شاعری

پڑھ رہا ہوں نصاب ہو جیسے

پڑھ رہا ہوں نصاب ہو جیسے اس کا چہرہ کتاب ہو جیسے یوں بسر کر رہا ہوں دنیا میں زندگانی عذاب ہو جیسے شاخ قامت پہ وہ حسیں چہرہ ایک تازہ گلاب ہو جیسے یوں وہ رہتا ہے میری آنکھوں میں میری آنکھوں کا خواب ہو جیسے وہ مرے بخت کے خزینے میں گوہر لا جواب ہو جیسے اس کی ہستی کتاب ہستی کا اک ...

مزید پڑھیے

تبدیلیوں کی راہ پہ چلنے تو دے مجھے

تبدیلیوں کی راہ پہ چلنے تو دے مجھے خود کو بدل رہا ہوں بدلنے تو دے مجھے بچہ نہیں ہوں میں جو بھٹک جاؤں گا کہیں تنہا رہ حیات میں چلنے تو دے مجھے جلتا ہوا چراغ اگر ہے مرا وجود پھر اپنے دل کے طاق میں جلنے تو دے مجھے گر میری دسترس میں نہیں آسماں کا چاند مہتاب صورتوں سے بہلنے تو دے ...

مزید پڑھیے

یاد آ گئے بچے

کس سے پوچھئے جا کر کیوں بگڑ گئے بچے آتشیں کھلونوں سے کھیلنے لگے بچے کچھ نئے تقاضے ہیں اس نئے زمانے کے اب کہاں مچلتے ہیں چاند کے لیے بچے کھو گئے تعصب کے بے کراں اندھیروں میں شہر کی فضاؤں میں میرے گاؤں کے بچے دو گھڑی لڑائی ہے پھر وہی صفائی ہے ہم بڑوں سے اچھے ہیں بے شعور سے بچے اک قدم ...

مزید پڑھیے

تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیز (ردیف .. ی)

تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیز کس سے کس کا گلا کرے کوئی مانع عرض مجھ کو پاس وفا ان کو ضد التجا کرے کوئی تم تغافل شعار دل مایوس آہ کیا حوصلہ کرے کوئی غم دل اب کسی کے بس کا نہیں کیا دوا کیا دعا کرے کوئی کون سنتا ہے غم نصیبوں کی کس کے در پر صدا کرے کوئی خیر سن لو مرا فسانۂ غم یہ تو ...

مزید پڑھیے

درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب

درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب میری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریب وجد میں روح ہے اور رقص میں ہے پائے طلب دیکھیے حال مرے شوق کا منزل کے قریب رہ گیا تھا جو کبھی پائے طلب میں چبھ کر اب وہی خار تمنا ہے رگ دل کے قریب اب وہ پیری میں کہاں عہد جوانی کی امنگ رنگ موجوں کا بدل ...

مزید پڑھیے

تمہیں بھی معلوم ہو حقیقت کچھ اپنی رنگیں ادائیوں کی (ردیف .. ے)

تمہیں بھی معلوم ہو حقیقت کچھ اپنی رنگیں ادائیوں کی کبھی اسے چھیڑ کر تو دیکھو جو لے مرے دل کی ساز میں ہے ابھی تو اک قطرہ ہی گرا تھا کہ جس سے ہلچل میں ہے زمانہ خدا ہی جانے کہ کتنی قوت دل حزیں کے گداز میں ہے الٰہی خیر اس کے سنگ در کی نہ ہو کہیں صرف شوق وہ بھی کہ ذوق سجدہ کی ایک دنیا ...

مزید پڑھیے

حالات پر نگاہ رتوں پر نظر نہ تھی

حالات پر نگاہ رتوں پر نظر نہ تھی جب تک رہے چمن میں چمن کی خبر نہ تھی خود اپنے گھر کو آگ دکھائی تھی آپ نے اس میں تو کوئی سازش برق و شرر نہ تھی روداد تیرہ بختیٔ احباب کیا کہیں ان کے لئے سحر بھی طلوع سحر نہ تھی فصل بہار میں تر و تازہ نہیں ہوا شاید شجر کو خواہش برگ و ثمر نہ تھی ٹوٹی ...

مزید پڑھیے

اک قبیلے سے ہیں لیکن رنگ و نقشہ اور ہے

اک قبیلے سے ہیں لیکن رنگ و نقشہ اور ہے اور ہے کانٹوں کی دنیا گل کی دنیا اور ہے اشتراک فکر ہو کیسے ہمارے درمیاں تیری خواہش اور ہے میری تمنا اور ہے اور ہی منظر ہے دنیا کا سر طور نظر چشم دل کے سامنے لیکن تماشا اور ہے آرزو کے بحر و دریا کی کہانی کیا کہوں اس کا ساحل اور ہے اس کا کنارا ...

مزید پڑھیے

جھکا سکے نہ مجھے حادثے محبت کے

جھکا سکے نہ مجھے حادثے محبت کے وہی ہوں میں تو وہی سلسلے محبت کے یہ اور بات کہ تم ہی نے امتحاں نہ لیا سبق تو یاد تھے سارے مجھے محبت کے تلاش کر انہیں اہرام مصر کی صورت ہیں دشت دل میں کئی مقبرے محبت کے بتاؤں میں تجھے انجام آرزو کیسے بنا رہا ہوں ابھی زائچے محبت کے ہوا یہ کیسی چلی ...

مزید پڑھیے

جادۂ راستی ہی کافی ہے

جادۂ راستی ہی کافی ہے مجھ کو یہ روشنی ہی کافی ہے اس جہاں میں گزارنے کے لیے مختصر زندگی ہی کافی ہے تجھ کو فرزانگی مبارک ہو مجھ کو دیوانگی ہی کافی ہے کیا ضرورت ہے دشمنوں کی مجھے آپ کی دوستی ہی کافی ہے کیا کروں گا میں سیم و زر لے کر دولت بے خودی ہی کافی ہے دل کے آنگن میں روشنی کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4002 سے 5858