سفر میں اب بھی عادتاً سراب دیکھتا ہوں میں
سفر میں اب بھی عادتاً سراب دیکھتا ہوں میں قریب مرگ زندگی کے خواب دیکھتا ہوں میں ہوا نے حرف سادہ میرے ذہن سے اڑا لیا تو اب ہر ایک بات پر کتاب دیکھتا ہوں میں بہار کی سواریوں کے ہم رکاب کیوں رہے خزاں کا برگ و بار پر عتاب دیکھتا ہوں میں کھڑا ہوں نوک خار پر گمان در گمان پر کھلے گا کب ...