میں ہی اک شخص تھا یاران کہن میں ایسا
میں ہی اک شخص تھا یاران کہن میں ایسا کون آوارہ پھرا کوچۂ فن میں ایسا ہم بھی جب تک جیے سر سبز ہی سر سبز رہے وقت نے زہر اتارا تھا بدن میں ایسا زندگی خود کو نہ اس روپ میں پہچان سکی آدمی لپٹا ہے خوابوں کے کفن میں ایسا ہر خزاں میں جو بہاروں کی گواہی دے گا ہم بھی چھوڑ آئے ہیں اک شعلہ ...