شاعری

خاک میں مجھ کو مری جان ملا رکھا ہے

خاک میں مجھ کو مری جان ملا رکھا ہے کیا میں آنسو ہوں جو نظروں سے گرا رکھا ہے اک تمہیں کو نہیں بے چین بنا رکھا ہے عرش بھی تو مرے نالوں سے ہلا رکھا ہے سوزش ہجر نے اک سیم بدن کے مجھ کو ایسا پھونکا ہے کہ اکسیر بنا رکھا ہے اک پری وش کی عنایت نے زمانے میں مجھے وقت کا اپنے سلیمان بنا رکھا ...

مزید پڑھیے

پہلو میں دل ہے درد محبت لیے ہوئے

پہلو میں دل ہے درد محبت لیے ہوئے بیٹھا ہوں کائنات کی دولت لیے ہوئے اس حسن عشوہ گر سے فرشتے نہ بچ سکے ہے آدمی تو پھر بشریت لیے ہوئے اللہ رے غبار گزر گاہ یار کا ہے ذرہ ذرہ طور کی عظمت لیے ہوئے ہوگی قبول داور محشر یہ پیش کش آیا ہوں میں متاع ندامت لیے ہوئے ہوں باریاب بزم وہ ساعت کب ...

مزید پڑھیے

وہ صاف رخ پہ جو زلف سیاہ فام نہیں

وہ صاف رخ پہ جو زلف سیاہ فام نہیں پتا یہ ہے کہ حلب کے قریب شام نہیں تمہارے رخ سے کچھ اچھا مہ تمام نہیں تمہارے قصر سے اونچا فلک کا بام نہیں وہ کام لے کے بھی کہتے ہیں تجھ سے کام نہیں سلام ایسی اطاعت کو میں غلام نہیں کبھی ہے دشت نوردی کبھی ہیں گلشن میں غرض جنوں میں ہمارا کہیں قیام ...

مزید پڑھیے

کہاں جائے گا درد ان کی جدائی کا خفا ہو کر

کہاں جائے گا درد ان کی جدائی کا خفا ہو کر مرے دل سے نکل کر میرے پہلو سے جدا ہو کر جناب شیخ مسجد میں نہ بیٹھیں پارسا ہو کر بقا حاصل کریں اس کی محبت میں فنا ہو کر تعجب ہے بتوں کو بات کرنا بھی نہیں آتا خدائی میں خدائی کرنے بیٹھے ہیں خدا ہو کر میں وہ ہوں سخت جو اف بھی نہ نکلے گی مرے ...

مزید پڑھیے

کی خوب وفا ہم سے لی خوب خبر تو نے

کی خوب وفا ہم سے لی خوب خبر تو نے دن رات ستم ڈھائے اے بانئ شر تو نے کیا ہم نے بگاڑا ہے کیوں ہم کو ستاتا ہے کیوں ظلم پر اے ظالم باندھی ہے کمر تو نے اے موت تعجب ہے جو زینت گلشن ہے کاٹے وہ شجر تو نے توڑے وہ ثمر تو نے اللہ کے بندوں پر اے بت یہ ستم تیرے رکھا نہ قیامت کا کچھ خوف و خطر تو ...

مزید پڑھیے

پھیر کر تیغ نظر تیغ جفا سے پہلے

پھیر کر تیغ نظر تیغ جفا سے پہلے مار ڈالا مجھے ظالم نے قضا سے پہلے اب مرا خون جگر ہاتھوں میں ملتے ہیں وہ اس سے نفرت تھی جنہیں رنگ حنا سے پہلے زلف میں چھونے نہ پایا کہ بندھے میرے ہاتھ دی ستم گر نے سزا مجھ کو خطا سے پہلے شوق دیدار کی تیزی سے میں اکثر ہر صبح کوچۂ یار میں جاتا ہوں صبا ...

مزید پڑھیے

کفر سے مطلب ہے نہ اسلام سے

کفر سے مطلب ہے نہ اسلام سے ہے غرض معشوق خوش اندام سے ہے غرض خم سے سبو سے جام سے کام ہے ہم کو مئے گلفام سے دفن کر کے ہائے کہتا ہے کوئی قبر میں اب سو رہو آرام سے قاف و لام و قاف ہے ہر دم ہمیں خوش عدو ہے واؤ صاد و لام سے کیا غرض آئیں عیادت کو وہ کیوں ان کو کب فرصت ہے اپنے کام سے حضرت ...

مزید پڑھیے

پر سوز جگر کے نالے بھی دل سوز نکلتے رہتے ہیں

پر سوز جگر کے نالے بھی دل سوز نکلتے رہتے ہیں ہاں شمع بھی جلتی رہتی ہے پروانے بھی جلتے رہتے ہیں خدام حریم ناز جو ہیں اللہ رے ان کی خوش بختی دیدار بھی ہوتا رہتا ہے ارماں بھی نکلتے رہتے ہیں غربت میں وطن اور اہل وطن کی یاد جب آ جاتی ہے مجھے دل ہے کہ تڑپتا رہتا ہے اور اشک بھی ڈھلتے ...

مزید پڑھیے

خوش اداؤں سے بس اللہ بچائے دل کو

خوش اداؤں سے بس اللہ بچائے دل کو کہ بنا لیتے ہیں اپنا یہ پرائے دل کو عشق آساں نہیں اے جان بڑا مشکل ہے جان دے دے مگر انساں نہ لگائے دل کو یہ وہ مضطر ہے کہ ٹھہرا ہے نہ ٹھہرے گا کبھی لاکھ مٹھی میں کوئی اپنے دبائے دل کو نگۂ یار بھی ہے تاک میں انداز بھی ہے ان لٹیروں سے بس اللہ بچائے دل ...

مزید پڑھیے

جہاں سے بے تعلق آپ سے بیگانہ ہو جائے

جہاں سے بے تعلق آپ سے بیگانہ ہو جائے بڑا ہوشیار ہے وہ جو ترا دیوانہ ہو جائے رہیں باقی نہ اس کے ہوش وہ دیوانہ ہو جائے کرم جس پر ترا اے جلوۂ جانانہ ہو جائے نہ کیوں وہ بے نیاز شیشہ و پیمانہ ہو جائے تمہاری مست مست آنکھوں کا جو مستانہ ہو جائے ادا و ناز اور انداز کا شیدا نہ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4152 سے 5858