شاعری

کیوں ہیں وہ تیغ بکف اور خفا کیا جانے

کیوں ہیں وہ تیغ بکف اور خفا کیا جانے آج کس شخص کی آئی ہے قضا کیا جانے تیرا بیمار غم ہجر شفا کیا جانے کیسی ہوتی ہے دوا اور دعا کیا جانے ہم سے پوچھو ہمیں معلوم ہے ہم جانتے ہیں غیر کم بخت محبت کا مزا کیا جانے دور ہو پاس سے کم بخت طبیب ناداں تو بھلا درد محبت کی دوا کیا جانے پوچھا جب ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی یہ محبت کا نتیجہ ہوگا

کیا خبر تھی یہ محبت کا نتیجہ ہوگا رات دن درد جدائی میں تڑپنا ہوگا یار کی دید جو تقدیر میں ہوگی ہوگی یار کا وصل مقدر میں جو ہوگا ہوگا جان تو سیکڑوں کی تو نے نکالی ہوگی مگر ارمان کسی کا نہ نکالا ہوگا میرے رونے پہ خوشامد سے یہ کہنا ان کا چپ رہو چپ رہو دیکھو کوئی رسوا ہوگا ہوں وہ ...

مزید پڑھیے

تری جستجو میں دیکھا میں کہاں کہاں سے گزرا

تری جستجو میں دیکھا میں کہاں کہاں سے گزرا کبھی اس زمیں کو روندا کبھی آسماں سے گزرا ترے غم میں دو جہاں سے جو بچا لیا ہے دامن کبھی ایسا بھی ہوا ہے غم دو جہاں سے گزرا مرے نقش ہائے الفت یہ بتا رہے ہیں سب کو میں کہاں کہاں پہ ٹھہرا میں کہاں کہاں سے گزرا یہ مساجد و منادر مرے کام کچھ نہ ...

مزید پڑھیے

محنت و درد و رنج و غم اور علم یہ رات دن (ردیف .. چ)

محنت و درد و رنج و غم اور علم یہ رات دن کرتے ہیں مجھ کو خوار و زار ایک دو تین چار پانچ نالہ و گریہ آہ و اشک اور فغاں ترے بغیر میرے ہوئے ہیں دوست دار ایک دو تین چار پانچ عشوہ نگہ ادا و ناز اور ہے غمزہ ہم رکاب ساتھ ہیں تیرے شہسوار ایک دو تین چار پانچ

مزید پڑھیے

یہ جو دشمن غم نہانی ہے

یہ جو دشمن غم نہانی ہے یہ بھی اک دوست اپنا جانی ہے غافل ہم اس سے وہ رہے ہم سے عمر رفتہ کی قدر دانی ہے قصر تعمیر کر چکے ہیں بہت منزل گور اب بنانی ہے جس کی الفت میں دل دھڑکتا ہے اب تلک اس کی بد گمانی ہے اور بھی اک غزل فراسوؔ پڑھ اب یہ ہنگامہ شعر خوانی ہے

مزید پڑھیے

نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھو

نہ دامنوں میں یہاں خاک رہ گزر باندھو مثال نکہت گل محمل سفر باندھو اس آئنہ میں کوئی عکس یوں نہ ابھرے گا نظر سے سلسلۂ دانش نظر باندھو جو صاحبان بصیرت تھے بے لباس ہوئے فضیلتوں کی یہ دستار کس کے سر باندھو سفیر جاں ہوں حصار بدن میں کیا ٹھہروں چمن پرستو نہ خوشبو کے بال و پر ...

مزید پڑھیے

اب شہر میں کہاں رہے وہ با وقار لوگ

اب شہر میں کہاں رہے وہ با وقار لوگ مل کر خود اپنے آپ سے ہیں شرمسار لوگ ہاتھوں میں وقت کے تو کوئی سنگ بھی نہ تھا کیوں ٹوٹ کر بکھر گئے آئینہ وار لوگ اپنے دکھوں پہ طنز کوئی کھیل تو نہ تھا زخموں کو پھول کہہ گئے ہم وضع دار لوگ بیٹھے ہیں رنگ رنگ اجالے تراشنے رکھ کر لہو کی شمع سر رہ ...

مزید پڑھیے

میں خود ہوں نقد مگر سو ادھار سر پر ہے

میں خود ہوں نقد مگر سو ادھار سر پر ہے عجب وبال‌ غم روزگار سر پر ہے گماں ہے سب کو کہ ہوں آسماں اٹھائے ہوئے سفر سفر وہ قدم کا غبار سر پر ہے ہوائے جاں کا تقاضا کہ رہیے گھر سے دور کہ ہیں جو گھر میں بیاباں ہزار سر پر ہے سبک نہ سمجھو مجھے پشت ٹوٹ جائے گی میں ایک پل سہی صدیوں کا بار سر ...

مزید پڑھیے

بن بن کر آج وصل کی صورت بگڑ گئی

بن بن کر آج وصل کی صورت بگڑ گئی وہ کیا بگڑ گئے مری قسمت بگڑ گئی کہتے ہیں آج دختر ساقی کو دیکھ کر زاہد سے پارسا کی بھی نیت بگڑ گئی اچھے بنے خدا کی قسم وہ شب وصال یہ کہہ کے سو گئے کہ طبیعت بگڑ گئی بوسے کے بدلے دل انہیں دیتا تو خوب تھا افسوس لین دین کی صورت بگڑ گئی صابرؔ کے سامنے ...

مزید پڑھیے

رخ کی رنگت گلاب کی سی ہے

رخ کی رنگت گلاب کی سی ہے اور چمک آفتاب کی سی ہے کمسنی میں وہ آفت جاں ہیں جو ادا ہے شباب کی سی ہے آپ کے ہوتے حور کو چاہیں کیا وہ صورت جناب کی سی ہے غنچہ میں کوئی بات بھی کہیے دہن لا جواب کی سی ہے آنکھیں نرگس لڑاتی ہے ہم سے یہ بھی اس بے حجاب کی سی ہے اے گل تر ترے پسینے میں رنگ اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4151 سے 5858