پھول کچلے جا رہے تھے باغباں چیخا کیا
پھول کچلے جا رہے تھے باغباں چیخا کیا یہ زمیں روتی رہی وہ آسماں چیخا کیا جو مکاں والے تھے سارے بے خبر سوتے رہے رات بھر سڑکوں پہ کوئی بے مکاں چیخا کیا جتنے زندہ لوگ تھے سب لاش بن کر رہ گئے جب مدد کے واسطے اک نیم جاں چیخا کیا جانتے تھے ہم بھٹک کر ہی ملیں گی منزلیں اپنے ہی رستے چلے ...