شاعری

میں معتبر ہوں عشق مرا معتبر نہیں

میں معتبر ہوں عشق مرا معتبر نہیں آنکھوں میں اشک غم نہیں نیزے پہ سر نہیں کچھ نقش رہ گئے ہیں بزرگوں کی شان کے اب شہر آرزو میں کسی کا بھی گھر نہیں ہم راہ چاند کے تو ستاروں کا ہے ہجوم سورج کے ساتھ کوئی شریک سفر نہیں بدلی ہوئی فضا ہے غزل کے مکان کی چنگیز خاں کے شہر میں غالبؔ کا گھر ...

مزید پڑھیے

تارے شمار کرتے ہیں رو رو کے رات بھر

تارے شمار کرتے ہیں رو رو کے رات بھر خیرات حسن دیجئے ہم کو ذکات بھر دیکھو ہمارا صبر کہ ہم نے نہیں پئے آنسو ہمارے پاس پڑے تھے فرات بھر شرمندہ ہو رہی ہیں وفاداریاں اگر زنبیل اعتبار میں کچھ ممکنات بھر رحمت جو تیری بخش دے ہم کو تو بخش دے پلے میں اپنے کچھ بھی نہیں ہے نجات بھر وہ ...

مزید پڑھیے

کبھی تو حق کی کوئی بات برملا کہئے

کبھی تو حق کی کوئی بات برملا کہئے برا برے کو بھلے کو سدا بھلا کہئے ہوا کا دیکھیے رخ کون کتنا بدلا ہے قصور کس کا ہے میرا کہ آپ کا کہئے بیاں کا فرق ہے ورنہ وہی ہے کیفیت بجھا بجھا نہ سہی دل جلا جلا کہئے تمہارے بعد نہ کی کوئی آرزو میں نے اگر ہو دیکھا کبھی دل کا در کھلا کہئے کوئی کمی ...

مزید پڑھیے

ہم بار بار شکوۂ تقدیر کیا کریں

ہم بار بار شکوۂ تقدیر کیا کریں ہوگی نہ کارگر کوئی تدبیر کیا کریں کاتب کو خود ہمارے مقدر پہ ہے ملال کیا کچھ پڑا ہے سہنا یہ تشہیر کیا کریں دیکھا ہے جب سے جھانک کے خود اپنے آپ کو اک مختلف سی مل گئی تصویر کیا کریں سپنے سہانے سب یہاں بکھرے ہیں ایک ایک اب خواب کچھ ہو خواب کی تعبیر کیا ...

مزید پڑھیے

تنہائی

اپنی تنہائی مجھے اچھی لگی میں نے چاہا ہے اسے اور پایا بھی اسے اپنے روز و شب میں اکثر ہے بسایا بھی اسے اسی نے دی ہیں مجھ کو ایسی خلوتیں جن میں رہ کر میں کبھی تنہا نہیں ساتھ میرے انگنت ایسے احساسات ہیں جن سے حاصل ہے مری تنہائیوں کو اک سکوں اک رفاقت غم گساری رہنمائی رہبری پا کے میں ...

مزید پڑھیے

مری حیات ابھی جس کے انتظار میں ہے

مری حیات ابھی جس کے انتظار میں ہے وہ لمحہ کس کے خدا جانے اختیار میں ہے یہ پھول کانٹے بہت ہی عزیز ہیں ہم کو ہمارے ماضی کی خوشبو اسی بہار میں ہیں کرے گا کیسے کوئی منزلوں کا اندازہ ابھی تو کارواں خود پردۂ غبار میں ہے نہ جانے کب یہ قفس زندگی کا ٹوٹے گا ابھی حیات مری درد کے حصار میں ...

مزید پڑھیے

مہاجر ہیں رہنے کو گھر مانگتے ہیں

مہاجر ہیں رہنے کو گھر مانگتے ہیں یہ کیا ہم سے اہل سفر مانگتے ہیں بہت پی چکے ہیں شفق کا لہو ہم نیا ایک جام سحر مانگتے ہیں ترا نقش پا گر نہیں ہے تو کیا غم حوادث مری رہ گزر مانگتے ہیں غنیمت ہیں ٹوٹے ہوئے آئنے بھی یہ پتھر تو دست ہنر مانگتے ہیں ہے زندہ قفس میں چمن کی تمنا عزائم مرے ...

مزید پڑھیے

کیوں فرق کئے بیٹھے ہو اس کا ہے سبب کیا

کیوں فرق کئے بیٹھے ہو اس کا ہے سبب کیا ہیں اصل میں سب ایک عجم کیا ہے عرب کیا ممکن ہو اگر تم سے تو کردار سنوارو کام آتا ہے محشر میں کوئی نام و نسب کیا تو نے نظر انداز کیا ہم کو ہمیشہ ہم نے تری محفل کو جو چھوڑا تو عجب کیا یہ موسم گل مانا کہ تسکیں کا سبب ہے ڈھاتا تمہیں موسم یہی اس دل ...

مزید پڑھیے

یہی سوچتے ہیں اکثر کہاں آ گئے خوشی میں

یہی سوچتے ہیں اکثر کہاں آ گئے خوشی میں کہ یہ دن گزر رہے ہیں جو حصار بے خودی میں یہ سفر ہے آرزو کا یہاں دھوپ‌ چھاؤں بھی ہے کبھی دل میں روشنی ہے کبھی دل ہے روشنی میں وہی دیں گے اب اجالا ترے قلب بے خبر کو جو چراغ جل اٹھے ہیں مری شام زندگی میں مجھے اعتبار الفت تمہیں ہے یقین ...

مزید پڑھیے

دانستہ کر کے ترک سفر رو پڑے ہیں ہم

دانستہ کر کے ترک سفر رو پڑے ہیں ہم کس کو ہمارے غم کی خبر رو پڑے ہیں ہم سمجھے تھے اہل بزم کہ ہم مسکرائیں گے یہ بھی ہے اک فریب نظر رو پڑے ہیں ہم ذکر غم حیات پھر اک بار چھڑ گیا محفل میں تیری بار دگر رو پڑے ہیں ہم آنکھوں کے سامنے وہی منزل ہے دار کی یاد آئی تیری راہ گزر رو پڑے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4182 سے 5858