شاعری

ہے رکھنی کتنی روانی نہیں سمجھ پائے

ہے رکھنی کتنی روانی نہیں سمجھ پائے جوان لوگ جوانی نہیں سمجھ پائے وہ لوگ عشق کے صحرا میں تشنہ لب ہی رہے جو لوگ ریت کو پانی نہیں سمجھ پائے الٹ پلٹ کے بہت زیست کو پڑھا ہم نے کسی طرح بھی معانی نہیں سمجھ پائے جدید لہجے میں اس نے ہماری بات کہی سمجھ تھی جن کی پرانی نہیں سمجھ ...

مزید پڑھیے

ہائے وہ یاد کہاں ہے کہ خدا خیر کرے

ہائے وہ یاد کہاں ہے کہ خدا خیر کرے دل میں پھر امن و اماں ہے کہ خدا خیر کرے اک خدا ہے جو محض گفتگو میں ہے موجود اور اسی سے یہ گماں ہے کہ خدا خیر کرے مجھ میں اک دشت سا قائم ہے مگر چاروں طرف شہر کا شہر رواں ہے کہ خدا خیر کرے جو زمانہ سے چھپانی تھی مجھے ہر وہ بات شعر در شعر بیاں ہے کہ ...

مزید پڑھیے

اب تو دل و دماغ میں کوئی خیال بھی نہیں

اب تو دل و دماغ میں کوئی خیال بھی نہیں اپنا جنون بھی نہیں اس کا جمال بھی نہیں اس سے بچھڑ کے زیست میں یے ہی گلہ رہا مجھے اس سے جدا بھی ہوں مگر جینا محال بھی نہیں عشق کی جنگ میں میاں یہ ہی اصول ہے بجا ہاتھ میں اس کے تیغ ہو آپ کے ڈھال بھی نہیں مجھ کو کہیں ملی نہیں کوئی بھی راہ پر ...

مزید پڑھیے

خود ہی پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے

خود ہی پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے زمانے سے نبھایا جا رہا ہے ہماری آنکھوں سے بینائی لے کر ہمیں منظر دکھایا جا رہا ہے معانی خاک ہوتے جا رہے ہیں خیال اتنا پکایا جا رہا ہے سر منبر اکٹھا ہیں قلندر فقیری کو بھنایا جا رہا ہے وہاں سے بھی اٹھایا تھا ہمیں اب یہاں سے بھی اٹھایا جا رہا ...

مزید پڑھیے

آبرو کی کسے ضرورت ہے

آبرو کی کسے ضرورت ہے جان بچ جائے تو غنیمت ہے دیر تک ساتھ دے نہیں سکتا جھوٹ کی بس یہی حقیقت ہے بے ضرورت بھی کر لیا سجدہ یہ عبادت بڑی عبادت ہے میں محبت تجھے نہیں کرتا تو فقط روح کی ضرورت ہے دشت ویراں رہے اگر تو پھر دعوئ عاشقی پے لعنت ہے کوئی شکوہ گلہ نہیں باقی اب اسی بات کی ...

مزید پڑھیے

میں دیا ہوں میرا کام جلنا ہے یارو

میں دیا ہوں میرا کام جلنا ہے یارو ان اندھیروں میں بھی مجھ کو چلنا یارو برف کب تک رہے گی جمی اس طرح سے ایک نہ ایک دن تو پگھلنا ہے یارو قید خود میں رکھا ہے اسے میں نے کب سے روح کو میری گھر سے نکلنا ہے یارو دھوپ کی ہوں کرن میں اترتی زمیں پہ ان پہاڑوں سے بھی تو پھسلنا ہے یارو یاد ...

مزید پڑھیے

نفرتوں میں چھپا پیار ہوگا کہیں

نفرتوں میں چھپا پیار ہوگا کہیں دشت میں بھی تو گلزار ہوگا کہیں چل پڑا آج پھر ہوں اسے ڈھونڈنے بھیڑ میں گم میرا یار ہوگا کہیں ہم تھے تکتے رہے رات بھر چاند کو آس تھی دل کو دیدار ہوگا کہیں بج رہے ساز یادوں کے گر ہے یہاں تو ادھر بھی چھڑا تار ہوگا کہیں ایک وہ ہی تھا کیا اس جہاں میں ...

مزید پڑھیے

بجھی ان آنکھوں میں خواب کیوں ہے

بجھی ان آنکھوں میں خواب کیوں ہے نہیں ہے قصہ تو باب کیوں ہے نہیں خبر اس کے آنے کی جب مہک رہا یہ گلاب کیوں ہے جسے بھی دیکھو وہ پی رہا ہے اگر بری ہے شراب کیوں ہے چھپا تھا جو کچھ ہے اب وہ ظاہر تو رخ پہ تیرے نقاب کیوں ہے ہے سامنے تیرے جب حقیقت نگاہ میں پھر سراب کیوں ہے

مزید پڑھیے

میں تھا کہتا رہا پر سنی نہ گئی

میں تھا کہتا رہا پر سنی نہ گئی جھوٹی کوئی کہانی بنی نہ گئی بھیگ کر کانپتا تھا بدن یہ میرا دھوپ تھی سامنے پر چنی نہ گئی کام اک یہ ادھورا میرا رہ گیا رنج سے روح پوری بھری نہ گئی دھوپ تھی تیز اتنی کی سب جل گیا بھیگتی آنکھ سے پر نمی نہ گئی رات بھر داستاں جو سناتا رہا کاغذوں پر ...

مزید پڑھیے

خود کو خود سے ابھی ملانا ہے

خود کو خود سے ابھی ملانا ہے میں ہوں زندہ مجھے بتانا ہے اور الجھاؤ نہ مجھے اب تم راستے مجھ کو گھر بھی جانا ہے وہ گھروندا تو بہہ گیا کب کا دشت ہی اب مرا ٹھکانا ہے نام مٹتا نہیں ترا دل سے اب بتا کیسے یہ مٹانا ہے راکھ کرنا ہے یاد کو تیری بن کے دریا اسے بہانا ہے روٹھ کر بیٹھے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 135 سے 5858