نیزے پہ سر چڑھے گا سید کو سب پتا تھا
نیزے پہ سر چڑھے گا سید کو سب پتا تھا لیکن وہ سوئے مقتل بے خوف چل رہا تھا بیٹے بھتیجے بھائی وارے نہیں جھکا وہ باطل کو حق نہ مانا اتنا سا مدعا تھا ماتم کناں تھا اس پل انسانیت پہ صحرا بانہوں میں جب وہ لاش اصغر لئے کھڑا تھا یعقوب کی طرح سے رویا نہ تھا ادھر وہ نبیوں سے بڑھ کے میرے ...