شاعری

کل تک جو میرے یار تھا باقی نہیں رہا

کل تک جو میرے یار تھا باقی نہیں رہا تجھ پر جو اعتبار تھا باقی نہیں رہا جھٹکا یوں اس نے ہاتھ کہ آنکھیں ہی کھول دیں برسوں کا جو خمار تھا باقی نہیں رہا پھر یوں ہوا کہ دونوں کے رستے بدل گئے دونوں میں جو قرار تھا باقی نہیں رہا اشکوں کی اک پھوار نے سب کچھ ہی دھو دیا دل میں جو اک غبار ...

مزید پڑھیے

عجب سکوت سا طاری ہے دل کے خانوں میں

عجب سکوت سا طاری ہے دل کے خانوں میں کہ دھڑکنیں بھی مری گونجتی ہیں کانوں میں ذرا سی تیرگی دیکھیں جو آسمانوں میں طیور لوٹنے لگتے ہیں آشیانوں میں اک ایک کر کے سبھی کوچ کرتے جاتے ہیں کوئی پریت ہے کیا شہر کے مکانوں میں وہ جن میں دیکھنے سے دل کا حال دکھ جائے کوئی وہ آئنے رکھ دے نگار ...

مزید پڑھیے

ذرا سی دیر کو آتا ہے لوٹ جاتا ہے

ذرا سی دیر کو آتا ہے لوٹ جاتا ہے ملن کی آس جگاتا ہے لوٹ جاتا ہے مریض عشق کو دے کر وہ پیار کا نسخہ خلش کو اور بڑھاتا ہے لوٹ جاتا ہے وہ ایک بار بھی سنتا نہیں مری عرضی بس اپنی بات سناتا ہے لوٹ جاتا ہے جھگڑ کے نیند میں اکثر وہ بے سبب مجھ کو درون خواب رلاتا ہے لوٹ جاتا ہے وہ عشق بن کے ...

مزید پڑھیے

خاموش زمزمے ہیں مرا حرف زار چپ

خاموش زمزمے ہیں مرا حرف زار چپ ہر اختیار چپ ہے ہر اک اعتبار چپ باد سموم درپئے آزار دیکھ کر سکتے میں بے قرار ہے باد بہار چپ منظر نہیں ہیں بولتے صحرا اداس ہے پتھرا گئی ہے آنکھ دل داغ دار چپ جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ مقسوم تو نہیں بس تجھ کو کھا گئی ہے تری سوگوار چپ ہر ایک کو ہوں گوش ...

مزید پڑھیے

کتنوں نے جان وار دی ہرنی سی چال پر

کتنوں نے جان وار دی ہرنی سی چال پر کتنے ہی لوگ مر مٹے اس خوش خصال پر مجھ کو خبر ملی ہے کہ پریوں کے دیس میں ہوتے ہیں روز تبصرے اس کے جمال پر میں بھی سوال پوچھ کے خاموش ہو گیا اس نے بھی چپ ہی سادھ لی میرے سوال پر بھنورا کسی گلاب کو چھوتا ہے جس طرح رکھتا ہوں اپنے ہونٹ یوں دلبر کے گال ...

مزید پڑھیے

مرے سونے اجڑے دیار میں کبھی دو گھڑی ہی قیام کر

مرے سونے اجڑے دیار میں کبھی دو گھڑی ہی قیام کر ہو جو دل تو اس میں سکون لے ترا جی کرے تو خرام کر میں تمام عمر گزار دوں جسے سوچتے جسے چاہتے تو جو کر سکے مرے ہم نوا تو وہ ایک پل مرے نام کر مجھے اپنے دل کا وہ راز دے جو خوشی سے مجھ کو نواز دے وہ جو مجھ میں روح سی پھونک دے کسی روز ایسا ...

مزید پڑھیے

اب تک اسی خیال میں الجھا ہوا ہوں میں

اب تک اسی خیال میں الجھا ہوا ہوں میں اپنے بدل گئے ہیں کہ بدلا ہوا ہوں میں دیوار و در کو دیکھ کے لگتا ہے دلبرا تیری گلی سے پہلے بھی گزرا ہوا ہوں میں بکھرے ہوئے سے بال ہیں دامن ہے تار تار پوری طرح سے ہجر میں سنورا ہوا ہوں میں شاید کہ ایک روز وہ آ کر سمیٹ لے مدت سے کوئے یار میں بکھرا ...

مزید پڑھیے

سورج سے کچھ کرنیں لے کر اپنا کام چلاتا ہے

سورج سے کچھ کرنیں لے کر اپنا کام چلاتا ہے جانے پھر کیا بات ہے جس پر چاند بہت اتراتا ہے اس کے ساتھ گزارا ماضی اب تک تنہا راتوں میں یادوں کی سوغاتیں لے کر مجھ سے ملنے آتا ہے اکثر خواب میں دکھنے والے ایک پرانے منظر میں اک جانا پہچانا چہرہ دور کھڑا مسکاتا ہے ہر گوشہ ہے مہکا مہکا اس ...

مزید پڑھیے

مرے رقیب سے ہنس کر کلام کرتے ہوئے

مرے رقیب سے ہنس کر کلام کرتے ہوئے گزر گیا ہے وہ مجھ کو سلام کرتے ہوئے عجب کہ ڈوبنے والا تو مطمئن ہے مگر ڈرا ہوا ہے سمندر یہ کام کرتے ہوئے وہ جس کے سامنے سستے میں رکھ دیا خود کو الجھ پڑا ہے وہ گاہک بھی دام کرتے ہوئے مرے وجود پہ قابض ہوا وہ پل بھر میں نظر کی تیغ سے دل کو غلام کرتے ...

مزید پڑھیے

زیر بام گنبد خضرا اذاں

زیر بام گنبد خضرا اذاں وہ بلالی صوت وہ سامع کہاں کھوجتا ہے ان گنت مسجود میں قل ہو اللہ احد کا سائباں بت تراشی چار سو ہے جلوہ گر دے گئی سب کی جبینوں کو نشاں یاسیت نے کرب کے در وا کئے خشک امیدوں کا گلشن ہے یہاں تو رہین خانہ ہائے اضطراب اٹھ رہا ہے تیرے چلمن سے دھواں ظلمتیں سایہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 144 سے 5858