اس سے کیا چھپ سکے بنائی بات
اس سے کیا چھپ سکے بنائی بات تاڑ جائے جو دل کی آئی بات کہئے گزری ہے ایک ساں کس کی کبھی بگڑی کبھی بن آئی بات رہے دل میں تو ہے وہ بات اپنی منہ سے نکلی ہوئی پرائی بات میں سمجھتا ہوں یہ نئی چالیں کبھی چھپتی نہیں سکھائی بات کہہ دیا اپنے دل کو خود بے رحم چھین لی میرے منہ کی آئی ...