شاعری

تو نہیں جب سے ہم سفر میرا

تو نہیں جب سے ہم سفر میرا رہ گزر ہے نہ ہے شجر میرا کون دے گا یہاں مجھے دستار ہر بشر چاہتا ہے سر میرا تیرے جانے سے کچھ نہیں ہوتا مجھ پہ ہونے لگا اثر میرا ہر کوئی تھا سراب میں کھویا دیکھتا کون پھر ہنر میرا اجنبی شہر اجنبی گلیاں کوئی دیوار ہے نہ در میرا میں بھی جاذبؔ عجب مسافر ...

مزید پڑھیے

کوئی ذوق نظر ہونے لگا ہے

کوئی ذوق نظر ہونے لگا ہے بہت آساں سفر ہونے لگا ہے کہاں سے لاؤ گے تم ماں کی ممتا اگر پردیس گھر ہونے لگا ہے سنبھالو اب تو اس بیمار کو تم فسانہ مختصر ہونے لگا ہے مرے الفاظ ضو دینے لگے ہیں غزل کہنا ہنر ہونے لگا ہے وہ پہلے ٹس سے مس ہوتا نہیں تھا اگر سے اب مگر ہونے لگا ہے لبوں پر اب ...

مزید پڑھیے

کیوں غلط رہ سے بچایا نہ گیا

کیوں غلط رہ سے بچایا نہ گیا جانے کیوں موڑ کے لایا نہ گیا ماننے والا مری باتوں کو جانے کیوں مجھ سے منایا نہ گیا سر پھری تیز ہوا کے ہوتے دیپ الفت کا بجھایا نہ گیا روح پر ثبت ہوا وہ ایسا پھر کبھی مجھ سے مٹایا نہ گیا کٹ گیا پیڑ تو آنگن کا مگر میرے سر سے کبھی سایہ نہ گیا جب بھی ...

مزید پڑھیے

جب بھی اس کی مثال دیتی ہو

جب بھی اس کی مثال دیتی ہو جان میری نکال دیتی ہو پہلے سنتی ہو غور سے باتیں پھر سلیقے سے ٹال دیتی ہو سب خطائیں تمہاری اپنی ہیں پھر بھی قسمت پہ ڈال دیتی ہو جب بھی کرنا ہو فیصلہ کوئی ایک سکہ اچھال دیتی ہو جان جاذبؔ تمہارا کیا ہوگا دشمنوں کو بھی ڈھال دیتی ہو

مزید پڑھیے

تجھ سے ہی سب بہار ہے مرے دوست

تجھ سے ہی سب بہار ہے مرے دوست تو ہی دل کا قرار ہے مرے دوست تیری یادوں سے دل ہوا آباد ورنہ اجڑا دیار ہے مرے دوست لطف کے سائے میں مجھے رکھ لے دھوپ ہے ریگزار ہے مرے دوست تو ہے سر چڑھ کے بولتا جادو تو سراپا خمار ہے مرے دوست مجھ سے آباد ہے جو تنہائی زندگی کا سنگھار ہے مرے دوست دنیا ...

مزید پڑھیے

ساون

اس کی پلکوں پہ گھٹا بن کے جو چھایا ساون پھر تو میں ہنس پڑا کچھ اس طرح برسا ساون چڑھتے سورج کے شعاعوں سے جو برسا ساون میں نے دیکھا نہ سنا تھا کبھی ایسا ساون ساری جاں کھنچ کے چلی آئی مری آنکھوں میں پھول کی طرح کھلے زخم جو آیا ساون خرمن صبر کو بجلی نے جلایا گر کر جب کبھی دل کی ...

مزید پڑھیے

اپنے ہونے سے تو مکر گیا ہے

اپنے ہونے سے تو مکر گیا ہے پیار کا بوجھ کیا اتر گیا ہے کوئی ملتا نہیں گریباں چاک اس کا مطلب ہے قیس مر گیا ہے پھر سے فصل بہار آنے تک پھول دل کا بکھر بکھر گیا ہے تو کہاں ہے اسے نہیں معلوم ڈھونڈنے تجھ کو در بدر گیا ہے آئنے کو بنانے والا بھی آئنہ دیکھتے ہی ڈر گیا ہے کب یقیں آئے گا ...

مزید پڑھیے

خود سے کوئی مکر گیا ہوگا

خود سے کوئی مکر گیا ہوگا عشق دریا اتر گیا ہوگا نہیں دیکھا کوئی گریباں چاک ایک مجنوں تھا مر گیا ہوگا پھر رہا ہے جو اک بگولہ سا خواب اس کا بکھر گیا ہوگا اس لئے کرچیاں ہیں چاروں طرف آئنے سے وہ ڈر گیا ہوگا اب اسے یاد کیا دلائیں ہم کر کے وعدہ مکر گیا ہوگا

مزید پڑھیے

زندگی ریگزار کی صورت

زندگی ریگزار کی صورت گزری گزری بہار کی صورت وہ نہ آئے نظر تو ہے دنیا ایک اجڑے دیار کی صورت سرکشی چھوڑ کر کہیں اے دوست آ مرے غم گسار کی صورت یار کا ہے خیال بھی مجھ کو خواب کی اور خمار کی صورت موسم ہجر میں تری یادیں دشت میں آبشار کی صورت جا بجا آسمان پر جاذبؔ درد کونجوں کی ڈار ...

مزید پڑھیے

مٹا کر پھر بنایا جا رہا ہے

مٹا کر پھر بنایا جا رہا ہے ہمیں کوزہ بتایا جا رہا ہے وہی کچھ تو کریں گے اپنے بچے انہیں جو کچھ سکھایا جا رہا ہے وہی پانی پہ لکھتے جا رہے ہیں ہمیں جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے ہتھیلی کی لکیریں ہیں کہ جن میں کوئی دریا بہایا جا رہا ہے ہمیں ڈرنا نہیں آتا ہے جاذبؔ ہمیں پھر بھی ڈرایا جا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 139 سے 5858