ہے رکھنی کتنی روانی نہیں سمجھ پائے
ہے رکھنی کتنی روانی نہیں سمجھ پائے جوان لوگ جوانی نہیں سمجھ پائے وہ لوگ عشق کے صحرا میں تشنہ لب ہی رہے جو لوگ ریت کو پانی نہیں سمجھ پائے الٹ پلٹ کے بہت زیست کو پڑھا ہم نے کسی طرح بھی معانی نہیں سمجھ پائے جدید لہجے میں اس نے ہماری بات کہی سمجھ تھی جن کی پرانی نہیں سمجھ ...