کچھ نہیں ہے تو یہ اندیشہ یہ ڈر کیسا ہے
کچھ نہیں ہے تو یہ اندیشہ یہ ڈر کیسا ہے اک اندھیرا سا بہ ہنگام سحر کیسا ہے کیوں ہر اک راہ میں وحشت سی برستی ہے یہاں ایک اک موڑ پہ یہ خوف و خطر کیسا ہے پھر یہ سوچوں میں ہیں مایوسی کی لہریں کیسی پھر یہ ہر دل میں اداسی کا گزر کیسا ہے اس سے ہم چھانو کی امید بھلا کیا رکھیں دھوپ دیتا ہے ...