شاعری

دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے

دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے کسی کے ہجر میں جینا گوارا کر لیا میں نے بت پیماں شکن سے انتقاماً ہی سہی لیکن ستم ہے وعدۂ ترک تمنا کر لیا میں نے نیاز عشق کو صورت نہ جب کوئی نظر آئی جنون بندگی میں خود کو سجدا کر لیا میں نے وفا نا آشنا اس سادگی کی داد دے مجھ کو سمجھ کر تیری ...

مزید پڑھیے

جو رہا یوں ہی سلامت مرا جذب والہانہ

جو رہا یوں ہی سلامت مرا جذب والہانہ مجھے خود کرے گا سجدہ ترا سنگ آستانہ رہ حق کے حادثوں کا نہ سنا مجھے فسانہ تری رہبری غلط تھی کہ بہک گیا زمانہ میں جہان ہوش و عرفاں بہ لباس کافرانہ بہ حجاب پارسائی تو ہمہ شراب خانہ تجھے یاد ہے ستم گر کوئی اور بھی فسانہ وہی ذکر آب و دانہ وہی فکر ...

مزید پڑھیے

تمہارے قصر آزادی کے معماروں نے کیا پایا

تمہارے قصر آزادی کے معماروں نے کیا پایا جہاں بازوں کی بن آئی جہاں کاروں نے کیا پایا ستاروں سے شب غم کا تو دامن جگمگا اٹھا مگر آنسو بہا کر ہجر کے ماروں نے کیا پایا نقیب عہد زریں صرف اتنا مجھ کو بتلا دے طلوع صبح نو برحق مگر تاروں نے کیا پایا جنوں کی بات چھوڑو اس گئے گھر کا ٹھکانا ...

مزید پڑھیے

کبھی بے نیاز مخزن کبھی دشمن کنارا

کبھی بے نیاز مخزن کبھی دشمن کنارا کہیں تجھ کو لے نہ ڈوبے تری زندگی کا دھارا مری قوت نظر کا کئی رخ سے امتحاں ہے کبھی عذر لن ترانی کبھی دعوت نظارا غم عشق ہی نے کاٹی غم عشق کی مصیبت اسی موج نے ڈبویا اسی موج نے ابھارا ترے غم کی پردہ پوشی جو اسی کی مقتضی ہے تو قسم ہے تیرے غم کی مجھے ...

مزید پڑھیے

کوہسار کا خوگر ہے نہ پابند گلستاں

کوہسار کا خوگر ہے نہ پابند گلستاں آزاد ہے ہر قید مقامی سے مسلماں گھر کنج قفس کو بھی بنا لیتی ہے بلبل شاہیں کی نگاہوں میں نشیمن بھی ہے زنداں اللہ کے بندوں کی ہے دنیا ہی نرالی کانٹے کوئی بوتا ہے تو اگتے ہیں گلستاں کہہ دو یہ قیامت سے دبے پاؤں گزر جائے کچھ سوچ رہا ہے ابھی بھارت کا ...

مزید پڑھیے

بروز حشر مرے ساتھ دل لگی ہی تو ہے

بروز حشر مرے ساتھ دل لگی ہی تو ہے کہ جیسے بات کوئی آپ سے چھپی ہی تو ہے نہ چھیڑو بادہ کشو مے کدے میں واعظ کو بہک کے آ گیا بیچارہ آدمی ہی تو ہے قصور ہو گیا قدموں پہ لوٹ جانے کا برا نہ مانیئ سرکار بے خودی ہی تو ہے ریاض خلد کا اتنا بڑھا چڑھا کے بیاں کہ جیسے وہ مرے محبوب کی گلی ہی تو ...

مزید پڑھیے

کبھی یاد خدا کبھی عشق بتاں یوں ہی ساری عمر گنوا بیٹھا

کبھی یاد خدا کبھی عشق بتاں یوں ہی ساری عمر گنوا بیٹھا اب آخر عمر میں آ کے کھلا نہ تھی یہ سچی نہ تھا وہ سچا کبھی خواہش دنیا لے ڈوبی کبھی خوف خدا نے تنگ کیا اب آ کر بھید کھلا ہم پر نہ تھی یہ اچھی نہ تھا وہ اچھا سر پر گٹھری انگاروں کی اور خواہش پار اترنے کی آگے باریک سا نازک پل اور ...

مزید پڑھیے

تماشا پھر سر بازار کرنا

تماشا پھر سر بازار کرنا پھر اپنے عہد سے انکار کرنا یہی ہے مشغلہ کار جنوں میں بنانا پھر اسے مسمار کرنا فریب آرزو ہی زندگی ہے سرابوں میں سفر بے کار کرنا جسے پانے کی خواہش میں جئے تھے اسی کی ذات کا انکار کرنا جزیرے خواہشوں کی راہ میں ہیں مگر لازم سمندر پار کرنا جسے اک عمر کی ...

مزید پڑھیے

اب آ گئے ہو تو رفتگاں کو بھی یاد رکھنا

اب آ گئے ہو تو رفتگاں کو بھی یاد رکھنا بچھڑتے لمحوں کی داستاں کو بھی یاد رکھنا زمیں پہ اپنے قدم جما کر نہ بھول جانا سروں پہ ٹھہرے اس آسماں کو بھی یاد رکھنا ہوائے تشنہ کا چھین لینا مکین جاں کو مگر لرزتے ہوئے مکاں کو بھی یاد رکھنا سراب آخر مری ہی آنکھوں کا معجزہ ہے یقیں کی منزل ...

مزید پڑھیے

جانے والے کا نوحہ

مجھے جانے والے کا غم تو نہیں ہے کہ جانا مقدر ہے لیکن مجھے اس سے یہ پوچھنا ہے کہ پہلے سفر کی حکایات میں گر تہی دامنی ہے تو پھر کون سی منزلوں کی طلب میں یہ عزم سفر ہے یہ عزم سفر ہے تو وقت سفر پھر اداسی کی بے نور چادر لپیٹے نگاہوں میں ویرانیوں کو بسائے ہر اک آنے والے سے کیوں کہہ رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4193 سے 5858