گدا ہوں مجھ کو لیکن دولت کونین حاصل ہے
گدا ہوں مجھ کو لیکن دولت کونین حاصل ہے وہ آئیں گھر مرے تقدیر تھی ایسی کہاں میری میں ان کو دیکھ کر احسانؔ یہ محسوس کرتا ہوں کہ جیسے مل رہی ہو مجھ کو عمر رائیگاں میری
گدا ہوں مجھ کو لیکن دولت کونین حاصل ہے وہ آئیں گھر مرے تقدیر تھی ایسی کہاں میری میں ان کو دیکھ کر احسانؔ یہ محسوس کرتا ہوں کہ جیسے مل رہی ہو مجھ کو عمر رائیگاں میری
ہم نشیں اف اختتام بزم مے نوشی نہ پوچھ ہو رہا تھا اس طرح محسوس ہوش آنے کے بعد جس طرح دیہات کے اسٹیشنوں پر دن ڈھلے اک سکوت مضمحل گاڑی گزر جانے کے بعد
چوم کر اس بت کی پیشانی کو پچھتانا پڑا کھنچ گیا میرے لب لعل محبت سے عسل جس طرح عصیاں شعاروں کی سیہ کاری کے بعد کھوکھلی ثابت ہوا کرتی ہے تعمیر عمل
پڑھ رہی ہیں رات کی خاموشیاں افسون خواب تھم گیا ہے اک پیانو بجتے بجتے بام پر ہے مگر احساس سے موسیقیت کی چھیڑ چھاڑ دل پہ جیسے دور سے رکشے کی گھنٹی کا اثر
دہلی کا اک رئیس بہ ہنگام جاں کنی سر دھن رہا تھا چارہ گروں میں گھرا ہوا جیسے فسوں گروں کے جھمیلے میں نیم شب کھیلے سیاہ ناگ کا تازہ ڈسا ہوا
مفلسی کے وقت اکثر عشرت رفتہ کی یاد یوں دکھاتی ہے جھلک آئینۂ ادراک پر دوپہر میں جس طرح دریا سے میداں کی طرف چلتے پھرتے ابر کے ٹکڑوں کا سایہ خاک پر
شام اور رستے میں ریوڑ کے گزرنے سے غبار جھٹپٹے میں ذرہ ذرہ آنکھ جھپکاتا ہوا جنگلوں میں منتظر خاموشیاں چھائی ہوئی جیسے کوئی تھم گیا ہو راگنی گاتا ہوا
تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھا میں تمہیں شعر سنانے کے لئے آتا تھا پھر مصنف نے بلا وجہ مجھے مار دیا میں کہانی میں ہنسانے کے لئے آتا تھا رفتہ رفتہ مجھے معلوم ہوا دھیان اس کا سانپ تھا اور خزانے کے لئے آتا تھا میرے بچوں کو یقیں کون دلائے کہ یہاں چاند جھیلوں میں نہانے کے لئے آتا ...
ضرورتوں کے سبب کیا سے کیا بنانے لگا دیا بنا کے میں خود ہی ہوا بنانے لگا میں پہلے پہلے بناتا رہا خیال کا جسم پھر اس کے بعد تو جو بھی بنا بنانے لگا میں اس خیال میں گم تھا کہ کھو گیا ہوں کہیں کہ دست غیب کوئی راستہ بنانے لگا مجھے لگا کہ یہ دنیا نئی نہیں بنتی سو اہتمام سے مصرعہ نیا ...
جو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیں میں سمجھتا ہوں اچھی نیند نہیں آدھی بستی کو جاگنا ہوگا جتنی آنکھیں ہیں اتنی نیند نہیں موت سے کیوں ڈرا رہے ہو مجھے یہ کوئی میری پہلی نیند نہیں آنکھیں اچھی ہیں اس ستارے پر اس ستارے پہ اچھی نیند نہیں ایک دن اس نے کہہ دیا مجھ سے میں تمہاری ہوں میری نیند ...