شاعری

میں ہی اک شخص تھا یاران کہن میں ایسا

میں ہی اک شخص تھا یاران کہن میں ایسا کون آوارہ پھرا کوچۂ فن میں ایسا ہم بھی جب تک جیے سر سبز ہی سر سبز رہے وقت نے زہر اتارا تھا بدن میں ایسا زندگی خود کو نہ اس روپ میں پہچان سکی آدمی لپٹا ہے خوابوں کے کفن میں ایسا ہر خزاں میں جو بہاروں کی گواہی دے گا ہم بھی چھوڑ آئے ہیں اک شعلہ ...

مزید پڑھیے

فضول شے ہوں مرا احترام مت کرنا

فضول شے ہوں مرا احترام مت کرنا فقط دعا مجھے دینا سلام مت کرنا کہیں رکے تو نہ پھر تم کو راستہ دے گی یہ زندگی بھی سفر ہے قیام مت کرنا وہ آشنا نہیں خوابوں کی معنویت کا ہمارے خواب ابھی اس کے نام مت کرنا زبان منہ میں ہے تار گنہ کی صورت تمہارا حکم بجا ہے کلام مت کرنا مرا وجود کہ ہے ...

مزید پڑھیے

رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر

رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر گرد گرد اپنی بصیرت خاک خاک اپنا ہنر جس طرف دیکھو ہجوم چہرۂ بے چہرگاں کس گھنے جنگل میں یارو گم ہوا سب کا ہنر اب ہماری مٹھیوں میں ایک جگنو بھی نہیں چھین کر بے رحم موسم لے گیا سارا ہنر توڑ کر اس کو بھی اب کوئی ہوا لے جائے گی یہ جو برگ سبز کے ...

مزید پڑھیے

جرأت اظہار سے روکے گی کیا

جرأت اظہار سے روکے گی کیا مصلحت میرا قلم چھینے گی کیا میں مسافر دن کی جلتی دھوپ کا رات میرا درد پہچانے گی کیا بے کراں ہوں میں سمندر کی طرح موج شبنم قد مرا ناپے گی کیا چل پڑا ہوں سر پہ لے کر آسماں پاؤں کے نیچے زمیں ٹھہرے گی کیا شہر گل کی رہنے والی آگہی مرے زخموں کی زباں سمجھے گی ...

مزید پڑھیے

جو اس بے رحم پر اپنا دل خانہ خراب آیا

جو اس بے رحم پر اپنا دل خانہ خراب آیا گئے صبر و تحمل ہوش و طاقت اضطراب آیا ہوا بدلی گھٹا چھائی وہ بارش کا سحاب آیا مگر اب تک نہ اے پیر مغاں دور شراب آیا سر محشر وہ یار شعلہ رو جب بے نقاب آیا تو اہل حشر چیخ اٹھے زمیں پر آفتاب آیا سر محفل عدو سے وصل کا اقرار کرنا تھا تمہیں کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

ہے جو خاموش بت ہوش ربا میرے بعد

ہے جو خاموش بت ہوش ربا میرے بعد گل کھلائے گا کوئی اور نیا میرے بعد تو جفاؤں سے جو بدنام کئے جاتا ہے یاد آئے گی تجھے میری وفا میرے بعد کوئی شکوہ ہو ستم گار تو ظاہر کر دے پھر نہ کرنا تو کبھی کوئی گلہ میرے بعد عبرت انگیز ہے افسانہ مرے مرنے کا رک گئے ہیں قدم عمر بقا میرے بعد زمزمے ...

مزید پڑھیے

ادھر بھی دیکھ ذرا بے قرار ہم بھی ہیں

ادھر بھی دیکھ ذرا بے قرار ہم بھی ہیں ترے فدائی ترے جاں نثار ہم بھی ہیں بتو حقیر نہ سمجھو ہمیں خدا کے لیے غریب بندۂ پرور دگار ہم بھی ہیں کہاں کی توبہ یہ موقع ہے پھول اڑانے کا چمن ہے ابر ہے ساقی ہے یار ہم بھی ہیں مثال غنچہ ادھر خندہ زن ہے وہ گل تر مثال ابر ادھر اشک بار ہم بھی ...

مزید پڑھیے

بوالہوس کم فہم ہے وہ آدمی نادان ہے

بوالہوس کم فہم ہے وہ آدمی نادان ہے جو یہ سمجھا عشق کچھ مشکل نہیں آسان ہے کب میں کہتا ہوں کہ میری جان میری جان ہے آپ کی ہے بندہ پرور آپ پر قربان ہے بے خودی کے بعد کیا گزری نہیں کچھ بھی خبر جلوہ گاہ ناز تک پہنچا بس اتنا دھیان ہے کس کے جلوے سے ہے بے خود انجمن کی انجمن ہر بشر تصویر ہے ...

مزید پڑھیے

ہم دیکھتے ہیں ان کی طرف بار بار کیوں

ہم دیکھتے ہیں ان کی طرف بار بار کیوں اپنی نظر پہ ہم کو نہیں اختیار کیوں وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہو بے قرار کیوں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ہو طرحدار کیوں دریا بہا رہی تو اے چشم زار کیوں دم بھر بھی ٹوٹتا نہیں اشکوں کا تار کیوں تم مجھ پہ ڈھا رہے ہو ستم بار بار کیوں آخر رلا رہے ہو مجھے ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی آرزو جس میں ہو وہ اجڑا ہوا دل ہوں

نہ کوئی آرزو جس میں ہو وہ اجڑا ہوا دل ہوں غرض بے کار ہوں اک دم جلا دینے کے قابل ہوں تجھے الفت عدو کی ہے عدو کو تیری الفت ہے نہ اب تو میرے قابل ہے نہ اب میں تیرے قابل ہوں مجھے آساں نہ سمجھو اپنی چوکھٹ سے اٹھا دینا بڑی مشکل سے جو ٹلتی ہے اے جاں میں وہ مشکل ہوں سیہ بختی میں بھی میں نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4150 سے 5858