جوں ہی بام و در جاگے
جوں ہی بام و در جاگے بستیوں میں گھر جاگے انجم و قمر جاگے آسمان پر جاگے آپ ہی کے پہلو میں رات رات بھر جاگے ایسا زلزلہ آیا نیند سے شجر جاگے رت جگے سے ڈرتے ہیں نازکیؔ مگر جاگے
جوں ہی بام و در جاگے بستیوں میں گھر جاگے انجم و قمر جاگے آسمان پر جاگے آپ ہی کے پہلو میں رات رات بھر جاگے ایسا زلزلہ آیا نیند سے شجر جاگے رت جگے سے ڈرتے ہیں نازکیؔ مگر جاگے
گہری نیلی شام کا منظر لکھنا ہے تیری ہی زلفوں کا دفتر لکھنا ہے کئی دنوں سے بات نہیں کی اپنوں سے آج ضروری خط اپنے گھر لکھنا ہے شدت پر ہے ہرے بھرے پتوں کی پیاس صحرا صحرا خون سمندر لکھنا ہے پتھر پر ہم نام کسی کا لکھیں گے آئینے پر آذر آذر لکھنا ہے چہرہ روشن کھلے ہوئے صحرا کی ...
تیری مرضی نہ دے ثبات مجھے بے یقینی سے دے نجات مجھے ان کی نظریں اٹھیں مری جانب یاد ہے پہلی واردات مجھے ہر بلا سے رہے گا تو محفوظ اس سفر میں جو رکھ لے ساتھ مجھے روز ملتا ہوں میکدے میں اسے خوب پہچانتی ہے رات مجھے میں تجھے جانتا ہوں ہرجائی کیوں بتاتا ہے اپنی ذات مجھے مجھ کو دیتی ...
میرے چہرے کی سیاہی کا پتا دے کوئی آئنے میرے مقابل سے ہٹا دے کوئی دشت در دشت یہاں پھیل رہے ہیں سائے شہر گل ریز سے پھر مجھ کو صدا دے کوئی عالم یاس میں خوابوں میں اترنا تیرا جیسے بیمار کو جینے کی دعا دے کوئی مرگ انبوہ میں اب جشن کا پہلو بھی نہیں آسماں آخری منظر تو دکھا دے کوئی
بستی سے دور جا کے کوئی رو رہا ہے کیوں اور پوچھتا ہے شہر ترا سو رہا ہے کیوں رسوائیوں کا ڈر ہے نہ پرشش کا خوف ہے دامن سے اپنے داغ وفا دھو رہا ہے کیوں کیا لذت گناہ سے دل آشنا نہیں شرمندہ میرے حال پہ تو ہو رہا ہے کیوں وہ ان کی دل فریب دل آرائیاں کہاں ماضی کے خوف زار میں اب کھو رہا ہے ...
میں اک گاؤں کا شاعر ہوں کھلی فضاؤں کا شاعر ہوں دھوپ میں کھیتی پر لہراؤں نرم ہواؤں کا شاعر ہوں میرے دم سے ہیں یہ موسم دھوپ اور چھاؤں کا شاعر ہوں صحرا صحرا نام ہے میرا میں دریاؤں کا شاعر ہوں سورج میرا رستہ روکے میں کہ گھٹاؤں کا شاعر ہوں بہروں کی بستی کا گاہک نا بیناؤں کا شاعر ...
علم و ہنر سے قوم کو رغبت نہیں رہی اس پر شکایتیں کہ فضیلت نہیں رہی بدلے گا کیا نظام کب آئے گا انقلاب جب نوجواں لہو میں حرارت نہیں رہی مظلوم کو دلائے جو ہر ظلم سے نجات ایسی جہاں میں کوئی عدالت نہیں رہی سجدے میں جا کے مانگنا بیکار نعمتیں کچھ بھی کہو اسے یہ عبادت نہیں رہی فتوے لئے ...
عقل کی ایسی تابع داری ہے خواہشوں میں بھی انکساری ہے چل پڑی ہے اجل کی راہوں پر زندگی بے خبر سواری ہے دل سے اپنے جو ہار جاتے ہیں ساری دنیا انہیں سے ہاری ہے اس معیشت میں کامیابی کا راز کون کتنا بڑا جواری ہے دین سمجھے ہیں جس کو آپ فروغؔ شیخ جی کی دکان داری ہے
ہیں مری پرواز کے تیور نئے ساتھ میرے دیکھیے منظر نئے اک پرانے میکدے میں تشنگی ڈھونڈتی ہے ساقی و ساغر نئے بچپنے کا گھر نہ بھولے گا کبھی چاہے جتنے آپ کے ہوں گھر نئے کیجئے ہر علم سے آراستہ بچیوں کے ہیں یہی زیور نئے اک نئے فٹ پاتھ پر مزدور تھا مفلسی نے جب دیے بستر نئے اب ذرا ...
خوشی سے پھولیں نہ اہل صحرا ابھی کہاں سے بہار آئی ابھی تو پہنچا ہے آبلوں تک مرا مذاق برہنہ پائی ترے مفکر سمجھ نہ پائے مزاج تہذیب مصطفائی اصول جہد بقا کے بندے بلند ہے ذوق خود فنائی خلیل مست مے جنوں تھا مگر میں تم سے یہ پوچھتا ہوں رضائے حق کی چھری کے نیچے حیات آئی کی موت آئی جو ...