جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے
جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے تفتیش صنم کو سوئے حرم ہم جان کے دل میں دیر چلے گو بحر الم طوفانی ہے ہر موج عدوئے جانی ہے اب پاؤں رکیں گے کیا اپنے اس دریا کو ہم پیر چلے اب کام ہمارا یاں کیا ہے یہ آنا جانا بے جا ہے جس وقت تمہاری صحبت میں ہم ہوں اور حکم غیر چلے ہم ...