شاعری

اجنبی سے چہروں پر آشنا سی آنکھیں ہیں

اجنبی سے چہروں پر آشنا سی آنکھیں ہیں آشنا سے چہروں پر کچھ خفا سی آنکھیں ہیں زرد زرد موسم سے تشنگی جھلکتی ہے پھول ہیں خزاؤں کے اور پیاسی آنکھیں ہیں پالکی بہاروں کی آنے والی ہے شاید نیم وا دریچوں میں آئنہ سی آنکھیں ہیں پھر چلا ہے دل لے کر خواب ناک راہوں پر میرے چار سو اب وہ رہنما ...

مزید پڑھیے

نتیجہ سننے کا اب حوصلہ تو کرنا ہے

نتیجہ سننے کا اب حوصلہ تو کرنا ہے وہ میرا ہے کہ نہیں فیصلہ تو کرنا ہے میں اس کے پیار میں سانسیں بھی ہار سکتی ہوں اس انتہا سے اسے آشنا تو کرنا ہے پھر اس کے بعد کوئی درمیاں نہ آ پائے خیال یار کو یوں ہم نوا تو کرنا ہے صبا نے دی ہے خبر آج اس کے آنے کی دیار دل کو اب آراستہ تو کرنا ...

مزید پڑھیے

اس کے چہرے پر عجب سا روپ تھا اچھا لگا

اس کے چہرے پر عجب سا روپ تھا اچھا لگا اس کی خوشبوئے بدن سے رابطہ اچھا لگا لمس اس کے ہاتھ کا پھر ہے رگ و پے میں رواں چند لمحوں کے ملن کو سوچنا اچھا لگا میں نے پھر دل سے کہا اس شخص کی بیعت کرو وہ جو ہر لمحہ مجھے اچھا لگا سچا لگا اپنی تنہائی سے کیسی ہو گئی مانوس میں آج اپنا خالی خالی ...

مزید پڑھیے

جذبوں پہ جمی برف پگھل جائے گی اک دن

جذبوں پہ جمی برف پگھل جائے گی اک دن خوشبو کوئی گلیوں میں مچل جائے گی اک دن آنکھوں میں نئی صبح بکھیرے گی اجالے پھر ذہن سے چمٹی ہوئی کل جائے گی اک دن کب تک وہ ڈرائے گا مجھے تیرگیوں سے وہ رات ہے اور رات تو ڈھل جائے گی اک دن میں بھی تمہیں اب بھول ہی جاؤں گی کسی شام دل بہلا تو یہ زیست ...

مزید پڑھیے

دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا

دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا اب اس کو بھلانے میں ذرا وقت لگے گا تو نے جو پکارا تو پلٹ آؤں گی واپس ہاں لوٹ کے آنے میں ذرا وقت لگے گا لکھا تھا بڑے چاؤ سے جس نام کو دل پر وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا دیتا ہے کسی اور کو ترجیح وہ مجھ پر اس کو یہ جتانے میں ذرا وقت لگے گا جس شاخ ...

مزید پڑھیے

کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے

کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے طوفاں کے بعد کوئی کنارا ملے مجھے جیون میں حادثوں کی ہی تکرار کیوں رہے لمحہ کوئی خوشی کا دوبارہ ملے مجھے بن چاہے میری راہ میں کیوں آ رہے ہیں لوگ جو چاہتی ہوں میں وہ نظارا ملے مجھے سارے جہاں کی روشنی کب مانگتی ہوں میں بس میری زندگی کا ستارا ملے ...

مزید پڑھیے

طغیانیوں سے اپنی نکالا نہ کر مجھے

طغیانیوں سے اپنی نکالا نہ کر مجھے گرچہ صدف ہوں یوں تو اچھالا نہ کر مجھے ویرانیوں کے خوف سے گھبرا کے میرا دل جو ڈوبنے لگے تو سنبھالا نہ کر مجھے یہ روشنی کہیں میری قاتل نہ ہو صدفؔ پروانوں کے جلو میں اجالا نہ کر مجھے

مزید پڑھیے

ہجر کی دہائی دے

ہجر کی دہائی دے ہر ملن جدائی دے روبرو کھڑا ہے تو چاند کیا دکھائی دے اس قدر ہے شور جب شور کیا سنائی دے یاد میں ہوں قید میں دوست اب رہائی دے میں صدفؔ میں ہوں اگر آب تک رسائی دے

مزید پڑھیے

اس جہاں پہ حال دل آشکار کرنا ہے

اس جہاں پہ حال دل آشکار کرنا ہے آج ایک حاسد کو رازدار کرنا ہے کرنے ہیں گلے اس سے رنجشیں بھی رکھنی ہیں پیار بھی ستم گر کو بے شمار کرنا ہے موسم یقیں میں جو بد گمان رہتا ہے اس سے پیار کا رشتہ استوار کرنا ہے جانے والے آخر کو لوٹ کر بھی آتے ہیں ہم نے حشر تک اس کا انتظار کرنا ہے سامنے ...

مزید پڑھیے

میں کیا کروں کوئی سب میرے اختیار میں ہے

میں کیا کروں کوئی سب میرے اختیار میں ہے سفر میں ہے تو بہت کچھ مگر غبار میں ہے چراغ صبح سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں سنا ہے جب سے کہ اک گل بھی اس شرار میں ہے اڑا کے سر وہ ہتھیلی پہ رکھ بھی دیتا ہے بھلی یہ بات تو مانو کہ شہریار میں ہے کلی کھلے تو گریبان یاد آتا ہے یہ دکھ خزاں میں کہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 126 سے 5858