شاعری

بدل رہا ہے زمانہ تو میرے ٹھینگے سے

بدل رہا ہے زمانہ تو میرے ٹھینگے سے ہے میرا طور پرانا تو میرے ٹھینگے سے جو چار پیسے ہیں مٹھی میں بس وہ میرے ہیں ہے تیرے پاس خزانہ تو میرے ٹھینگے سے کبھی لکیر کا بنتا نہیں فقیر وہ شخص اسے نہ مانو سیانا تو میرے ٹھینگے سے مری کہانی حقیقت پہ منحصر ہے مگر تجھے لگے ہے فسانہ تو میرے ...

مزید پڑھیے

کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہے

کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہے کہ اس کے شہر سے ہو کر مجھے گزرنا ہے میں چپ نہیں ہوں کسی مصلحت کے پیش نظر میں جانتا ہوں کہاں اختلاف کرنا ہے ہمارے جسم سے پتھر بندھے ہوئے ہیں مگر سمندروں کی تہوں سے ہمیں ابھرنا ہے پھسل رہی ہے جوانی کی ریت مٹھی سے گزر رہے ہیں مرے دن انہیں گزرنا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ظلم کی راہ میں دیوار ہوا کرتے تھے

ظلم کی راہ میں دیوار ہوا کرتے تھے ہم کبھی عزم کے کہسار ہوا کرتے تھے شہر سنسان ہے ان چاند سے چہروں کے بغیر جو دریچوں سے نمودار ہوا کرتے تھے مجھ سے مل کر ہیں عجب عالم حیرانی میں جو مرے فن کے پرستار ہوا کرتے تھے زندگی کس قدر آسان ہوا کرتی تھی لوگ جب صاحب کردار ہوا کرتے تھے اس کی ...

مزید پڑھیے

مرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا

مرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا وہ مجھ سے پہلے ہی رستہ بدلنے والا تھا تجھے ہی جانے کی عجلت تھی اے مسافر من وگرنہ میں بھی ترے ساتھ چلنے والا تھا جہاں پہ قافلۂ سالار تھک کے بیٹھ گیا وہیں سے اک نیا رستہ نکلنے والا تھا نہیں تھی مجھ کو ضرورت کسی سہارے کی کہ میں تو آپ ہی گر کر ...

مزید پڑھیے

دعاؤں کے دیے جب جل رہے تھے

دعاؤں کے دیے جب جل رہے تھے مرے غم آنسوؤں میں ڈھل رہے تھے کسی نیکی کا سایہ تھا سروں پر جو لمحے آفتوں کے ٹل رہے تھے ہوا احساس یہ آدھی صدی بعد یہاں پر صرف رستے چل رہے تھے وطن کی عظمتوں کو ڈسنے والے وطن کی آستیں میں پل رہے تھے بہت نزدیک تھی منزل ہماری مگر سب راستے دلدل رہے ...

مزید پڑھیے

جذبات میں جو میرے مقابل کھڑے ہوئے

جذبات میں جو میرے مقابل کھڑے ہوئے احساس تب ہوا مرے بچے بڑے ہوئے دشمن کی زد سے اس کو بچا تو لیا مگر سینے میں میرے تیر ہیں اب تک گڑے ہوئے نایاب کس قدر ہیں تمہیں کچھ خبر نہیں ہم مل گئے جو راہ میں تم کو پڑے ہوئے اک عشق کو تو تاج محل سے ملا دوام اک عشق کی مثال وہ کچے گھڑے ہوئے تقدیر ...

مزید پڑھیے

نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا

نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا پرانے شہر بھی آباد رکھنا پڑی ہو پاؤں میں زنجیر پھر بھی ہمیشہ ذہن کو آزاد رکھنا کسی کی یاد جب شدت سے آئے بہت مشکل ہے خود کو یاد رکھنا دکھوں نے جڑ پکڑ لی میرے اندر ضروری تھا کوئی ہم زاد رکھنا خدایا شاخ پر کلیاں کھلانا کوئی پودا نہ بے اولاد ...

مزید پڑھیے

حال دل صرف تمہیں ہم نے سنانے کے لیے

حال دل صرف تمہیں ہم نے سنانے کے لیے کتنے الفاظ لکھے سارے زمانے کے لیے کھول رکھے ہیں دریچے اسی امید کے ساتھ لوٹ آئے گی ہوا دیپ جلانے کے لیے اس کا ملنا ہی مقدر میں نہیں تھا ورنہ ہم نے کیا کچھ نہیں کھویا اسے پانے کے لیے جانے کب آئے گا وہ میری محبت کا سفیر میرے ہر خواب کی تعبیر ...

مزید پڑھیے

ہوائیں گیت گاتی ہیں

ہوائیں گیت گاتی ہیں بدلتے موسموں کے انگنت قصے سناتی ہیں شجر سے زرد پتوں کو گرا کر مسکراتی ہیں ہوائیں گیت گاتی ہیں تھکے ہارے مسافر شام ڈھلتے ہی کسی صحرا میں جب اپنا پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو صحرا کی ہوائیں ہر مسافر کا سندیسہ لے کے آتی ہیں انہیں جا کر سناتی ہیں جو اپنے گھر کی چوکھٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4329 سے 5858