شاعری

عجیب رنگ سا چہروں پہ بے کسی کا ہے

عجیب رنگ سا چہروں پہ بے کسی کا ہے چلو سنبھل کے یہ عالم روا روی کا ہے کبھی نہ بات زمانے نے دل لگا کے سنی یہی تو خاص سبب میری بے دلی کا ہے سنا ہے لوگ وہاں مجھ سے خار کھاتے ہیں فسانہ عام جہاں میری بے بسی کا ہے

مزید پڑھیے

غم کی چادر اوڑھ کر سوئے تھے کیا

غم کی چادر اوڑھ کر سوئے تھے کیا رات بھر میرے لئے روئے تھے کیا چادر عصمت کے دھبے آپ نے رات پی کر صبح دم دھوئے تھے کیا میں نے پوچھا ان سے اک سادہ سوال خار میری راہ میں بوئے تھے کیا ڈھونڈتے پھرتے ہو خود کو نازکیؔ انہی گلیوں میں کبھی کھوئے تھے کیا

مزید پڑھیے

وہی میں ہوں وہی خالی مکاں ہے

وہی میں ہوں وہی خالی مکاں ہے مرے کمرے میں پورا آسماں ہے دیار خواب و چشم دل فگاراں جزیرہ نیند کا کیوں درمیاں ہے سکوت مرگ طاری ہر شجر پر یہ کیسا موسم تیغ و سناں ہے چمن افسردہ گل مرجھا گئے ہیں خزاں کی زد پہ سارا گلستاں ہے بھلا دی آپ نے بھی وہ کہانی محبت جس کے دم سے جاوداں ہے

مزید پڑھیے

تمہاری منزل کہیں نہیں ہے

بے بسی کا عذاب اداس رستوں پہ چلنے والو اداسیوں کا سفر مقدر ہے تم یہ رستے بدل بھی لو تو نشان منزل تمہاری آنکھوں کی تیرگی میں لپٹ کے بے نام ہو رہے گا یہ شہر یہ بستیاں یہ قریے بس ایک بے نام خوف کی زد میں آ گئے ہیں تمہاری آنکھوں میں کن خزاؤں کی زرد ویرانیاں بسی ہیں تمہارے ہونٹوں پہ ...

مزید پڑھیے

نتیجہ چاہیے ہر شے کا

مجھے نعروں سے رغبت ہے وہ میرے خون کی حدت کا باعث ہیں وہ میری زندگی کا جزو‌ لا ینفک ہزاروں سال سے میرے ارادوں حوصلوں اور ولولوں کی داستانوں میں نمایاں ہیں وہ میری ذات کے آئینہ خانے میں مسلسل رقص کرتے ہیں زمانے میری یادوں سے پھسل کر سامنے آئے تو میں اک دشت امکاں سے نکل کر مسکرا ...

مزید پڑھیے

اچار کا مرتبان

تمہاری امی نے اپنی عزت کو مرتبانوں میں بند کر کے مکاں کی چھت سے لٹکتے چھینکے میں رکھ دیا تھا تمہاری امی نے بارہا تم سے یہ کہا تھا ''اچار کچا ہے' تیل کی بو مٹی نہیں ہے ابھی نہ یہ مرتبان کھولو ہوا اگر برتنوں میں داخل ہوئی تو الی تمام پھانکوں کا ناس کر دے گی'' تم مگر سوچ میں پڑی ہو ''نہ ...

مزید پڑھیے

عجب سا ایک قصہ

مری آنکھوں کا ہر منظر اداسی کا دریدہ پیرہن ہے شہر کی گلیاں خموشی کا کفن پہنے پڑی ہیں چاندنی جیسے کس کی آنکھ کا یرقان ہو اور دور تک پھیلی چھتوں پر لیٹنے والوں کے چہروں پر برستا ہو چھتوں پر لیٹنے والوں کے چہرے زرد ہیں ٹھنڈی ہوا کے ایک جھونکے کو ترستے ہیں ادھر باہر بہت آہستگی سے خوف ...

مزید پڑھیے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا

انہونی بھی ہو جاتی ہے ہونی یوں ہی ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے اونچے نیچے ہو جاتے ہیں ڈوبنے والے دریا پار اتر جاتے ہیں اور تیرا اک سمندر کے ساحل پر ڈوب کے مر جاتے ہیں کچھ ایسے ہیں جن کی ہر خواہش حسرت میں ڈھل جاتی ہے کچھ ایسے ہیں جو اک خواہش حسرت ہی میں مر جاتے ہیں کس کے نصیب میں کیا ہے کون ...

مزید پڑھیے

رنگ خاکے میں نیا بھر دوں گا میں

رنگ خاکے میں نیا بھر دوں گا میں دشمنوں سے دوستی کر لوں گا میں پھر نہیں آنے کا خوابوں میں ترے شہر سے تیرے اگر جاؤں گا میں میں بہت ضدی ہوں لیکن جان من تو بلائے تو ضرور آؤں گا میں ہے تضادوں کا چمن میرا وجود فصل گل کا مرثیہ گاؤں گا میں کانچ کے الفاظ کاغذ پر نہ رکھ سنگ معنی بن کے ...

مزید پڑھیے

اتنی خراب صورت حالات بھی نہیں

اتنی خراب صورت حالات بھی نہیں جو کہہ نہ پاؤں ایسی کوئی بات بھی نہیں سورج کا گاؤں جس کی جٹاؤں میں تھی اسیر اے شہر بے چراغ یہ وہ رات بھی نہیں پھر آج اٹھ رہا ہے دھواں دل کے آس پاس تجدید آرزوئے ملاقات بھی نہیں ڈرتا ہوں اپنے سائے سے میں خود گزیدہ ہوں سینے میں کوئی شورش ظلمات بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4191 سے 5858