شاعری

تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھا

تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھا میں تمہیں شعر سنانے کے لئے آتا تھا پھر مصنف نے بلا وجہ مجھے مار دیا میں کہانی میں ہنسانے کے لئے آتا تھا رفتہ رفتہ مجھے معلوم ہوا دھیان اس کا سانپ تھا اور خزانے کے لئے آتا تھا میرے بچوں کو یقیں کون دلائے کہ یہاں چاند جھیلوں میں نہانے کے لئے آتا ...

مزید پڑھیے

ضرورتوں کے سبب کیا سے کیا بنانے لگا

ضرورتوں کے سبب کیا سے کیا بنانے لگا دیا بنا کے میں خود ہی ہوا بنانے لگا میں پہلے پہلے بناتا رہا خیال کا جسم پھر اس کے بعد تو جو بھی بنا بنانے لگا میں اس خیال میں گم تھا کہ کھو گیا ہوں کہیں کہ دست غیب کوئی راستہ بنانے لگا مجھے لگا کہ یہ دنیا نئی نہیں بنتی سو اہتمام سے مصرعہ نیا ...

مزید پڑھیے

جو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیں

جو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیں میں سمجھتا ہوں اچھی نیند نہیں آدھی بستی کو جاگنا ہوگا جتنی آنکھیں ہیں اتنی نیند نہیں موت سے کیوں ڈرا رہے ہو مجھے یہ کوئی میری پہلی نیند نہیں آنکھیں اچھی ہیں اس ستارے پر اس ستارے پہ اچھی نیند نہیں ایک دن اس نے کہہ دیا مجھ سے میں تمہاری ہوں میری نیند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4382 سے 5858