شاعری

مدتوں کے بعد جب پہنچا وہ اپنے گاؤں میں

مدتوں کے بعد جب پہنچا وہ اپنے گاؤں میں جھریاں چہرے پہ تھیں اور آبلے تھے پاؤں میں اب تو شاید گر گیا ہوگا وہ پیپل کا درخت بچپنے میں ہم ملا کرتے تھے جس کی چھاؤں میں کون آئے گا مری دہلیز پہ برسوں کے بعد آج ہم پھر کھو گئے کوے کے کاؤں کاؤں میں تاکہ مجھ پہ شہر کی عریانیاں غالب نہ ...

مزید پڑھیے

وصل

سحر کے وقت کنواری زمین شبنم میں نہا کے لیٹی ہے وہ سبز چادر گل تاب عارض مہتاب خمار خواب کا عالم وہ انتظار کا عالم کہ دور دیس سے جیسے کبھی تو آئے گا وہ دور دیس سے سورج کا دیوتا آیا اور اپنی تیز نگاہوں سے گدگدی کرتا وہ جوف الارض کے نصف النہار پر پہنچا زمیں پہ خوف کی اک زرد لہر سی ...

مزید پڑھیے

وقت

یہ ننھی سی گڑیا جسے دو برس ہو گئے ہیں میں جاپان سے لے کر آیا یہ رقاصہ رنگین کپڑوں میں ملبوس اسی ایک انداز سے دو برس سے کھڑی ہے نہ پلو ہی سرکا نہ ہاتھوں سے رومال رنگیں ہی چھوٹا نہ سر سے یہ تاج سرفرازی و کج کلاہی ہٹا اس کا ویسا ہی معصوم چہرہ وہی زیر لب مسکراہٹ وہی قوس ابرو وہی چشم ...

مزید پڑھیے

عورت

تو نے میرے دکھ کی خاطر کتنے رنج سہے اپنی گود میں تو نے مجھ کو اپنے لہو کی چاندنی بخشی میں اک چاند بنا جس نے دھرتی سے یہ گھور بھیانک اندھیاروں کا خوف مٹایا جب تو زینت ھجلہ بنی تو نے اپنے خون کی آتش مجھ کو بخشی میں اک سورج بن کر چمکا جس کی دھوپ میں میری روح کا قیدی شاہیں ناگ کے پھندے ...

مزید پڑھیے

سروش

یہ سمندر موج در موج سلاسل ہلکے گہرے سبز نیلے رنگ جن پر جا بہ جا چاندی کے دھبے اس کنارے پر گلابی رنگ میں ڈوبا ہوا اک گول چہرہ پھیلتے پانی میں اپنے آتشیں ہونٹوں کی سرخی گھولتا جائے میں اک سونے کی کشتی میں سوار ان حسیں رنگوں میں مدہوش اس کنارے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں دور سطح آب پر ...

مزید پڑھیے

گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھا

گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھا ایک رستے سے مجھے پیار ہوا کرتا تھا ان دنوں وہ بھی سمجھتا تھا حقیقت مجھ کو ان دنوں میں بھی اداکار ہوا کرتا تھا ان دنوں غم بھی زیادہ نہیں ہوتے تھے مجھے میرا کمرہ بھی ہوا دار ہوا کرتا تھا میں کہ اظہار پہ شرمندہ نہیں تھا جب تک اشک چہرے پہ نمودار ...

مزید پڑھیے

اس لئے تیز بھاگتا ہوں میں

اس لئے تیز بھاگتا ہوں میں اپنے پیچھے پڑا ہوا ہوں میں گھپ اندھیرے میں روشنی کی طرح اس کی آنکھوں سے گر رہا ہوں میں مجھ کو غم تو نہیں جدائی کا یہ مروت میں رو رہا ہوں میں یاد کرنا بھی اس کو چھوڑ دیا آخری چال چل چکا ہوں میں میری باتیں مذاق میں مت لے زندگی تجھ سے کچھ بڑا ہوں میں مجھ ...

مزید پڑھیے

خمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھا

خمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھا ہمارے ذہن میں کچھ اور تھا وصال نہ تھا تری جدائی میں مہتاب دیکھتے ہم کیا ہمارا مسئلہ تو تھا ترا جمال نہ تھا پھر ایک دن اسے سب لوگ دیکھنے پہنچے پلٹ کے آئے تو لب پر کوئی سوال نہ تھا کمال یہ ہے ترے ہجر میں سلامت ہوں ترے فراق میں مرنا کوئی کمال نہ ...

مزید پڑھیے

یہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیں

یہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیں ہم کو وہ شخص بلاتا ہے تو ہم بولتے ہیں کون ہستی کا گزر میرے خرابے سے ہوا کس تفاخر سے یہاں نقش قدم بولتے ہیں دونوں جانب وہ انا تھی کہ یہ نوبت آئی اب ہمیں یار بلاتے ہیں نہ ہم بولتے ہیں یہ جو ہر بات پہ کر دیتے ہیں تقریر شروع ہم تو سنتے تھے کبھی ...

مزید پڑھیے

تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھا

تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھا ہم نے دیوار اٹھا دی ہے جہاں رستہ تھا بس یہی سوچ کے جنگل کی طرف آ نکلے صاحب خواب بتاتا ہے یہاں رستہ تھا ہم ہی تقلید پرستوں سے الگ تھے ورنہ جس جگہ بھیڑ تھی لوگوں کی وہاں رستہ تھا میں ترے شہر تصور سے ابھی لوٹا ہوں پیڑ سرسبز تھے خوشبو تھی جواں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4380 سے 5858