دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے
دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے کسی کے ہجر میں جینا گوارا کر لیا میں نے بت پیماں شکن سے انتقاماً ہی سہی لیکن ستم ہے وعدۂ ترک تمنا کر لیا میں نے نیاز عشق کو صورت نہ جب کوئی نظر آئی جنون بندگی میں خود کو سجدا کر لیا میں نے وفا نا آشنا اس سادگی کی داد دے مجھ کو سمجھ کر تیری ...