ہوا نہیں ہے ابھی منحرف زبان سے وہ
ہوا نہیں ہے ابھی منحرف زبان سے وہ ستارے توڑ کے لائے گا آسمان سے وہ نہ ہم کو پار اتارا نہ آپ ہی اترا لپٹ کے بیٹھا ہے پتوار و بادبان سے وہ ہماری خیر ہے عادی ہیں دھوپ سہنے کے ہم ہوا ہے آپ بھی محروم سائبان سے وہ تمام بزم پہ چھایا ہوا ہے سناٹا اٹھا ہے شخص کوئی اپنے درمیان سے وہ ابھی ...