تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میں
تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میں سو تھک کے بیٹھ گیا راستے میں آخر میں میں ہر لحاظ سے سیراب تھا خدا کی قسم یہ اور بات کہ پیاسا رہا بظاہر میں حروف ملتے ہی آواز ڈوب جاتی ہے جو چپ رہوں نہ بتاؤ تو کیا کروں پھر میں کسی بھی سمت بھٹکتا پھروں یمین و یسار تلاش راہ کروں بھی تو کس کی ...