شاعری

اجنبی شہر

وہ پیڑ اب کٹ گیا ہے جس کے تلے جوانی کے گرم لمحوں کو ٹھنڈے سائے ملے جو اک موڑ کا نشاں تھا جہاں سے ہم اک نئی جہت کو چلے تھے اب وہ نشان بھی مٹ گیا وہاں کولتار کی اک سڑک ہے جو گرمیوں میں پگھلی ہوئی سی رہتی ہے آدمی بھی پگھل رہا ہے وہاں پر اب موٹروں کا دریا سا بہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ...

مزید پڑھیے

تکمیل

وہ تیرگی بھی عجیب تھی چاندنی کی ٹھنڈی گداز چادر سے سارا جنگل لپٹ رہا تھا گلوں کے صد رنگ دھندلے دھندلے سے جیسے اک سیم تن کے چہرے کے شوخ غازے پہ آنسوؤں کا غبار ہو پیڑ، منتظر اپنی نرم شاخوں کے ہاتھ پھیلائے اور کبھی کوئی شاخ چٹکی تو سائے نکلے ملوک پھولوں کو چوم کر چاندنی کی چادر پہ ...

مزید پڑھیے

ماں

تیری تربت تیری آوازوں کا گنبد ایک وظیفہ جس سے گنبد کا پوشیدہ در کھل جاتا بھول گیا تھا اس کی خاطر جانے کتنے ویرانے اور کتنے بسیرے میں نے چھانے پر وہ مقدس پاؤں کی مٹی نہ مل سکی جس کو اس مورت پر ملتا تو تیری ہی آواز نکلتی تیری چاند سی آوازوں پر پتھر جیسا بادل برس برس کر گھل جاتا تو ...

مزید پڑھیے

دھڑکنیں

(1) موسم سرما کی ٹھٹھراتی ہوئی شام حزیں چوٹیوں پر برف کی اک لاش سارے پیڑ ننگے ٹنڈ منڈ صحن میں وہ چرمراتے بھورے پتوں کا کفن ایک سناٹا وہ اک ٹہنی تڑخ کر گر پڑی اک سانس ٹوٹا (۲) میں نے کل ہی اپنے بوڑھے باپ کے ٹھنڈے بدن کو غسل دے کے اپنے ہاتھوں کالی دھرتی کے دہانے میں اتارا کہ یہی ہے ...

مزید پڑھیے

میں

میرا جسم یہ نیلا گہرا پھیلتا پانی اس کی لہر لہر سے ابھرا میرے لہو کا چاند اس کے اندر پھوٹے تیرے جسم سے نرم کنول اس کے افق سے نکلا چمکا میرا سوچ کا سورج کون کہے میں خاکی ہوں مٹی تو بوجھل بیٹھ گئی تو بیٹھ گئی میں پانی کا سنگیت میں بہتا دریا لہو کا چاند کنول کا جھولا سوچ کا سورج کیسے ...

مزید پڑھیے

سفر

یہ آگ پانی ہوا یہ مٹی انہیں سے میرا خمیر اٹھا انہیں میں تحلیل ہو نہ جاؤں یہ آگ جو نور کا لہو ہے جو میری رگ رگ میں موجزن ہے اسی کی لو میں یہ میں نے دیکھا مجھے پہاڑوں کی چوٹیوں سے بلند تر نور کی پر اسرار سی اک انگلی بلا رہی تھی میں اپنے بوجھل کثیف کپڑوں کو خون کی آگ میں جلا کر ہوا کے ...

مزید پڑھیے

لفظ

لفظ تقدیر مری حسن بھی لفظ میں ہے عشق بھی لفظ میں ہے عدل بھی لفظ میں ہے لفظ میں ساز ازل لفظ میں راز ابد لفظ معمورۂ خوشبو لفظ اک قوس قزح لفظ بادل کا خرام لفظ دریا کی روانی لفظ میں رفعت کوہ لفظ میں وسعت صحرا لفظ مٹی کا نمو لفظ میں چاند کا محور لفظ میں مطلع خورشید درخشاں لفظ نیرنگی ...

مزید پڑھیے

تہذیب

یہ آبا کی اقدار کا اک مرقع جسے وقت کی ایک یلغار پیہم مٹاتی رہی اور مرے جد و اب اس میں بد زیب سے رنگ بھرتے رہے اب یہ بد زیب بد رنگ نقشوں کی بھونڈی سی تصویر مجھ کو ملی ہے مجھے یہ سکھایا گیا ہے اسے اپنی آنکھوں پہ رکھوں یہی زینت حجلۂ زیست ہوگی مرے پیڑ کو ابر کی ننھی ننھی پھواروں نے ...

مزید پڑھیے

لمحہ

یہی ایک لمحہ ہے جب میرے پاؤں زمیں پر ہیں میرا وجود ایک سوندھی سی خوشبو لیے ہے یہی ایک لمحہ کہ میں ہوں یہی ایک لمحہ کہ تو ہے ترا خون سیال آتش ترے جسم کو ایک مٹی کے تاریک پتلے کو لو دے رہا ہے یہی ایک لمحہ ہے تخلیق تکرار تخلیق ورنہ بجھ جائے گی تیری آتش نکل جائے گی میری خوشبو

مزید پڑھیے

آنسو

وہ ایک آنسو گرا وہ دل کے اتھاہ ساگر میں اک صدف کا بھی منہ کھلا وہ آسمانوں کا سرمئی رنگ اس کے آنسو میں گھل کے رخسار کے شفق پر بہا کہیں دور جا کے دھرتی کے گہرے پاتال میں گرا ہزاروں آکاش رنگ آنسو ہوا کے تیز اور تند جھونکوں میں منتشر ہو گئے سمندر کی کوہ جیسی مہیب موجوں کے اندھے غاروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4378 سے 5858