شاعری

ہمارے ساتھ ماضی کے کئی قصے نکل آئے

ہمارے ساتھ ماضی کے کئی قصے نکل آئے بہت سے دوست دشمن مارنے مرنے نکل آئے پلٹتا دیکھ کر منزل نے یوں آواز دی ہم کو پرانے راستوں میں سے نئے رستے نکل آئے کیا تھا صاف ہم نے راستہ اشجار کٹوا کر کہاں سے روکنے کو راستہ پتے نکل آئے ہماری نیند سے جب واپسی ممکن ہوئی یارو کھلا ہم پر کہ ہم تو ...

مزید پڑھیے

گھرا نہیں اس جمال میں بھی

گھرا نہیں اس جمال میں بھی کشش تھی جس کے خیال میں بھی رہی وہی تشنگی مسلسل فراق سا تھا وصال میں بھی جواب میں آ گیا وہ کیسے کہ جو نہیں تھا سوال میں بھی رہا مرے ساتھ میرا اللہ عروج دیکھا زوال میں بھی تمہی سے ہے یہ تمہارا جاذبؔ جہان اوج کمال میں بھی

مزید پڑھیے

نظروں سے کسی کو بھی گراتے نہیں جاناں

نظروں سے کسی کو بھی گراتے نہیں جاناں ہر بات رقیبوں کو بتاتے نہیں جاناں رہتے ہیں وہ مرجھائے ہوئے موسم گل میں جو لوگ کبھی ہنستے ہنساتے نہیں جاناں ہر پل تری آنکھیں تری خوشبو ہے مرے ساتھ یہ بات مگر سب کو بتاتے نہیں جاناں اٹ سکتا ہے تیرا بھی اسی دھول سے چہرہ رسوائی کی یوں گرد اڑاتے ...

مزید پڑھیے

دنیا گھومے کیا کیا دیکھا

دنیا گھومے کیا کیا دیکھا کوئی نہ ہم نے تم سا دیکھا شب بھر دیکھے خواب ترے دن بھر تیرا رستہ دیکھا تو اس پل تھا سامنے میرے میں نے جب آئینہ دیکھا نہر کنارے بیٹھے تھے ہم میں نے پھر وہ سپنا دیکھا دل کا شیشہ صاف کیا تو اس میں تیرا چہرہ دیکھا ان آنکھوں کے اندر جاذبؔ دنیا گھر کا نقشہ ...

مزید پڑھیے

میرے سینے میں شور سا کیا ہے

میرے سینے میں شور سا کیا ہے جانتے ہو معاملہ کیا ہے سیر دنیا کی ٹھان لی ہے اگر مڑ کے بستی کو دیکھتا کیا ہے دیکھنے کو تو مڑ کے دیکھ لیں ہم دیکھنے کو مگر رہا کیا ہے خود سرابوں سے دوستی کی تھی ریگزاروں سے اب گلہ کیا ہے بدلے بدلے ہیں آشنا چہرے دوستو حادثہ ہوا کیا ہے آئنہ پوچھتا رہا ...

مزید پڑھیے

الوداع اس طرح کہا میں نے

الوداع اس طرح کہا میں نے خود سے خود کو جدا کیا میں نے ماننا دل کا فیصلہ ہے اب کر لیا ہے یہ فیصلہ میں نے مشکلوں سے جسے قریب کیا عجلتوں میں گنوا دیا میں نے اتنے نزدیک سے اسے دیکھا درمیاں رکھ کے فاصلہ میں نے ایک چپ کام کر گئی جاذبؔ جیسے سب کچھ ہی کہہ دیا میں نے

مزید پڑھیے

سنگ ہاتھوں میں لے کے سب آئے

سنگ ہاتھوں میں لے کے سب آئے اور ستم یہ ترے سبب آئے پائی منزل تو سب نے یہ پوچھا آپ اس راستے پہ کب آئے صبح والے کہ شام والے دکھ پاس میرے ہی آئے جب آئے لوگ کیا کیا نہ عشق میں جاذبؔ چھوڑ کر نام اور نسب آئے

مزید پڑھیے

خدا کا شکر ہے کوئی بچھڑ کر لوٹ آیا ہے

خدا کا شکر ہے کوئی بچھڑ کر لوٹ آیا ہے زمانے بھر کے افسانے بھی اپنے ساتھ لایا ہے تعارف ہو تو میں تم کو بتاؤں اس کے بارے میں کہ جس کی یاد نے مجھ کو ستایا ہے رلایا ہے سنا تو ہے کہ میرا نام سن کر وہ بت کافر ذرا سا گنگنایا ہے بہت سا مسکرایا ہے محبت مختلف انداز سے کرتا رہا ہے وہ کبھی اس ...

مزید پڑھیے

روح میں مستی بھر دیتا ہے

روح میں مستی بھر دیتا ہے عشق قلندر کر دیتا ہے کوئی محبت میں دل اپنا کوئی اپنا سر دیتا ہے سب کو مٹی کرنے والا کسی کسی کو پر دیتا ہے میں نے دیکھا بن مانگے وہ سب کی جھولی بھر دیتا ہے اب بھی شاخ پہ آ کر کوئی مجھ کو میری خبر دیتا ہے دشت دیا ہے جس نے جاذبؔ دیکھیں کب وہ گھر دیتا ہے

مزید پڑھیے

ترے رستے میں بیٹھے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے

ترے رستے میں بیٹھے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے تجھے ہم دیکھ لیتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے ہمارا جرم اتنا ہے تمہیں اپنا سمجھتے ہیں تمہیں اپنا سمجھتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے بچھڑ کر تم سے ہم جاناں تمہارے پاس ہوتے ہیں تمہارے پاس ہوتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے تمہارے زلف کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 138 سے 5858