نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیا
نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیا کہ جیسے شب کا اندھیرا سحر پہ ڈال دیا سماعتیں ہوئیں پر شوق حادثوں کے لیے ذرا سا رنگ بیاں جب خبر پہ ڈال دیا تمام اس نے محاسن میں عیب ڈھونڈ لیے جو بار نقد و نظر دیدہ ور پہ ڈال دیا اب اس کو نفع کہیں یا خسارۂ الفت جو داغ اس نے دل معتبر پہ ڈال دیا قریب و ...