شاعری

ہوا خاموش پتے سو رہے ہیں

ہوا خاموش پتے سو رہے ہیں ابھی شاخوں پہ غنچے سو رہے ہیں سر دیوار سورج تپ رہا ہے پس دیوار سائے سو رہے ہیں در دل پر ابھی دستک نہ دینا اندھیرا ہے اجالے سو رہے ہیں ہوائے تند تو بھی جا کے سو جا درختوں پر پرندے سو رہے ہیں کھلی ہیں شب کے دروازوں کی آنکھیں مگر گھر کے دریچے سو رہے ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد میں لکھا ہے جو کچھ

کسی کی یاد میں لکھا ہے جو کچھ یہی کچھ ہے مرا اپنا ہے جو کچھ اسی کا عکس ہے لفظوں میں میرے نظر کے سامنے دنیا ہے جو کچھ ضرورت مند ہوں مجھ کو عطا کر سکھی داتا مرا حصہ ہے جو کچھ چرا لے جائے گی باد صبا بھی چھپا کر پھول نے رکھا ہے جو کچھ مقدر ہے اسی کا نام شاید مجھے وہ بے طلب دیتا ہے جو ...

مزید پڑھیے

فکر سود و زیاں میں رہتا ہوں

فکر سود و زیاں میں رہتا ہوں میں بھی اس خاکداں میں رہتا ہوں نیلگوں آسمان کے نیچے خیمۂ جسم و جاں میں رہتا ہوں میں ہوں آزاد کب زمانے میں قید وہم و گماں میں رہتا ہوں میں محبت کی روشنی بن کر وقت کی کہکشاں میں رہتا ہوں میں بہاروں کے رنگ میں ڈھل کر منظر بوستاں میں رہتا ہوں جانے کیا ...

مزید پڑھیے

نوچ لیے ہر شاخ سے پتے بوٹا بوٹا لوٹ لیا

نوچ لیے ہر شاخ سے پتے بوٹا بوٹا لوٹ لیا دست خزاں نے چوری چوری باغ تمنا لوٹ لیا اس کو خود ہی میں نے اپنے شہر کی دولت سونپی تھی کس سے ذکر کروں اب جا کر اس نے کیا کیا لوٹ لیا اور تو کچھ بھی پاس نہیں تھا اک یادوں کی دولت تھی ظالم وقت نے چپکے چپکے یہ بھی اثاثہ لوٹ لیا سوکھ گئی ہیں دھوپ ...

مزید پڑھیے

ہمیں اہل زمانہ ڈھونڈتے ہیں

ہمیں اہل زمانہ ڈھونڈتے ہیں کوئی تازہ نشانہ ڈھونڈتے ہیں ابھی تک ہم کوئی عنوان تازہ سر شہر فسانہ ڈھونڈتے ہیں ہماری ہی طرح اٹھ کر سویرے پرندے آب و دانہ ڈھونڈتے ہیں زمیں اب ہو گئی مسکن پرانا نیا کوئی ٹھکانہ ڈھونڈتے ہیں چراغ خون دل ہم تو جلا کر مضامیں کا خزانہ ڈھونڈتے ...

مزید پڑھیے

سر اشجار تحریر ہوا اچھی نہیں لگتی

سر اشجار تحریر ہوا اچھی نہیں لگتی ہمیں پت جھڑ میں گلشن کی فضا اچھی نہیں لگتی گلی کوچوں پہ یہ کیسا سکوت مرگ طاری ہے فضائے شہر بے صوت و صدا اچھی نہیں لگتی پس تصویر ہو جب ایک رنگ آتش و آہن تری تصویر اے دنیا ذرا اچھی نہیں لگتی وہی ہے بھوک اہل زر کی لیکن لوگ کہتے ہیں بھرا ہو پیٹ تو ...

مزید پڑھیے

کوئی نشانیٔ عہد وصال دے جائے

کوئی نشانیٔ عہد وصال دے جائے وہ میری عمر مرے ماہ و سال دے جائے اسے کہو کہ کسی روز آ کے پھر مجھ کو حسین خواب اچھوتے خیال دے جائے پلٹ کے آئے کبھی اس کی یاد کا موسم گل مراد کو رنگ جمال دے جائے خدا کرے کہ اچانک وہ سامنے آ کر مرے لبوں کو نئے کچھ سوال دے جائے تمام عمر کی خوشیاں سمیٹ کر ...

مزید پڑھیے

دل کا ہر ایک داغ چراغاں سے کم نہیں

دل کا ہر ایک داغ چراغاں سے کم نہیں میری خزاں بھی فصل بہاراں سے کم نہیں اس میں ہے خون دل کا سمندر چھپا ہوا آنکھوں میں ایک اشک بھی طوفاں سے کم نہیں یادوں میں ہیں گلاب سے چہرے سجے ہوئے شہر خیال کوچۂ جاناں سے کم نہیں ہے خاک پر نشست فلک پر اڑان ہے میری زمیں بھی تخت سلیماں سے کم ...

مزید پڑھیے

بے ارادہ کوچۂ قاتل میں جانا پڑ گیا

بے ارادہ کوچۂ قاتل میں جانا پڑ گیا پھر ہمیں اپنا مقدر آزمانا پڑ گیا کیا کرو گے جب کبھی شہر تمنا میں تمہیں ہم سے بے آباد لوگوں کو بسانا پڑ گیا اپنے بگڑے خال و خد کو آئنے میں دیکھ کر آئنہ اک آئینہ گر کو دکھانا پڑ گیا دیکھ کر اس کا رویہ خود بجھایا تھا جسے وہ چراغ آرزو پھر سے جلانا ...

مزید پڑھیے

وہ ہم سے ہو گیا ہے بے خبر کچھ

وہ ہم سے ہو گیا ہے بے خبر کچھ بدلتے موسموں کا ہے اثر کچھ کہیں سائے میں رک کر کیا کریں گے چلو اب تیز باقی ہے سفر کچھ ہوائے تند کا یہ کام دیکھو نہ چھوڑا شاخ پر باقی ثمر کچھ بھٹکتے پھر رہے ہیں راستوں میں بصارت سے تہی اہل نظر کچھ اگرچہ شہر تو اپنا ہے لیکن پرائے سے ہیں کیوں دیوار و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4003 سے 5858