شاعری

یہ کیسا ساتھ ہے

ترے بالوں میں کوئی پھول نہیں مرے ہاتھوں میں کوئی شمع نہیں ترے ہونٹوں پہ کوئی حرف نہیں مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں میں بھی ہوں سفر میں تم بھی ہو یہ کیسا ساتھ

مزید پڑھیے

وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے!

وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے! اک شب میں سارے شہر کے چہرے بدل گئے نیرنگئ نظر پس آئینہ خوب تھی باہر نکل کے دیکھا تو منظر بدل گئے مٹی میں ماہتاب کی خوشبو کا بھید تھا کس جستجو میں ہم لب بام ازل گئے باراں کی التجاؤں میں وقف دعا تھے جو پیڑوں کے ہاتھ دھوپ کی زد میں پگھل گئے گھلنے ...

مزید پڑھیے

یہ شور و شر تو پہلے دن سے آدم زاد میں ہے

یہ شور و شر تو پہلے دن سے آدم زاد میں ہے خرابی کچھ نہ کچھ تو اس کی خاک و باد میں ہے پہنچ کر اس جگہ اک چپ سی لگ جاتی ہے مجھ کو مقام اک اس طرح کا بھی مری روداد میں ہے عجب اک بے کلی سی میرے جسم و جان میں ہے صفت سیماب کی مجھ پیکر اضداد میں ہے یہ شیشہ گھر ابھی تک عرصۂ تکمیل میں ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ان لبوں سے اب ہمارے لفظ رخصت چاہتے ہیں

ان لبوں سے اب ہمارے لفظ رخصت چاہتے ہیں جاگتی آنکھوں میں خوابوں کی سلامت چاہتے ہیں نقش کی صورت لکھی آواز کو دے دو رہائی بے تکلم لفظ بھی اب تو عبارت چاہتے ہیں ایسی یخ بستہ خموشی میں نہ پھر زندہ بچیں گے میرے ٹھٹھرے ہونٹ لفظوں کی حرارت چاہتے ہیں میرے ہاتھوں پر لکھی تحریر مجھ سے ...

مزید پڑھیے

کچھ گنہ نہیں اس میں اعتراف ہی کر لو

کچھ گنہ نہیں اس میں اعتراف ہی کر لو جو چھپائے پھرتے ہو سب کے روبرو کہہ دو بوجھ کیوں رہے دل پر اپنی کم کلامی کا بزدلی بھی اچھی ہے چاہے تم یہ نہ مانو شب جو خواب دیکھا تھا ایک دشت خواہش کا اپنا جی کڑا کر کے آج اس سے کہہ ڈالو خوب ہے سزا یہ بھی کسب کامیابی کی ایک شب کی قیمت میں اب تو ...

مزید پڑھیے

ہم نے سارے حرف لکھے تو کس کے لیے

ہم نے سارے حرف لکھے تو کس کے لیے لکھنے کے سو ڈھنگ چنے تو کس کے لیے کس کی کھوج میں ہم نے دشت و جبل دیکھے بستی بستی ہم جو پھرے تو کس کے لیے پاتالوں میں کس کے رہے ہم متلاشی تا حد افلاک اڑے تو کس کے لیے کس کی یاد میں عمروں سر بہ سجود رہے ہونٹوں پر اوراد لکھے تو کس کے لیے کس کا چہرہ ...

مزید پڑھیے

ندی کنارے بیٹھے رہنا اچھا ہے

ندی کنارے بیٹھے رہنا اچھا ہے یا ندی کے پار اترنا اچھا ہے دستک سی اک دل کے بند کواڑوں پر چپکے چپکے سنتے رہنا اچھا ہے یوں ہی گھر میں چپ اور گم سم رہنے سے گلیوں گلیوں گھومتے پھرنا اچھا ہے جن لوگوں کی یاد سے آنکھیں بھر آئیں ان لوگوں کو یاد نہ کرنا اچھا ہے سانجھ ہوئے جب آنگن جاگنے ...

مزید پڑھیے

آس کے دیپ بجز تیرے بجھا بیٹھے ہیں

آس کے دیپ بجز تیرے بجھا بیٹھے ہیں در پہ تیرے جو لیے حرف دعا بیٹھے ہیں دل تو پہلے ہی گیا تھا تری آواز کے ساتھ تجھ کو دیکھا ہے تو آنکھیں بھی گنوا بیٹھے ہیں تجھ سے معانی کا تقاضا بھی نہیں کر سکتے دل کی شاخوں سے بھی الفاظ اڑا بیٹھے ہیں ساتھ چلنے سے گریزاں ہیں اسی واسطے ہم دھوکہ پہلے ...

مزید پڑھیے

خود ہی تصویر ہوتے جاتے ہیں

خود ہی تصویر ہوتے جاتے ہیں عکس جب آئنوں میں آتے ہیں خواب اتنے ہی پھیلتے جائیں جس قدر حاشیے بناتے ہیں چیخ پڑتی ہے صحن کی وسعت جب بھی دیوار ہم اٹھاتے ہیں غم بھی دیمک مثال ہوتے ہیں سب کو اندر سے چاٹ جاتے ہیں عہد ہم سے نہ کیجئے کوئی عہد اک پل میں ٹوٹ جاتے ہیں

مزید پڑھیے

دل کی تختی سے مری یاد کھرچنے والے

دل کی تختی سے مری یاد کھرچنے والے اس قدر جلد نہیں نقش یہ مٹنے والے پھر کسی یاد کا پودا نہ لگانا دل میں جان لیوا ہیں شگوفے بھی یہ کھلنے والے گھپ اندھیروں کا تدارک بھی ضروری ٹھہرا شب کے پہلو سے ہیں تارے بھی نکلنے والے بور چاہت کا درختوں پہ لگا دیکھا ہے شاخ امید پہ ہیں پھول بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 153 سے 5858