تم تو یوں ہی ہوئے ہو افسردہ
تم تو یوں ہی ہوئے ہو افسردہ آئنے داغدار ہوتے ہیں میں ذرا عاجزی میں رہتا ہوں لوگ سر پر سوار ہوتے ہیں
تم تو یوں ہی ہوئے ہو افسردہ آئنے داغدار ہوتے ہیں میں ذرا عاجزی میں رہتا ہوں لوگ سر پر سوار ہوتے ہیں
جنہیں اک دوسرے کی تھی ضرورت وہ سب اک دوسرے کے ہو گئے ہیں کسی کا جسم نیلا پڑ گیا ہے کسی کے ہاتھ پیلے ہو گئے ہیں
باغ تھا پھول تھے محبت تھی یاد ہے چودہ فروری کے دن اپنے دن تو گزار بیٹھا ہوں چاہئے اب مجھے کسی کے دن
تو نے کبھی بھی آنسو بہا کر نہیں دیکھا نمناک نگاہوں سے منا کر نہیں دیکھا غیروں نے کبھی ہاتھ ملا کر نہیں دیکھا اپنوں نے بھی سینے سے لگا کر نہیں دیکھا نظروں میں خیالوں میں سمایا تھا بہت وہ ہر چند اسے دل سے لگا کر نہیں دیکھا میں جانتا تھا رہتی نہ ہستیٔ سمندر میں نے دو کناروں کو ملا ...
مجھے رنگوں سے محبت تھی زندگی کے کینوس پر میں نئے نقش و نگار بنانا چاہتا تھا حسن کی حشر سامانیاں پینٹ کرنے کی خواہش میرے لہو میں سرسراتی تھی الھڑ جسموں کے زاویے میرے مو قلم کو اپنی جانب کھینچتے تھے آنکھوں کی گہرائیوں میں بہتے ہوئے خط مجھے بیتاب کرتے تھے محبت کی نظموں کی تخلیق ...
مدار وقت سے اک جرعۂ نایاب لیتے ہیں یوں ہی جیتے چلے جاتے ہیں بس لمحوں کی دھڑکن میں خزاں کا گیت سنتے ہیں بہار زندگانی میں خمار رائیگانی میں ہمارے پاؤں رستے ماپتے ہیں شہر و صحرا کے مگر منزل نہیں ملتی سفر تو جاری رہتا ہے پھر آخر ایک دن جب وقت باگیں کھینچ لیتا ہے تو کھلتا ہے اسی بہتے ...
مجھ سے ملو تم باتوں کی چائے پر کہانی کے پیچ میں بچپن کی شور کرتی ریل میں ماضی کے نکڑ پر افلاطونی عشق کی موج میں فرصت کے بے برکت دن یار کی جدائی والے پہر میں جوانی کی دھوپ میں غالب کے دیوان کی پر بہار سیڑھیوں پر لفظوں کے بازار میں نظموں کے اسرار میں مجھ سے ملو تم مجھ سے ملو تم اجنبی ...
مالی کو سازشوں پہ یوں اکسا دیا گیا کلیاں بنیں نہ پھول یہ سمجھا دیا گیا سچ بولنے کی جس نے جسارت کی دوستو پھانسی پہ ایک دن اسے لٹکا دیا گیا منزل مرے نصیب میں لکھ دی گئی مگر پر پیچ راستہ مجھے دکھلا دیا گیا خود کو سمجھ رہے ہیں وہی لوگ ہوشیار جن کو خرد کی راہ سے بھٹکا دیا گیا پھر ...
باقی ہے امید ذرا سی اے پردہ ور دید ذرا سی جن میں ذہانت تھی وہ کرتے کیوں اندھی تقلید ذرا سی میں بیمار دل بچ جاتا کر دیتے تاکید ذرا سی اور بھی تازہ دم کرتی ہے فن کو مرے تنقید ذرا سی دنیا بھر کے کفر پہ تنہا حاوی ہے توحید ذرا سی دل کی سنوں گا لیکن پہلے عقل کرے تائید ذرا سی فیضؔ جو ...
تولتا کیا مجھ کو کوئی جوہری میزان میں میں تھا میرا اور پڑا تھا کوئلے کی کان میں تم سے تو ہوتا نہیں ہے اعتراف فن مرا چند جملے میں ہی کہتا ہوں تمہاری شان میں برسر پیکار اس کو دیکھ کر سب شاد تھے جا لگا ساحل سے وہ تنکا مگر طوفان میں سج رہی ہیں پھر سیاسی منڈیاں چاروں طرف دیکھنا ...