ان آنکھوں میں بن بولے بھی مادر زاد تقاضا ہے
ان آنکھوں میں بن بولے بھی مادر زاد تقاضا ہے خواہش خواہش بکنے والا ملبوساتی کیڑا ہے اس کے چاروں اور پھریں کیا اس کے اندر اتریں کیا اپنے ہی اندر اترنے کا کیا کچھ کم پچھتاوا ہے سناٹے کی دیواروں سے سر ٹکرا کر مر جاؤ چیخوں کا ظالم دروازہ قد سے کافی اونچا ہے گلیوں گلیوں خاک اڑا لی ...