شاعری

نظر

نظر نظر کا فریب ہر سو اٹھے تو صحرا پہ پھیل جائے جھکے تو اک گہری جھیل بادل صفت یہ برکھا کی ایک رم جھم جو پیار ہو تو یہ چاندنی ہے نظر نظر کا فریب لیکن نظر حقیقت نظر جھپکنے میں تخت بلقیس سامنے ہو نظر کے جادو سے جسم پتھر نظر کے پر تاب نور سے کوہ طور سینا بھی ریزہ ریزہ نظر نظر کا ...

مزید پڑھیے

کتبہ

کل جو قبرستان سے لوٹا تو تنہائی کا اک بوجھ اٹھا کر لایا ایسے لگتا تھا کہ میں بجھتا دیا ہوں اور سب لوگ تماشائی ہیں منتظر ہیں کہ مرے بجھنے کا منظر دیکھیں ایسے لگتا تھا کہ ہر گام پر کھلتے دہانے ہیں مرے جسم کو آغوش میں لینے کے لیے زندگی دور کھڑی ہنستی رہی قہقہوں کا اک سمندر میری جانب ...

مزید پڑھیے

محشر

دل وحشی جنوں کی کون سی منزل تھی کل شب جہاں باہم ہوئے قزاق و دل بر چلے خنجر گلے پر آستیں پر دل و دامن پہ دستار و جبیں پر عجب ایک شور تھا محشر بپا تھا بہت آہ و فغاں اندوہ جانی ہزاروں زخم اور ایک سخت جانی نہ جانے شدت یلغار کیا تھی نہیں معلوم کیا مدت رہی کشت نگاراں کی کھلی جب آنکھ ...

مزید پڑھیے

شہر آشوب

جن دنوں میں اپنی تنہائی کا نوحہ لکھ رہا تھا بستیاں آباد تھیں رونق بھری تھی شام اور جاڑا گلابی تازہ تازہ شہر میں داخل ہوا تھا جن دنوں میں پا پیادہ اور پھر صدا زباں میں سوز ہائے اندروں کے قصۂ پارینہ کی تفصیل میں تعبیر میں الجھا ہوا تھا بھیڑیے آزاد تھے اور ایک قاتل راگ بجاتا جا رہا ...

مزید پڑھیے

المیہ

میری شورش جدا آنکھوں نے مجھ سے یوں کہا کل شب یہ دھیمی آنچ کا جلنا تجھے دیوانہ کر دے گا میں کیا کرتا کہاں جاتا کہ حائل تھا مرے سینہ میں اک محبوس سناٹا تعین کون کرتا ہم کہاں پر خیمہ زن ہیں مسلط ہے سروں پر کون سا منحوس سایا اور ایسے میں تلاطم روز و شب تیری لگن کا جان لیوا ہے بڑے ہی جاں ...

مزید پڑھیے

دل پر خوں

دل بہت دکھتا ہے ہر بات پہ دل دکھتا ہے صبح نوخیز پہ سورج کی جہاں بانی پہ شام دل دوز پہ انجام گل اندامی پہ عکس موجود پہ انوار رخ زیبا پہ نقش موہوم پہ اخف دل فردا پہ بست افلاک پہ افسانۂ رعنائی پہ شرۂ نیرنگیٔ ہستی و زلیخائی پہ رات کے سوز پہ شاموں کے مہک جانے پہ حدت شوق میں کلیوں کے چٹخ ...

مزید پڑھیے

بساط رقص

مجھے لکھنا تھا سرشاری مجھے لکھنا تھا دل داری مجھے لکھنا تھا اپنا حلف نامہ اور بیان استغاثہ بادشاہ وقت کے مغرور ایوان عدالت میں امڈتی خلق کی موجودگی میں واردات قتل خوباں کے حقائق اور بیان خلق برہم میں قاصد تھا غلاموں کا فرستادہ مرے ہونے میں مضمر تھی خرابی جملہ امکانات مہلک اک ...

مزید پڑھیے

دست تہہ سنگ

شرق سے غرب تک عرش سے فرش تک یا کراں تا کراں ایک سناٹا پھیلا ہوا میری بیکل جبیں کے طلسمات سے تیری بے چین بانہوں کے الہام تک تشنہ ہونٹوں سے ہلچل بھرے جام تک ان کی آنکھوں کے روشن دیوں سے مری ارغوانی گھنی شام تک یا کراں تا کراں ایک سناٹا پھیلا ہوا کہکشاں بجھ گئی راستے میں کہیں رنگ ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا روگ نہ پال

تنہائی کا روگ نہ پال گھر سے باہر پاؤں نکال جن میں ہو زہریلا پن ایسی باتیں ہنس کر ٹال شہر میں وحشی آئے ہیں چل جنگل میں ڈیرا ڈال اندر سے ہیں بکھرے بکھرے اور باہر سے سب خوش حال آنکھیں سب کی فکر زدہ کیسے بیتے گا یہ سال طالبؔ پیاس بجھے کیسے ایک ندی اور سو گھڑیال

مزید پڑھیے

خود کو جب لگ گئی نظر اپنی

خود کو جب لگ گئی نظر اپنی زندگی بن گئی کھنڈر اپنی جب بھی سورج غروب ہوتا ہے یاد آتی ہے دوپہر اپنی اس کا قصہ بھی اب طویل نہیں ہے کہانی بھی مختصر اپنی ساتھ ہوتا ہے جب بھی غم اس کا مجھ کو ہوتی نہیں خبر اپنی کوئی مبہم سا نقش پا بھی نہیں سونی سونی ہے رہ گزر اپنی ہوں تو اپنوں کی بھیڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4379 سے 5858