شاعری

جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے

جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے تفتیش صنم کو سوئے حرم ہم جان کے دل میں دیر چلے گو بحر الم طوفانی ہے ہر موج عدوئے جانی ہے اب پاؤں رکیں گے کیا اپنے اس دریا کو ہم پیر چلے اب کام ہمارا یاں کیا ہے یہ آنا جانا بے جا ہے جس وقت تمہاری صحبت میں ہم ہوں اور حکم غیر چلے ہم ...

مزید پڑھیے

ہے نگہباں رخ کا خال روئے دوست

ہے نگہباں رخ کا خال روئے دوست حافظ قرآں ہوا ہندوئے دوست ہم نہ ہوں پتھر ہو ہم پہلوئے دوست آئینہ لوٹے بہار روئے دوست پھر گئی جب نرگس جادوئے دوست سب مسلماں ہو گئے ہندوئے دوست بھا گئی ہے دل کو ایسی خوئے دوست آتی ہے ہر گل سے مجھ کو بوئے دوست ہے خیال عارض و گیسوئے دوست گہ مسلمان ہوں ...

مزید پڑھیے

سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں

سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں غافل اگر نہیں ہوں تو ہشیار بھی نہیں قیمت اگر وہ دیتے ہیں تکرار بھی نہیں کچھ ہم کو دل کے دینے میں انکار بھی نہیں نسبت ہے جسم و روح کی اللہ رے اتحاد سبحہ اگر نہیں ہے تو زنار بھی نہیں بیٹھا ہوں اس کی یاد میں بھولا ہوں غیر کو زاہد اگر نہیں ہوں ...

مزید پڑھیے

عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوا

عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوا دل جو اک مدت سے اپنا تھا وہ بیگانہ ہوا کہہ گیا جو جی میں آیا ایسا دیوانہ ہوا بوند میں کم ظرف کا لبریز پیمانہ ہوا سچی باتوں میں بھی ہوتا ہے قیامت کا اثر تذکرہ میرا عجب دلچسپ افسانہ ہوا بد نما سمجھا گیا پیوند استغنا و حرص ننگ دلق فقر کشکول ...

مزید پڑھیے

داغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برس

داغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برس بعد مدت کے ہے پھر جوش بہار اب کے برس آبیاری سے تری اے تیغ یار اب کے برس تختۂ گل ہے ہمارا جسم زار اب کے برس تا بہ دامن ہے گریباں تار تار اب کے برس ٹوٹتے ہیں تلووں میں چبھ چبھ کے خار اب کے برس ہے یہ زور آمد فصل بہار اب کے برس مست ہیں زاہد بھی مثل ...

مزید پڑھیے

شب کہ مطرب تھا شراب ناب تھی پیمانہ تھا

شب کہ مطرب تھا شراب ناب تھی پیمانہ تھا وہ پری وش کیا نہ تھا گویا کہ جو کچھ تھا نہ تھا سوز دل سے لب یہ ہر دم نالہ بیتابانہ تھا ہجر ساقی میں کسی پہلو قرار اصلا نہ تھا جلوہ گر دل میں خیال عارض جانانہ تھا گھر کی زینت تھی کہ زینت بخش صاحب خانہ تھا کیا کروں اب مبتلا ہوں آپ اپنے حال ...

مزید پڑھیے

مہر و الفت سے مآل تہذیب

مہر و الفت سے مآل تہذیب خاکساری ہے کمال تہذیب ہے وہ آرائش حسن باطن جس کو کہتے ہیں جمال تہذیب کم نہیں مردمک چشم سے کچھ رخ انسان پہ خال تہذیب آج کل ہم میں اگر سچ پوچھو شکل عنقا ہے مثال تہذیب کبھی ہوتا نہیں بد وضع کا خوف ہے عجب جاہ و جلال تہذیب رخ پہ کرتا ہے متانت پیدا دل میں آتے ...

مزید پڑھیے

بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا

بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا خیال زحمت نہ کیجئے گا ملال ایذا نہ کیجئے گا وہ مجھ سے فرما رہے ہیں ہنس کر ہمیشہ ملنے کی آرزو پر ملال ہوگا محال شے کی کبھی تمنا نہ کیجئے گا حباب ہے زندگی کا نقشہ کہاں کا دن ماہ و سال کیسا ہوا ہے یہ دم کا کیا بھروسہ امید فردا نہ ...

مزید پڑھیے

ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہے

ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہے ٹھہر اے اجل کہ وہ آئیں گے دم واپسیں کا قرار ہے رہیں محو کیوں نہ ہر ایک دم کہ نظر میں جلوۂ یار ہے دل منتظر ہے جو آئنہ تو خیال آئنہ دار ہے یہ خطائے عشق کی دی سزا کہ مژہ سے مردم چشم نے مرا دل دکھا کے یہ کہہ دیا اسے لو یہ قابل دار ہے یہ خدا ہی ...

مزید پڑھیے

قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ

قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ ایک ہی بات میں ہو بند زبان واعظ طرفہ آفت میں پھنسی آتی ہے جان واعظ کون مے خانہ میں تھا مرتبہ دان واعظ کیوں نہ مینائے مئے ناب پٹک دوں سر پر عیش جب تلخ ہو سن سن کے بیان واعظ اس طرح پند و نصیحت کی اٹھائی تمہید آج ساقی پہ ہوا مجھ کو گمان واعظ تیزیٔ بادہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4025 سے 5858