شاعری

ان کا منشا ہے نہ پھیلے خس و خاشاک میں آگ

ان کا منشا ہے نہ پھیلے خس و خاشاک میں آگ آتش دل نہ لگا دیدۂ نمناک میں آگ برق غم بن کے جو احساس نظر پھونک گئی اس قدر تھی ترے اک جملۂ بے باک میں آگ شعلۂ مے کی نوازش ہے تو لگ جائے گی ساز ہستی کے ہر اک نغمۂ ناپاک میں آگ ان کے آنگن میں بھی انگارے برس جائیں گے آہ سوزاں نہ لگا دامن افلاک ...

مزید پڑھیے

انتخاب نگہ شوق کو مشکل بھی نہیں

انتخاب نگہ شوق کو مشکل بھی نہیں کوئی آئینہ ترا آج مقابل بھی نہیں کون سے گل کی خبر باد سحر لائی ہے صحن گلشن میں کہیں شور عنادل بھی نہیں جانے اب کون سی منزل میں میں ارباب جنوں دور تک دشت میں آواز سلاسل بھی نہیں تیر آتے ہیں کمیں گاہ سے میری جانب میری تقدیر میں کیا جلوۂ قاتل بھی ...

مزید پڑھیے

تیرا خیال تھا کہ یوں ہی بد گمان تھے

تیرا خیال تھا کہ یوں ہی بد گمان تھے اپنے بھی کچھ اصول مگر درمیان تھے شاخیں ہر ایک رات یوں ہی چیختی رہیں وہ پھول ہی بکے تھے جو زیب دکان تھے اس نے ازل سے بھینچ کے رکھی تھی مٹھیاں ہاتھوں کی ہر لکیر کے ہم ترجمان تھے سوچوں کی موج موج بہا لے گئی انہیں سانسوں کی گرم ریت پہ جن کے مکان ...

مزید پڑھیے

قہر کیسا صبح دم باد بہاری کر گئی

قہر کیسا صبح دم باد بہاری کر گئی پھول برسانا تھے دل پر شعلہ باری کر گئی تشنۂ تکمیل اک مدت سے تھا ذوق جنوں کام کچھ تو دوستوں کی سنگ باری کر گئی جس قدر جھکتے گئے ہوتے گئے ہم سر بلند رفعتوں سے آشنا یہ خاکساری کر گئی ہم گنہ گاروں کو رحمت کی کہاں امید تھی مستحق لیکن ہماری شرمساری کر ...

مزید پڑھیے

تمام جسم کی پرتیں جدا جدا کرکے

تمام جسم کی پرتیں جدا جدا کرکے جئے چلے گئے قسطوں میں لوگ مر مر کے ہر ایک موج مرے پاؤں چھو کے لوٹ گئی کہیں یہ خواب نہ ہوں نیند کے سمندر کے مری کمان میں ہیں نا توانیاں میری خود اپنی ذات پہ ہیں تیر میرے تیور کے عجب حسین خیالوں کو ذہن پالتا ہے تراشتا ہے صنم بھی تو سنگ مرمر کے بھٹک ...

مزید پڑھیے

منتظر اپنے لئے بھی جو کھلے در ہوتے

منتظر اپنے لئے بھی جو کھلے در ہوتے ہم بھی اوروں کی طرح رات گئے گھر ہوتے سر جھکانے کا مرض پھیل گیا ہر جانب ورنہ اس شہر میں کچھ لوگ قد آور ہوتے اس سے پہلے نہیں گزرا ہوں یہاں سے شاید ایسا ہوتا تو پھر اس راہ میں پتھر ہوتے راستے کاٹ دئے ہم نے خود اپنے ہاتھوں ورنہ کیا جانیے ہم آج کہاں ...

مزید پڑھیے

تمہارے ظلم کی میعاد گھٹ بھی سکتی ہے

تمہارے ظلم کی میعاد گھٹ بھی سکتی ہے یہ میرے پاؤں کی زنجیر کٹ بھی سکتی ہے جو سچ کہا ہے تو اس کی سزا بھی جانتا ہوں مجھے خبر ہے زباں میری کٹ بھی سکتی ہے دلوں کے بیچ جو دوری ہے اس کو ختم کریں یہ سرحدوں کی رکاوٹ تو ہٹ بھی سکتی ہے مجھے شکست نظر آ رہی ہے خود اپنی مگر یقین ہے بازی پلٹ ...

مزید پڑھیے

الفاظ گفتگو کے لیے اب نہیں رہے

الفاظ گفتگو کے لیے اب نہیں رہے محسوس ہو رہا ہے مرے لب نہیں رہے مانا کہ فاصلے ہیں بہت پھر بھی یہ بتا ہم تیرے ساتھ ساتھ بھلا کب نہیں رہے کچھ دیر گفتگو میں تو شائستہ وہ رہا پھر یوں ہوا کہ ہم بھی مہذب نہیں رہے تیشے سے کوئی دودھ کی نہریں نکال دے ہاتھوں میں اب وہ عشق کے کرتب نہیں ...

مزید پڑھیے

چل رہا ہے جو یہاں تو بڑے پندار کے ساتھ

چل رہا ہے جو یہاں تو بڑے پندار کے ساتھ سر نہ آ جائے زمیں پر کہیں دستار کے ساتھ جنگ کا فیصلہ دشمن کو مرے کرنا ہے پھول رکھتا ہوں میں اک ہاتھ میں تلوار کے ساتھ گھر کی تقسیم سے حل کوئی نہیں نکلے گا مسئلے اور کھڑے ہوتے ہیں دیوار کے ساتھ اس لئے خوف نہیں مد مقابل کا مجھے جاں ہتھیلی پہ ...

مزید پڑھیے

خدایا زخموں میں شدت درد اور بھی کچھ شدید کر دے

خدایا زخموں میں شدت درد اور بھی کچھ شدید کر دے پھر اس کے بعد ان تمام زخموں سے اک سخن تو کشید کر دے مچلنا اے دل برا نہیں ہے تو ضد بھی کرنا درست کب ہے کسی کی آنکھیں نہیں کھلونا جو کوئی تجھ کو خرید کر دے سبھی نے دیکھا ہے قتل ہوتے مگر کوئی بولتا نہیں ہے مجھی کو یا رب زبان دے کر یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4166 سے 5858