شاعری

عروج درد تمنا ہے اب تو آ جاؤ

عروج درد تمنا ہے اب تو آ جاؤ ہمارا دل یہی کہتا ہے اب تو آ جاؤ نہیں ہے صحن گلستاں میں کوئی ہنگامہ ہجوم شوق تمنا ہے اب تو آ جاؤ کھلے ہیں پھول کئی آرزو کے گلشن میں بس انتظار تمہارا ہے اب تو آ جاؤ کبھی کبھی تو حسیں چاندنی بھی چبھتی ہے کرن کرن میں اندھیرا ہے اب تو آ جاؤ نہ جانے عمر ...

مزید پڑھیے

حوصلہ

نکل گئی ہوں زمیں کی حد سے فلک کی جانب رواں ہوئی ہوں میں مثل شعلہ ہوئی ہوں پھر بھی زمانہ سمجھا دھواں ہوئی ہوں چراغ خانہ چراغ محفل ہر اک جگہ میں عیاں ہوئی ہوں فنا کے کتبے بہت ہیں لیکن تری بقا کا نشاں ہوئی ہوں

مزید پڑھیے

یہ وقت زندگی کی ادائیں بھی لے گیا

یہ وقت زندگی کی ادائیں بھی لے گیا قصے کہانیوں کی سبھائیں بھی لے گیا اس نے تمام شہر کو گونگا بنا دیا میرے دہن سے میری صدائیں بھی لے گیا موسم لگا کے زخم گیا شاخ شاخ پر پیڑوں سے پھولوں والی ردائیں بھی لے گیا سورج نے ڈوبتے ہوئے ہم کو سزا یہ دی جسموں سے روشنی کی قبائیں بھی لے ...

مزید پڑھیے

جو بیٹھو سوچنے ہر زخم دل کسکتا ہے

جو بیٹھو سوچنے ہر زخم دل کسکتا ہے غزل کہو تو قلم سے لہو ٹپکتا ہے میں اب بھی روتا ہوں محرومیوں پہ بچپن کی کھلونے دیکھ کے دل آج بھی ہمکتا ہے فضا میں خوف ہوا بولنے نہیں دیتا زمیں پہ آ کے پرندہ بہت چہکتا ہے تمہارا لہجہ تو دریا ہے بہتے پانی کا یہ آگ بن کے سمندر میں کیوں بھڑکتا ...

مزید پڑھیے

خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے

خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے دنیا سے مل کے دیکھ لے اپنے حساب سے اس دن اندھیری گلیوں میں ہوگا طلوع دن جس روز دھوپ چھنیو گے تم آفتاب سے پی لوں ذرا سی آگ تخیل انڈیل کر کچھ دھوپ چھاننا ہے غزل کے نقاب سے خوشبو نے تیری رنگ کثافت اڑا دیا راحت ملی ہوا کو ذرا اس عذاب سے دل توڑنے کا ...

مزید پڑھیے

یہ ہم جو آئنے چمکا رہے ہیں

یہ ہم جو آئنے چمکا رہے ہیں کسی کھڑکی پہ کھلنے جا رہے ہیں ہماری نیند گھٹتی جا رہی ہے تمہارے خواب کس کو آ رہے ہیں تماشا ختم ہونے جا رہا ہے ہمارے سانپ ہم کو کھا رہے ہیں ہمارے پاؤں کی رسی سے پوچھو کہ ہم کیوں گردنیں کٹوا رہے ہیں پرانی دشمنی تازہ ہوئی ہے جو دریا دشت سے گھبرا رہے ...

مزید پڑھیے

چھانٹی کے چار لوگ ہیں جن سے کلام ہے

چھانٹی کے چار لوگ ہیں جن سے کلام ہے باقی حسد زدوں کو نمستے سلام ہے جا بزدلا ہمیں نہ دکھا دوستوں کے زخم ہم وہ فقیر ہیں جنہیں غیبت حرام ہے آنسو بھی ایک دشت کی بیعت کو آئے ہیں وہ دشت جس کے صبر کا دریا غلام ہے القصہ مختصر کہ مجھے نیند آ گئی مزدور کا وصال ابھی ناتمام ہے اچھے نسب کے ...

مزید پڑھیے

خدا سے عشق ہو اچھی دعا سلام نہ ہو

خدا سے عشق ہو اچھی دعا سلام نہ ہو کہ جیسے دشت کو بادل سے کوئی کام نہ ہو میں دوستی میں شریعت کا پاس رکھتا ہوں اگر یہ زخم لگانا مجھے حرام نہ ہو کھٹک رہا ہو کسی شخص کا دلاسا مجھے اور اس پہ ظلم کہ پانی کا اہتمام نہ ہو میں آسمان کی دعوت قبول کر لوں گا مگر زمیں کے سوا کوئی تام جھام نہ ...

مزید پڑھیے

کیوں مسافت میں نہ آئے یاد اپنا گھر مجھے

کیوں مسافت میں نہ آئے یاد اپنا گھر مجھے ٹھوکریں دینے لگے ہیں راہ کے پتھر مجھے کس کا یہ احساس جاگا دوپہر کی دھوپ میں ڈھونڈنے نکلا ہے ننگے پاؤں ننگے سر مجھے جس میں آسودہ رہا میں وہ تھا کاغذ کا مکاں ایک ہی جھونکا ہوا کا کر گیا بے گھر مجھے میں تو ان آلائشوں سے دور اک آئینہ تھا آ لگا ...

مزید پڑھیے

ہم بیٹھے ہیں آس لگائے

ہم بیٹھے ہیں آس لگائے اس کی مرضی آئے نہ آئے کیسا خواب اور نیند کہاں کی مدت ہو گئی آنکھ لگائے میرا پتا نہ دینا اس کو وہ جب مجھ کو ڈھونڈنے آئے اس کا برف سا چرنے من میں اک انجانی آگ لگائے جس رستے بھی جائیں محبت راہ میں بیٹھی گھات لگائے کون بھلا آزمائے کسی کو کون بھلا اب دیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4183 سے 5858