شاعری

دوستو تم نے بھی دیکھی ہے وہ صورت وہ شبیہ (ردیف .. ح)

دوستو تم نے بھی دیکھی ہے وہ صورت وہ شبیہ جو نگاہوں میں سما جاتی ہے منظر کی طرح مجھ کو اک قطرۂ بے فیض سمجھ کے نہ گزر پھیل جاؤں گا کسی روز سمندر کی طرح شہر آشوب میں چیزوں کا کوئی قحط نہیں زخم ملتے ہیں دکانوں میں گل تر کی طرح اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں ہے شاید ہائے وہ زلف جو کھل ...

مزید پڑھیے

آزادئ خیال کی وسعت کو دیکھیے (ردیف .. م)

آزادئ خیال کی وسعت کو دیکھیے رہ کر زمیں پہ کرتے ہیں بات آسماں سے ہم جینے کی کچھ خوشی ہے نہ مرنے کا کوئی خوف آزاد اس طرح ہوئے ہر دو جہاں سے ہم غالب ہے دل پہ جوش و ذوق سخن مرے درجہ میں کم نہیں کسی آتش‌ زباں سے ہم ستر برس کی عمر جوانوں سے بڑھ کے جوش اس راز کو چھپائے ہیں اہل جہاں سے ...

مزید پڑھیے

اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتا

اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتا ابھی کچھ روز تک کعبہ کلیسا ہو نہیں سکتا زباں سے جوش قومی دل میں پیدا ہو نہیں سکتا ابلنے سے کنواں وسعت میں دریا ہو نہیں سکتا بہت پنہاں رہی دل میں خلش خار تعصب کی مگر اب امتحاں کے وقت پردہ ہو نہیں سکتا گراں ہے جنس اور نیت خریداروں کی ابتر ...

مزید پڑھیے

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے پھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہے دونوں آنکھوں میں ہے اک جلوہ تو دو آنکھیں کیوں پتلیوں کا یہ تماشا سا وگر نہ کیا ہے تو نے پہچان لئے اپنی خدائی کے نقوش آئینہ جس نے تعارف یہ کرایا کیا ہے زندگی بھر پڑھی تقدیر کی خفیہ تحریر لوح مرقد سے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار

ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار فضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوار یہی تھے صحن فضا اور یہی گھر آنگن تھا تم آئے ہو تو ہوئے محتشم در و دیوار ہم اپنے درد ہواؤں سے بھی نہیں کہتے اٹھائے پھرتے ہیں خود اپنے غم در و دیوار یہ ریگ زار ہے اور اس کی اپنی دنیا ہے یہاں ہمیشہ رہے کم سے کم در و ...

مزید پڑھیے

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے خود کو دیکھا ہے تو آئینے پریشاں سے لگے وقت کٹتا رہا تھا عہد حضوری کہ فراق زخم لگتے رہے چاہے کسی عنواں سے لگے زندگی میرے اضافے مجھے واپس کر دے جھاڑ دے خار جو ناحق ترے داماں سے لگے کچھ تو تھی سادگی کچھ بے خبری بے ہنری کچھ ہمیں عشق کے ہنگامے ...

مزید پڑھیے

کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے

کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے خود آئینوں کا بھی احساں قبول کیا کرتے وہ کھیت کھیت رہیں جن کی خار دار صفیں انہی میں پھول تھے دو چار پھول کیا کرتے تمام جانوں کے دشمن تمام ہاتھ ہوئے یہ امتیں تھیں اب ان کے رسول کیا کرتے یہ کوئی عمر تھی تیری محبتوں والی سروں کی راکھ میں شامل یہ ...

مزید پڑھیے

آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے

آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے اپنے ہی داغ نظر بھر دیکھے تم نے جلوے کو بھی چھونا چاہا ہم نے خوشبو میں بھی پیکر دیکھے آپ انساں ہوا صورت کا اسیر شیشہ ٹوٹے تو سکندر دیکھے ہم نے آواز لگائی سر طور روپ جب شوق سے کمتر دیکھے جلوۂ طور بجا تھا لیکن آنکھ مشتاق تھی پیکر دیکھے درد کو خوف بکھر ...

مزید پڑھیے

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے روبرو کون تھا جو آئینے حیراں سے لگے کچھ تھی کم حوصلگی اپنی تھی کچھ بے صبری کچھ مجھے عشق کے ہنگامے بھی آساں سے لگے وقت کٹتا رہا تھا عہد حضوری کی فراق زخم لگتے رہے چاہے کسی عنواں سے لگے زیست ہم ہار کے بھی ہاتھ ملائیں تجھ سے اپنے یہ حوصلے ...

مزید پڑھیے

خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے

خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے مگر جو شخص کل ابھرے گا میرے خواب میں ہے جہان والوں کے لاکھوں ادھر ادھر کے جواب حیات کا تو سوال آدمی کے باب میں ہے ہمیں نہ گھیرتی شاید یہ چار دیواری مگر یہ خاک جو اس عالم خراب میں ہے خود اپنے پر جو گئے ہیں وہ طفل کون سے ہیں وہ نسل کیسی ہے جس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4403 سے 5858