شاعری

ان آنکھوں میں بن بولے بھی مادر زاد تقاضا ہے

ان آنکھوں میں بن بولے بھی مادر زاد تقاضا ہے خواہش خواہش بکنے والا ملبوساتی کیڑا ہے اس کے چاروں اور پھریں کیا اس کے اندر اتریں کیا اپنے ہی اندر اترنے کا کیا کچھ کم پچھتاوا ہے سناٹے کی دیواروں سے سر ٹکرا کر مر جاؤ چیخوں کا ظالم دروازہ قد سے کافی اونچا ہے گلیوں گلیوں خاک اڑا لی ...

مزید پڑھیے

میں اس کے خواب میں کب جا کے دیکھ پایا ہوں

میں اس کے خواب میں کب جا کے دیکھ پایا ہوں ہے اور کوئی وہاں پر کہ میں ہی تنہا ہوں تمہیں خبر ہے گھروندوں سے کھیلتے بچو میں تم میں اپنا گیا وقت دیکھ لیتا ہوں تم اس کنارے کھڑے ہو بلا رہے ہو مجھے یقیں کرو کہ میں اس اور سے ہی آیا ہوں وہ اپنے گاؤں سے کل ہی تو شہر آیا ہے وہ بات بات پہ ...

مزید پڑھیے

ہر اک دروازہ مجھ پر بند ہوتا

ہر اک دروازہ مجھ پر بند ہوتا اندھیرا جسم میں ناخون ہوتا یہ سورج کیوں بھٹکتا پھر رہا ہے مرے اندر اتر جاتا تو سوتا ہر اک شے خون میں ڈوبی ہوئی ہے کوئی اس طرح سے پیدا نہ ہوتا بس اب اقرار کو اوڑھو بچھاؤ نہ ہوتے خوار جو انکار ہوتا صلیبوں میں ٹنگے بھی آدمی ہیں اگر ان کو بھی خود سے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

آسماں سر پر اگانے میں مرا حصہ نہیں ہے یہ زمیں بھی کل تلک جس گائے کے سینگوں ٹکی تھی وہ مری کوئی نہیں تھی اور اب جس بے بدن ننگے خلا میں تیرتی ہے وہ خلا بھی میں نہیں ہوں ہر طرف پھیلی ہوئی بے رنگ چہرہ زندگی کو میں بھلا کیا ڈھالتا گوشت کا جو لوتھڑا لکھا ہے میرے نام وہ بھی اور کا ڈھالا ...

مزید پڑھیے

جب جنگل بستی میں آیا

میرے چاروں اور مکانوں سے آتی آوازیں سڑکوں پر لہراتی ان گنت موٹر کاریں اسکولوں سے چھنتی زندہ ہنستی بھن بھن لیمپ پوسٹ سے بہتی جگمگ دھارا ہنستے لوگوں سے بھرپور دوکانیں سڑکیں اخباروں میں چھپنے والی اونچے انسانوں کی باتیں جو برسوں میں پورے ہوں گے ایسے منصوبوں کی باتیں کہتی ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

آ کے ہو جا بے لباس

دن جو کہتا ہے مت سن دھوپ کاندھوں پر اٹھانے سے بھی ہٹ جا ڈھیر سے غصے کو اپنی مٹھیوں میں بھر کے لے آ شہر بھر کے منہ پہ مل دے ہر طرف کالک ہی کالک پوت دے دیوار و در پر دن کے سب آثار ڈھا دے نوچ لے آکاش سے جلتے ہوئے خورشید کو دھوپ کی چادر کو کر دے تار تار اور پھر گھر آ کے ہو جا بے لباس بند ہو ...

مزید پڑھیے

موت ماں کی طرح ساتھ ہے

اس گلی کا سرا بھی کہیں کی سڑک پر ہی اگلے گا تاریک منہ پھاڑتی اس گلی میں اتر جاؤ گہرے اتر جاؤ بدبو دماغوں میں بھرتی ہے بھر جائے غم مت کرو پیپ خون اور معدے کی سب گندگی صاف کپڑوں پہ آتی ہے آ جائے غم مت کرو اس گلی میں اڑ کر بھٹکنا ہے ٹکراتے پھرنا ہے کھو جاؤ ٹکراؤ غم مت کرو موت ماں کی طرح ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

سنو ہم درختوں سے پھل توڑتے وقت ان کے لیے ماتمی دھن بجاتے نہیں سنو پیار کے قہقہوں اور بوسوں کے معصوم لمحوں میں ہم آنسوؤں کے دیوں کو جلاتے نہیں اور تم لمس بوسوں سلگتی ہوئی گرم سانسوں میں آنسو ملانے پہ کیوں تل گئی ہو سنو آنسوؤں کا مقدر تمہارا مقدر نہیں تم ابھی موسموں سے پرے اپنی ...

مزید پڑھیے

سفر

رات جب ہر چیز کو چادر اڑھا دے ڈھانپ لے کالے پروں میں آگ لپٹوں سی زبانیں اژدھے جب اپنے اندر بند کر لیں تب اسی کالے سمے میں تم گھروں کی قبر سے باہر نکلنا اور بستی کے کنارے خواب میں خاموش بہتے آدمی سے آ کے مجھ کو ڈھونڈھنا میں وہیں تم سب سے کچھ آگے ملوں گا اور اندھیرا سا تمہارے آگے آگے ...

مزید پڑھیے

آگ برستی لگتی ہے دیواروں سے

آگ برستی لگتی ہے دیواروں سے صائبؔ کیا لکھ آئے ہو انگاروں سے قتل کے بعد مجھے سائے میں ڈال آتے اتنی تو امید تھی مجھ کو یاروں سے میرا دکھ سکھ بانٹنے تو آ جاتے ہیں ہم سایے اچھے ہیں رشتے داروں سے دیکھ لو اپنا سر رکھا ہے نیزوں پر فاصلہ ہم نے رکھا ہے دستاروں سے آخر کب تک قتل کی خبریں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4168 سے 5858