شاعری

طور پر کیا منحصر ہے جس طرف جاتا ہوں میں

طور پر کیا منحصر ہے جس طرف جاتا ہوں میں تیرے جلوے کی جھلک ہر چیز میں پاتا ہوں میں عالم غربت میں تنہائی سے گھبراتا ہوں میں یاد احباب وطن سے دل کو بہلاتا ہوں میں ہائے مستی میں نہیں رہتا زباں پر اختیار باتوں باتوں میں نہ کہنے کی بھی کہہ جاتا ہوں میں اے عدم کے جانے والو کوئی دم کی ...

مزید پڑھیے

قہر ہوا غضب ہوا شور ہے لالہ زار میں

قہر ہوا غضب ہوا شور ہے لالہ زار میں آگ لگی بہار میں آگ لگی بہار میں اپنا مآل زندگی پھولوں کو دیکھ کر سمجھ آج خزاں نصیب ہیں کل جو کھلے بہار میں داغ جگر کے پھول میں پھول سدا بہار کے رہتا ہے رنگ ایک ساں ان کا خزاں بہار میں اس حسن اس شباب پر ناز و غرور اس قدر آج ہے اور کل نہیں آپ ہیں ...

مزید پڑھیے

جن میں کچھ لطف اور انداز کرم بھی کچھ ہیں

جن میں کچھ لطف اور انداز کرم بھی کچھ ہیں تم ہی انصاف سے کہہ دو ستم بھی کچھ ہیں ناز تم کو ہے جفا پر تو وفا پر ہم کو تم اگر کچھ ہو مری جان تو ہم بھی کچھ ہیں ان کا یہ قول مرے مرنے سے کیا ہوتا ہے مجھ کو دعویٰ ہے مرے دیدۂ نم بھی کچھ ہیں جس کو دیکھو ہے وہی بندۂ بے دام ان کا اے خدا تیری ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ہے ہر اک اک نہ اک ادا کے لیے

جہاں میں ہے ہر اک اک نہ اک ادا کے لیے کوئی وفا کے لیے ہے کوئی جفا کے لیے ہے ایک گھونٹ بہت شیخ پارسا کے لیے گلاس بھر کے نہ دو مے کشو خدا کے لیے ہمارے درد کو بے درد درد جانے کیا یہ درد وہ ہے کہ ہے درد آشنا کے لیے کہیں تمہیں کو تمہاری نظر نہ ہو جائے نہ دیکھو آئنہ اے جان من خدا کے ...

مزید پڑھیے

جوش جنوں میں رات دن سب سے رہا الگ الگ

جوش جنوں میں رات دن سب سے رہا الگ الگ میں ہوں جدا الگ الگ لوگ جدا الگ الگ میں نے بلائیں لینے کو ہاتھ بڑھایا جب ادھر منہ کو پھرا کے یار نے مجھ سے کہا الگ الگ شمع جلانے آئے ہیں آج وہ میری قبر پر چلنا خدا کے واسطے باد صبا الگ الگ خاک ہو زندگی بھلا تیرے مریض عشق کی میں ہوں دوا سے دور ...

مزید پڑھیے

پوچھو نہ یہ فراق میں کیا تیرا حال ہے

پوچھو نہ یہ فراق میں کیا تیرا حال ہے مرنا کمال سہل ہے جینا محال ہے یہ حسن حور کا نہ پری کا جمال ہے خوبان دہر میں تو عدیم المثال ہے اے جذب عشق صرف یہ تیرا کمال ہے ان کا مجھے خیال انہیں میرا خیال ہے بیمار درد و غم کی حقیقت نہ پوچھئے کل اور حال اس کا تھا آج اور حال ہے اک چودھویں کے ...

مزید پڑھیے

حسرت بھی آرزو بھی ہے دل میں تمہیں نہیں

حسرت بھی آرزو بھی ہے دل میں تمہیں نہیں سب کچھ ہے اس مکان میں لیکن مکیں نہیں دعویٰ عبث ہے تم کو کہ مجھ سا حسیں نہیں دنیا میں حسن والے ہیں لاکھوں تمہیں نہیں ہم ان کے جور‌ و ظلم سے بچ کر رہیں کہاں کس جا یہ آسمان نہیں یہ زمیں نہیں ان کا ٹھکانہ ان کا پتا کوئی جانے کیا وہ ہیں تو سب جگہ ...

مزید پڑھیے

عشق میں کون کامیاب ہوا

عشق میں کون کامیاب ہوا عشق جس نے کیا خراب ہوا دیکھنا ہوں گی رخنہ گر نظریں مانع دید اگر نقاب ہوا ربط باہم نے کر دیا مشکل اس کا میں وہ مرا جواب ہوا جل گیا طور غش ہوئے موسیٰ جب ترا حسن بے نقاب ہوا دیکھ کر آپ میرے اشکوں کی پانی پانی در خوش آب ہوا آئی پیری گئیں امنگیں سب ختم ...

مزید پڑھیے

سیرت اچھی ہے تری یار جمال اچھا ہے

سیرت اچھی ہے تری یار جمال اچھا ہے تو بہر طور بس اے نیک خصال اچھا ہے بے قراری ہے وہ اگلی سی نہ وہ درد جگر اب تو کچھ کچھ ترے بیمار کا حال اچھا ہے کب ترے خال منور سے ہیں تارے اچھے کب ترے ابروئے پر خم سے ہلال اچھا ہے دیکھ کر آئنے میں قیامت ابرو سے کہا گلشن دہر میں اک یہ ہی نہال اچھا ...

مزید پڑھیے

اچھا جو برا آپ نے چاہا نہ کسی کا

اچھا جو برا آپ نے چاہا نہ کسی کا دیوانہ کیوں نہ ہو دل فرزانہ کسی کا مانا کہ ہے اس شوخ سے یارانہ کسی کا دم بھرتا ہے پھر کیوں دل دیوانہ کسی کا لو اس کی فقط شمع رسالت سے لگی ہے مشتاق نہیں بزم میں پروانہ کسی کا آتے نہیں اس رشک سے وہ خانۂ دل میں آباد نہ ہو جائے یہ ویرانہ کسی کا اے دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4153 سے 5858