شاعری

رہو گے ہم سے کب تک بے خبر سے

رہو گے ہم سے کب تک بے خبر سے جدا ہوتی نہیں دیوار در سے مسافر حال کیا اپنا سنائے ابھی لوٹا نہیں اپنے سفر سے ہمیشہ تو نہیں رہتا ہے قائم تعلق راہرو کا رہ گزر سے مکانوں سے مکیں رخصت ہوئے ہیں اداسی جھانکتی ہے بام و در سے ابھی تک ہوں سفر میں ارتقا کے مجھے لگتے تھے رستے مختصر سے اسی ...

مزید پڑھیے

دیپ سے دیپ

دیپ سے دیپ جلائیں ساتھی ہر آنگن اجیارا کر لیں ہر ذرہ مہ پارہ کر لیں میرے سینے تیرے سپنے تیرے سکھ دکھ میرے اپنے ہر آشا کو پائیں ساتھی دیپ سے دیپ جلائیں ساتھی ہر آنگن اجیارا کر لیں ہر ذرہ مہ پارہ کر لیں یہ گھر اپنا وہ گھر اپنا ہیرا اپنا کنکر اپنا مل جل ساتھ نبھائیں ساتھی دیپ سے دیپ ...

مزید پڑھیے

جنگل کا مور

میں جنگل کا مور ہوں بھیا میں جنگل کا مور ہوں بھیا پیڑ ہیں میرے راج سنگھاسن سر پر میرے تاج پنکھ پکھیرو طوطا مینا سب پر میرا راج بادل میرے سنگ اڑے ہیں سنگ اڑے پرویا میں جنگل کا مور ہوں بھیا میں جنگل کا مور ہوں بھیا رنگ بکھیرے چاروں جانب میرا اپنا روپ سارا جنگل گھر ہے میرا کیا چھاؤں ...

مزید پڑھیے

خود اپنی پرستش کرتے ہیں کچھ دیر و حرم سے کام نہیں

خود اپنی پرستش کرتے ہیں کچھ دیر و حرم سے کام نہیں وہ طرز نیاز خاص ہے یہ جو کفر نہیں اسلام نہیں ہوں پیر مغاں یا شیخ حرم سب باندھ رہے ہیں اپنی ہوا کہنے کو بہت کچھ کہتے ہیں جو بات ہے اس کا نام نہیں ہم توڑ دیں قید ہستی بھی یہ قید قفس تو چیز ہے کیا اک جنبش قلب مضطر میں یا ہم ہی نہیں یا ...

مزید پڑھیے

آشیاں تھا ہم سے ہم تھے آشیانے کے لئے

آشیاں تھا ہم سے ہم تھے آشیانے کے لئے روئیے کیا اب قفس میں اس زمانے کے لئے کار فرما ہیں نیاز عشق کی مجبوریاں سجدے لے کر میں چلا تھا آستانہ کے لئے کشمکش میں ہے حیات و موت کی جان حزیں آپ آ جائیں ذرا قصہ چکانے کے لئے کوئی ہوتا ہے خریدار متاع اہل دل دولت دارین لاتے ہیں لٹانے کے ...

مزید پڑھیے

خوں اگر ہوں گے تو کام آئیں گے پیمانوں کے

خوں اگر ہوں گے تو کام آئیں گے پیمانوں کے حوصلے کچھ تو نکل جائیں گے ارمانوں کے ایک ہم ہیں کہ بجز آپ کے سب ہیں اپنے ایک ہیں آپ نہ اپنوں کے نہ بیگانوں کے شوق مے تھا تو کہیں سے ہمیں مانگے نہ ملی توبہ کر لی ہے تو در باز ہیں مے خانوں کے جمع پھر کرتے ہیں اجزائے پریشاں دل کے ٹکڑے لے آتے ...

مزید پڑھیے

دل دیوانہ سے حال دل دیوانہ کہتے ہیں

دل دیوانہ سے حال دل دیوانہ کہتے ہیں ہمیں ہیں سننے والے اور ہمیں افسانہ کہتے ہیں سنا ہے پھر بہار آئے گی اس اجڑے ہوئے گھر میں بنے گا اک جہان آرزو ویرانہ کہتے ہیں سر اخلاص جس کا محو سجدہ ہو ترے در پر وہ کیا جانے کسے کعبہ کسے بت خانہ کہتے ہیں دم آخر ہے آ جاؤ مریض غم کی بالیں پر ذرا ...

مزید پڑھیے

یہ پیکر جمال تو عتاب کے لئے نہیں

یہ پیکر جمال تو عتاب کے لئے نہیں مرے خدا یہ آدمی عذاب کے لئے نہیں تجھے ہے شوق بندگی بہشت کے خیال سے مگر مری عبادتیں ثواب کے لئے نہیں یہ مجھ سے احتراز کیوں یہ مجھ سے اجتناب کیوں سوال تجھ سے ہے مگر جواب کے لئے نہیں جناب کیوں اداس ہیں جناب کیوں ملول ہیں یہ غم تو ہیں مرے لئے جناب کے ...

مزید پڑھیے

بارہ مہینے

جنوری کا مہینہ جو آ کر گیا پھر نئے سال کی ابتدائی کر گیا فروری کر رہا ہے جدا سردیاں ہم اتاریں گے اب اون کی وردیاں مارچ ہے سال کا تیسرا ماہ نو سب کو کرتا ہے تلقین اب خوش رہو ماہ اپریل میں امتحاں آئیں گے رات دن پڑھ کے ہم پاس ہو جائیں گے لو مئی آ گیا بند مکتب ہوئے گرمیوں سے پریشان ہم سب ...

مزید پڑھیے

ابو جی

اتنا کیوں ناراض ہو مجھ پر یوں مت ڈانٹو ابو جی میں ہوں ننھا منا بچہ اتنا جانو ابو جی یوں مت ڈانٹو ابو جی تم بھی پہلے بچے ہی تھے یہ مت بھولو ابو جی نٹکھٹ بھی مجھ جیسے ہی تھے یہ مت بھولو ابو جی جس دن ضد فرمائی ہوگی دادا سے اور دادی سے اس دن مار بھی کھائی ہوگی دادا سے اور دادی سے بچپن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4005 سے 5858