شاعری

سبز موسم کی رفاقت اس کا کاروبار ہے

سبز موسم کی رفاقت اس کا کاروبار ہے پیڑ کب سوکھے ہوئے پتوں کا حصے دار ہے پھر مہاجن بانٹ لیں گے اپنی ساری کھیتیاں قرض کی فصلوں پہ جینا کس قدر دشوار ہے احتیاط و خوف والے ڈوبتے ہیں بیشتر جن کو ہے خود پر بھروسہ وہ ندی کے پار ہے مطمئن بیٹھے ہو تم نے یہ بھی سوچا ہے کبھی جس کا سایہ سر پہ ...

مزید پڑھیے

شہر کی فصیلوں پر زخم جگمگائیں گے

شہر کی فصیلوں پر زخم جگمگائیں گے یہ چراغ منزل ہیں راستہ بتائیں گے پیڑ ہم محبت کے دشت میں لگائیں گے بے مکاں پرندوں کو دھوپ سے بچائیں گے زہر جب بھی اگلو گے دوستی کے پردے میں پتھروں کے لہجے میں ہم بھی گنگنائیں‌ گے جنگلوں کی جھرنوں کی کاغذی یہ تصویریں گھر کے بند کمروں میں کب تلک ...

مزید پڑھیے

جب بھی ملا وہ ٹوٹ کے ہم سے ملا تو ہے

جب بھی ملا وہ ٹوٹ کے ہم سے ملا تو ہے ظاہر ہے اس خلوص میں کچھ مدعا تو ہے اس کو نیا مزاج نیا ذہن چاہیے بچہ زباں چلاتا نہیں سوچتا تو ہے کیا منصفی ہے آپ کی خود دیکھ لیجئے انصاف شہر شہر تماشا بنا تو ہے دھبے لہو کے ہم کو بتا دیں گے راستہ شاید کسی کے پاؤں میں کانٹا چبھا تو ہے منزل کی ...

مزید پڑھیے

جنگ میں جائے گا اب میرا ہی سر جان گیا

جنگ میں جائے گا اب میرا ہی سر جان گیا اور ہوگا نہ کوئی سینہ سپر جان گیا مجھ شناور کو ڈبو سکتے نہیں دونوں حریف میں بھی طوفان کا دریا کا ہنر جان گیا اونچی پرواز کی ہمت بھی تو کر لے کرگس لاکھ شاہین کا انداز سفر جان گیا آج تلوار ہوئی جاتی ہیں شاخیں اس کی جنگ ہونی ہے ہواؤں سے شجر جان ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کتنے لہجے اور کتنے رنگ بدلے گا

نہ جانے کتنے لہجے اور کتنے رنگ بدلے گا وہ اپنے حق میں ہی سارے اصول جنگ بدلے گا خلا میں تیرتے مسکن رہائش کے لیے ہوں گے یہ مستقبل مرا تہذیب خشت و سنگ بدلے گا در و دیوار کیا جانیں کھلا پن آسمانوں کا کشادہ دل وہی ہوگا جو ذہن تنگ بدلے گا بڑھائے گا وہ اپنے قد کو بانسوں پر کھڑے ہو ...

مزید پڑھیے

کون ہوں میں

سوچتی ہوں کون ہوں میں نام بتلا دو مرا تم بھول جاتی ہوں کبھی خود کو بھٹک کر راستے سے لوٹتی ہوں جیسے رہ جائے کوئی شے بے سبب ہی ڈھونڈھتی ہوں جانے کس کا ایک چہرہ جس کے ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا ہے نام میرا ڈھونڈھتی ہوں آج بھی میں ذات اپنی نام اپنا

مزید پڑھیے

جن خواہشوں کو دیکھتی رہتی تھی خواب میں

جن خواہشوں کو دیکھتی رہتی تھی خواب میں اب لکھ رہی ہوں ان کو حقیقت کے باب میں اک جھیل کے کنارے پرندوں کے درمیاں سورج کو ہوتے دیکھا تھا تحلیل آب میں خوابوں پر اختیار نہ یادوں پہ زور ہے کب زندگی گزاری ہے اپنے حساب میں اک ہاتھ اس کا جال پہ پتوار ایک میں اور ڈوبتا وجود مرا سیل آب ...

مزید پڑھیے

نہیں سمجھی تھی جو سمجھا رہی ہوں

نہیں سمجھی تھی جو سمجھا رہی ہوں اب الجھی ہوں تو کھلتی جا رہی ہوں بہت گہری ہے اس کی خامشی بھی میں اپنے قد کو چھوٹا پا رہی ہوں امنڈ آیا ہے شور اوروں کے گھر سے دریچے کھول کے پچھتا رہی ہوں ہجوم اتنا کہ چہرے بھول جاؤں بساط ذات کو پھیلا رہی ہوں یہ منظر پوچھتے ہیں مجھ سے اکثر کہاں سے ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں اس سے کہ جو بات سمجھتا ہی نہیں

کیا کہوں اس سے کہ جو بات سمجھتا ہی نہیں وہ تو ملنے کو ملاقات سمجھتا ہی نہیں ہم نے دیکھا ہے فقط خواب کھلی آنکھوں سے خواب تھی وصل کی وہ رات سمجھتا ہی نہیں میں نے پہنچایا اسے جیت کے ہر خانے میں میری بازی تھی مری مات سمجھتا ہی نہیں رات پروائی نے اس کو بھی جگایا ہوگا رات کیوں کٹ نہ ...

مزید پڑھیے

یاروں کو کیا ڈھونڈ رہے ہو وقت کی آنکھ مچولی میں

یاروں کو کیا ڈھونڈ رہے ہو وقت کی آنکھ مچولی میں شہر میں وہ تو بٹے ہوئے ہیں اپنی اپنی ٹولی میں شاہوں جیسا کچھ بھی نہیں ہے گنبد طاق نہ محرابیں تاج محل کا عکس نہ ڈھونڈو میری شکستہ کھولی میں ڈھلتے ڈھلتے سورج نے بھی ہم پر یہ احسان کیا چاند ستارے ڈال دیے ہیں رات کی خالی جھولی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4181 سے 5858