شاعری

اپنے لوگوں کے نام

غریب لوگو، ستم گزیدہ عجیب لوگو تمہاری آنکھیں جو منتظر ہیں کہ کوئی عیسیٰ نفس تمہارے بریدہ خوابوں کی لاش اٹھا کر پڑھے گا پھر سے وہ اسم اعظم کہ جس سے یہ خواب جی اٹھیں گے غریب لوگو، ستم گزیدہ عجیب لوگو یہ جان لو تم، کہ وہ پیمبر دلوں میں موجود ہے تمہارے تم اپنے بازو کماں کرو گے تم اپنے ...

مزید پڑھیے

وائٹ ہاؤس

درمیان واشنگٹن اک سفید بلڈنگ ہے جس میں ایک جادوگر اوڑھ کر عجب ٹوپی سرخ اور کچھ نیلی شعبدے دکھاتا ہے اس کے اک اشارے پر سب غریب ملکوں کے سربراہ آتے ہیں سر جھکائے جو اپنے ملک کے غریبوں کی عزت و انا اس کی سرخ نیلی ٹوپی میں کپکپاتے ہاتھوں سے ایسے ڈال جاتے ہیں جیسے اک مداری کے ڈگڈگی ...

مزید پڑھیے

کتابیں تم سے اچھی ہیں

کتابیں تم سے اچھی ہیں سرہانے کے بہت نزدیک جو اس طرح میری منتظر رہتی ہیں جیسے کوئی لڑکی خواب کی دہلیز سے انجان شہزادے کی راہیں دیکھتی ہو کتابیں تم سے اچھی ہیں کہ جب میں شام کو دن بھر مشقت کر کے ان کے پاس آتا ہوں تو یہ اپنی قبائیں کھول کر الفاظ کی خوشبو بساتی میری بانہوں میں سماتی ...

مزید پڑھیے

قالین

یہ مانا بہت خوب صورت ہے لیکن یہ قالین پھر بھی نہ میں لے سکوں گا بہت نرم ہے اور جاذب نظر بھی کہ نازک سے پھولوں نے اس کو بنا ہو ذرا اس کے ان سرخ رنگوں کو دیکھو کہ گالوں کی سرخی ہو جیسے نچوڑی یہ گولائی یہ نقش اور زاویے سب بہت نرم ہاتھوں سے جیسے بنے ہوں یہ اس کے کناروں کی رنگین جھالر کہ ...

مزید پڑھیے

ماں

جس کے چہرے پہ نظر آئے خدا کا پرتو جس کی آنکھوں میں چمکتی ہو فقط پیار کی لو جس کی پلکوں پہ نظر آئے وفا کی شبنم جس کے ہونے سے نہ ہوتا ہو کسی طرح کا غم جس کو تخلیق کے جوہر پہ ہو قدرت حاصل جس کی دھڑکن ہو ہر اک لحظہ لہو میں شامل جس کی آغوش میں احساس تحفظ کا رہے جس کی مسکان سے مرجھا ہوا دل ...

مزید پڑھیے

ڈور

مجھے احساس ہے اب بھی اس اک پل کا جو میری زندگی کی انگلیوں سے اس طرح نکلا کہ جیسے ڈور ہاتھوں سے نکل کر انگلیوں کو کاٹ جاتی ہے پتنگیں رقص کرتی ہیں ہوا کے دوش پر اور کوئی اپنی زخم خوردہ انگلیوں کو اپنے ہونٹوں میں دبائے زندگی کا ذائقہ محسوس کرتا ہے پتنگوں کی بجائے آسماں کی وسعتوں میں ...

مزید پڑھیے

مجھے جزدان سے باہر نکالو

مجھے جزدان میں تم نے لپیٹا پھر اس کے بعد طاقوں پر سجایا مری آیات کے تعویذ کر کے تمہی نے مجھ کو جسموں پر سجایا کبھی سچ قتل کر دینے کی خاطر سروں پر اپنے جھوٹوں نے اٹھایا مجھے سمجھے بنا پڑھتے رہے تم مری توہین یوں کرتے رہے تم مرے الفاظ کو تصویر کر کے سجایا گھر کی دیواروں کو تم نے مبلغ ...

مزید پڑھیے

تصور میں جمال روئے تاباں لے کے چلتا ہوں

تصور میں جمال روئے تاباں لے کے چلتا ہوں اندھیری راہ میں شمع فروزاں لے کے چلتا ہوں شکستہ دل ہجوم یاس و حرماں لے کے چلتا ہوں حضور حسن میں یہ ساز و ساماں لے کے چلتا ہوں انہیں شاید یقیں آ جائے اب میری محبت کا میں ان کے روبرو چاک گریباں لے کے چلتا ہوں تمہاری یاد ہر اک گام پر مجھ کو ...

مزید پڑھیے

ملوں کے شہر میں گھٹتا ہوا دن سوچتا ہوگا

ملوں کے شہر میں گھٹتا ہوا دن سوچتا ہوگا دھوئیں کو جیتنے والوں کا سورج دوسرا ہوگا اگر مر کر پھر اٹھنا ہے تو مرنے کی خوشی کیا ہے بدن کھونے کا غم جینے کی خوشیوں سے سوا ہوگا سنا ہے یہ زمیں اڑتی پھرے گی روئی کی صورت تماشا کرنے والا ہی تماشا دیکھتا ہوگا میں چڑیوں کو الجھتے دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

راتوں کے خوف دن کی اداسی نے کیا دیا

راتوں کے خوف دن کی اداسی نے کیا دیا سایے کے طور لیٹ کے چلنا سکھا دیا کمرے میں آ کے بیٹھ گئی دھوپ میز پر بچوں نے کھلکھلا کے مجھے بھی جگا دیا وہ کل شراب پی کے بھی سنجیدہ ہی رہا اس احتیاط نے اسے مجھ سے چھڑا دیا جب کوئی بھی اتر نہ سکا میرے جسم میں سب حال میں نے صرف اسی کو سنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4167 سے 5858