ناگوار گزری ہے تمام رات ستاروں کے ساتھ رویا ہوں نہ پوچھ کیسے شب انتظار گزری ہے ترا نصیب اگر تو نے پی نہیں زاہد بہار ورنہ بڑی پر بہار گزری ہے ہم اپنے درد کو روئیں ...

مزید پڑھیے

اک وہی شخص جسے راحت جاں کہتا ہوں

اک وہی شخص جسے راحت جاں کہتا ہوں ہاں اسی شخص کو میں جی کا زیاں کہتا ہوں منصف شہر اس آواز سے ڈر جاتا ہے میں جسے غوغۂ آواز سگاں کہتا ہوں سر اسے کہتا ہوں جس میں ہو شہادت کا جنوں حق گوئی پر جو کٹے اس کو زباں کہتا ہوں وائے تقدیر وہ جس بات پہ کہتے ہیں نہیں بے ارادہ میں اسی بات پہ ہاں ...

مزید پڑھیے

حسن پر جاں نثار کرتا ہوں

حسن پر جاں نثار کرتا ہوں شمع روؤں کو پیار کرتا ہوں آپ کے عشق نے جو بخشے ہیں ان غموں کا شمار کرتا ہوں آہ ایماں پرست ہو کر بھی ایک کافر سے پیار کرتا ہوں مجھ پہ وہ مشق ناز کرتے ہیں شکر پروردگار کرتا ہوں دل کو ہر دم فریب دیتا ہوں آپ کا انتظار کرتا ہوں گو ترا عہد عہد باطل ہے پھر بھی ...

مزید پڑھیے

صداقت اٹھتی جاتی ہے جہاں سے

صداقت اٹھتی جاتی ہے جہاں سے زمیں ٹکرا نہ جائے آسماں سے شرر ہائے غم ہستی کو ساقی بجھا بھی دے شراب ارغواں سے ستم گاروں ستم سے باز آؤ ڈرو ہم نا توانوں کی فغاں سے شب غم کی حزیں تنہائیوں میں سکون دل کوئی لائے کہاں سے بہار آئی نہ جب اپنے چمن میں محبت ہو گئی آخر خزاں سے جو دل کا حال ...

مزید پڑھیے

اپنے من میں جھانک کر بھی خود سے بیگانہ رہا

اپنے من میں جھانک کر بھی خود سے بیگانہ رہا تو حقیقت آشنا ہو کر بھی دیوانہ رہا رخ اگرچہ جانب کعبہ رہا ہے شیخ کا دل مگر یاد بتاں سے اک پری خانہ رہا سنگ اسود کو دیا بوسہ تو دل کہنے لگا کعبہ و قبلہ سے کتنی دور بت خانہ رہا ایک دن پی کر ذرا سچ کہہ دیا تھا عمر بھر شکل سے بیزار میری پیر ...

مزید پڑھیے

خود سے بچھڑ کے ذات کے پیکر میں قید ہوں

خود سے بچھڑ کے ذات کے پیکر میں قید ہوں گھر سے نکل گیا تھا مگر گھر میں قید ہوں ہوں نعرۂ جہاد بھی عزم جوان بھی دل میں کبھی مقیم تھا اب سر میں قید ہوں مشتاق و منتظر ہوں کہ چنگاریاں ملیں کیا خوب آگ ہو کے بھی پتھر میں قید ہوں دیکھو تو کائنات دکھائی دے زیر پا سوچوں تو جیسے خود ہی ...

مزید پڑھیے

چاند بھی ستاروں کو ساتھ لے کے چلتا ہے (ردیف .. ا)

چاند بھی ستاروں کو ساتھ لے کے چلتا ہے جانے کیوں بھٹکتے ہیں لوگ بے سبب تنہا دیکھیے اندھیروں کے جسم کب پگھلتے ہیں تیرگی زیادہ ہے اور چراغ شب تنہا ہم جگر فگاروں کی اس ادا کو کیا کہیے بیٹھتے ہیں سب مل کر سوچتے ہیں سب تنہا آپ کو نہ راس آئی انجمن تو کیا ہوگا ہم تو کاٹ ہی لیں گے اپنے ...

مزید پڑھیے

سپنوں کی دھارا میں بہتا رہتا ہوں

سپنوں کی دھارا میں بہتا رہتا ہوں شبدوں کے آکار بدلتا رہتا ہوں حال سے مستقبل سے آنکھیں بند کئے ماضی کی دہلیز پہ سوتا رہتا ہوں ان سے تیری شکل نہیں ملتی پھر بھی پھولوں سے دن رات جھگڑتا رہتا ہوں باہر گھپ اندھیارا گونگے بہرے لوگ اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہوں میں ہوں سر سے پا تک ...

مزید پڑھیے

نفس نفس ہے کہ سہما ہوا سا لگتا ہے

نفس نفس ہے کہ سہما ہوا سا لگتا ہے سکوت شام کا سایہ گھنا سا لگتا ہے چلو کہ اس سے بھی کچھ دیر گفتگو کر لیں یہ اجنبی تو مصیبت زدہ سا لگتا ہے یہاں کی خاک سے آتی ہے بوئے دل داری ہر ایک شخص مجھے آشنا سا لگتا ہے یقین ہے کہ وہ منزل ملے گی اے دلکشؔ ابھی سفر ترا صبر آزما سا لگتا ہے

مزید پڑھیے

ہے لہو شہیدوں کا نقش جاوداں یارو

ہے لہو شہیدوں کا نقش جاوداں یارو مقتلوں میں ہوتی ہے آج بھی اذاں یارو سیل وقت ہوں مجھ کو کون روک سکتا ہے چھین لو قلم چاہے کاٹ لو زباں یارو بال و پر کی محرومی اور خوں رلاتی ہے جب بھی دیکھ لیتا ہوں سوئے آسماں یارو اس نگاہ بہم کو اور کس سے دوں نسبت نوک بے سناں یارو تیر بے کماں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4404 سے 5858