شاعری

شام و سحر یوں چپکے چپکے رونا کیا

شام و سحر یوں چپکے چپکے رونا کیا کسی کی خاطر اتنا پاگل ہونا کیا ہوش گنوا دیتے ہیں تم سے مل کر لوگ کر دیتے ہو تم بھی جادو ٹونا کیا پیار وہ شے ہے جس کا کوئی مول نہیں اس کے آگے چاندی کیا ہے سونا کیا جب جی چاہا تم نے اس کو توڑ دیا جب ہی بولو دل تھا میرا کھلونا کیا فیضؔ یتیم و بیکس سے ...

مزید پڑھیے

قدرت کا سرسبز بچھونا اچھا لگتا ہے

قدرت کا سرسبز بچھونا اچھا لگتا ہے کھلی فضا میں گھاس پہ سونا اچھا لگتا ہے شام ڈھلے جب شاخ پہ چڑیاں نغمے گاتی ہیں مجھ کو تیرے ساتھ میں ہونا اچھا لگتا ہے ہر ایک چیز جو اپنی جگہ پر سجی سجائی ہو خود ہی گھر کا کونا کونا اچھا لگتا ہے تم کیا جانو رہ رہ کیسے پاتے ہیں منزل تم کو تو بس خواب ...

مزید پڑھیے

کڑی تھی دھوپ سر چکرا رہا تھا

کڑی تھی دھوپ سر چکرا رہا تھا میں بھوکا تھا بہت گھبرا رہا تھا تمہارا شہر کیا تھا کیا بتاؤں تماشہ ہر کوئی دکھلا رہا تھا تھے اس کے ہاتھ میں کشکول لیکن وہ مہر و ماہ کو شرما رہا تھا انا کا سانپ میں نے مار ڈالا بہت نقصان یہ پہنچا رہا تھا امیر شہر سے یہ کون پوچھے ستم کیوں مفلسوں پر ...

مزید پڑھیے

کسی آسیب کا سایہ ہے اس پر لوگ کہتے ہیں

کسی آسیب کا سایہ ہے اس پر لوگ کہتے ہیں پڑا رہتا ہے وہ حجرے کے اندر لوگ کہتے ہیں مری بستی میں اک بڑھیا ہے جو سچ مچ کی ڈائن ہے وہ کھا جاتی ہے بچوں کو پکڑ کر لوگ کہتے ہیں ہر اک رشتہ یہاں قائم ہے بس مطلب پرستی پر زمانے میں یہی رائج ہے کلچر لوگ کہتے ہیں معزز شخصیت ہے شہر کا اب نامور ...

مزید پڑھیے

ہنسا تھا دو گھڑی برسوں مگر آنسو بہایا تھا

ہنسا تھا دو گھڑی برسوں مگر آنسو بہایا تھا میں جب چھوٹا تھا اک لڑکی سے میں نے دل لگایا تھا مرے پیروں کے نیچے کی زمیں بنجر تھی کچھ اتنی صبا نے ایک گل کتنے زمانے میں کھلایا تھا سلگتی دھوپ میں سوچو سفر کیسے کٹا ہوگا مری منزل تھی کیا اور تم نے کیا رستہ دکھایا تھا محبت آگ ہے ایسی جو ...

مزید پڑھیے

ہم کسی بات پر نہیں روتے

ہم کسی بات پر نہیں روتے اپنی اوقات پر نہیں روتے تم اگر ہوتے کربلا والے جنگ میں مات پر نہیں روتے صبح کو شام کی نہیں پروا دن بھی اب رات پر نہیں روتے زندگی ان پہ ناز کرتی ہے جو بھی حالات پر نہیں روتے ہجر کا جشن ہم منائیں کیا سرد جذبات پر نہیں روتے ان کا دل دل نہیں ہے پتھر ہے جو ...

مزید پڑھیے

زہر پر زہر چل نہیں سکتا

زہر پر زہر چل نہیں سکتا سانپ بچھو نگل نہیں سکتا تجربہ لاکھ کیجئے اس پر پھر بھی پتھر پگھل نہیں سکتا بھول بیٹھوں گا تجھ کو جیتے جی میں تو اتنا بدل نہیں سکتا غیر کی ٹانگ کھینچ کر بھائی کوئی آگے نکل نہیں سکتا اس کی مرضی اگر نہیں ہوگی گرنے والا سنبھل نہیں سکتا نوچ سکتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

مسائل سر اٹھائے چل رہے ہیں

مسائل سر اٹھائے چل رہے ہیں بھری برسات میں ہم جل رہے ہیں ہم ایسے سوختہ دل لوگ برسوں کسی کی آنکھ کا کاجل رہے ہیں ہجوم فصل گل ہے پھر بھی ہم لوگ ابھی کانٹوں پہ جیسے چل رہے ہیں نہ جانے کتنے شیشے کے مکاں میں ابھی فرہاد و مجنوں پل رہے ہیں تمناؤں کی منزل تک بہت سے ہماری راہ میں مقتل ...

مزید پڑھیے

یوں تری یاد میں کھو گئے

یوں تری یاد میں کھو گئے ہم تھے کیا اور کیا ہو گئے اک نئی صبح کا خواب ہم دیکھتے دیکھتے سو گئے شہد کی فصل سے کیا گلہ زہر تو آپ ہم بو گئے آخر شب مرے اشک غم داغ قلب و جگر دھو گئے کتنے فاخرؔ مرے سامنے کیا سے کیا کیا سے کیا ہو گئے

مزید پڑھیے

زمانہ روز جسے یوں ہی سنگسار کرے

زمانہ روز جسے یوں ہی سنگسار کرے وہ اپنے زخم کہاں تک بھلا شمار کرے کوئی بتائے کہاں تک کوئی چمن زادہ چمن کو اپنا لہو دے کے لالہ زار کرے وہ جس نے صدیوں بہاروں کے رنگ دیکھے ہوں خزاں سے اپنے کو وہ کیسے ہم کنار کرے جو گھر سے نکلا ہو سچ بولنے کی نیت سے قدم قدم پہ وہ اب انتظار دار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4331 سے 5858