شاعری

زندگی اور گھر کا نقشہ ایک جیسا ہو رہا ہے

زندگی اور گھر کا نقشہ ایک جیسا ہو رہا ہے کمرے بڑھتے جا رہے ہیں صحن چھوٹا ہو رہا ہے غم نے ہم کو آ لیا تو اتنی حیرت کیوں ہے دل کو میں نے پہلے کہہ دیا تھا اپنا پیچھا ہو رہا ہے لوگ مرتے جا رہے ہیں دو طرف سے اور افسوس زندگی کے نام پر یہ سارا جھگڑا ہو رہا ہے عشق ایسا مختلف بھی تجربہ ...

مزید پڑھیے

جدھر بھی دیکھیے ہر سو ہمیں اغیار ملتے ہیں

جدھر بھی دیکھیے ہر سو ہمیں اغیار ملتے ہیں جہاں پر ہم قدم رکھیں وہیں پر خار ملتے ہیں سناؤں ماجرائے غم کسے اس غم کے عالم میں کہ اس نگری کے باسی جان سے بیزار ملتے ہیں ہزاروں ساتھ دیتے ہیں خوشی کے وقت میں پیہم کہ جب قسمت بگڑتی ہے کہاں پھر یار ملتے ہیں خزاں نے کر دیا پامال یارب گلشن ...

مزید پڑھیے

جانے ایسی ٹھان کر بیٹھا ہے کیا میرے لئے

جانے ایسی ٹھان کر بیٹھا ہے کیا میرے لئے آج مانگے جا رہا ہے وہ دعا میرے لئے مضطرب دل کو مرے آرام آ ہی جائے گا کیجئے تجویز کوئی تو دوا میرے لئے میری قسمت میں تو لکھے ہیں غموں کے سلسلے خوش رہا کر تو نہ اپنا دل دکھا میرے لئے حسن کی تابانیوں کو میں بھی تو دیکھوں ذرا تو رخ زیبا سے یہ ...

مزید پڑھیے

شب وعدہ اندھیرا چھا گیا کیا تم نہ آؤ گے

شب وعدہ اندھیرا چھا گیا کیا تم نہ آؤ گے فلک پر چاند بھی کجلا گیا کیا تم نہ آؤ گے تمہارا ہجر آفت ڈھا گیا کیا تم نہ آؤ گے ہمارا دل بہت گھبرا گیا کیا تم نہ آؤ گے چمن میں ہر طرف گلہائے رنگیں مسکرا اٹھے بہاروں کا زمانہ آ گیا کیا تم نہ آؤ گے ہماری جان پر بن آتی ہے دور محبت میں جنون دل ...

مزید پڑھیے

نام وہ میرا پکارے جا رہا تھا میں کہاں تھا

نام وہ میرا پکارے جا رہا تھا میں کہاں تھا حادثہ یہ خوب صورت کب ہوا تھا میں کہاں تھا ڈھونڈھتا میں پھر رہا تھا جس کو سارے شہر بھر میں وہ تو میرے رو بہ رو بیٹھا ہوا تھا میں کہاں تھا میری بازی کو پلٹنے کے لئے تیار تھے سب سامنے میرے یہ سب کچھ ہو رہا تھا میں کہاں تھا آج وعدے سے مکرتا ...

مزید پڑھیے

حسیں لمحے گزر گئے یارو

حسیں لمحے گزر گئے یارو خواب سارے بکھر گئے یارو میں تو تنہا سا رہ رہا تھا مگر کہ وہ دل میں اتر گئے یارو میری منزل بنا وہی رستہ وہ جدھر سے گزر گئے یارو اب تو جینے سے خوف آتا ہے جانے کیا دل پہ کر گئے یارو وہ ہی گھبرا رہا تھا ملنے سے ہم تو شام و سحر گئے یارو آنسو اعجازؔ کے نہ تھمتے ...

مزید پڑھیے

دیدنی تھی شکستگی دل کی

چاہے جس طور بیاں کیجئے افسانۂ درد جسم کو خوف بہت جان کو اندیشے تھے چاہے جس طور رقم کیجے گراں جانیٔ دل خوں میں ہنگامہ بہت راہ میں ویرانے تھے لاکھ چاہا دل مضطر کی کشاکش سے سوا رقص بے پروہ و بے باک کا آغاز کروں خون دل اشک کروں اشک گہر تاب کروں پس دیوار قفس سینۂ دل چاک کروں لاکھ چاہا ...

مزید پڑھیے

دیوانگی

بہت کچھ چاہتا تھا میں ہمیشہ چاہتا تھا میں کہ دنیا خوب صورت ہو کہ جیسی پیار کرتے وقت ہوتی ہے چاہتا تھا شام ہوتے ہی اتر آئے فلک سے چاند بچوں کی ہتھیلی میں کہ شب تاریک ہو جتنی مگر نم ہو کھنک ہو اور پورب کی ہوائیں سبک رفتار گزریں چھتوں پر اوس ہو اور آنگنوں میں کہکشاں اترے ہمیشہ چاہتا ...

مزید پڑھیے

مرحلہ

نہ اس کے عشق کے کام آ سکا میں نہ اپنی آگ کو بھرما سکا میں نہ شور آرزو نے راہ پائی نہ درد بے خودی تھی نے رسائی زمانہ اپنے محور پر رواں تھا محض ایک آگ تھی جلنے میں کیا تھا خدایا کس طرح سر ہو سکے گی دل و دیدہ کی یہ پر داغ محفل

مزید پڑھیے

ماورا

بیسویں صدی کے آخری برسوں میں ایک گہراتی ہوئی شام کو جب پرندوں اور پتوں کا رنگ سیاہ ہو چکا تھا اور دکھ کا رنگ ہر رنگ پر غالب تھا ماں ٹوٹ چکی تھی محبوبہ روٹھ چکی تھی ہفتہ وار تعطیل کی فراغت سے مطمئن سرشاری کے ایک لمحے کو بے قرار شاعر لکھنے بیٹھا گرد و پیش کی دنیا نہایت آہستگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4381 سے 5858