شاعری

تو اگر بے وفا نہیں ہوتی

تو اگر بے وفا نہیں ہوتی یہ قیامت بپا نہیں ہوتی موت اس کو شکست دیتی ہے زندگی بے وفا نہیں ہوتی کاش میں بھی نہ روٹھتا اس سے کاش وہ بھی خفا نہیں ہوتی میں اگر سچ کو جھوٹ کہہ دیتا مجھ کو ہرگز سزا نہیں ہوتی اس کی زلفوں کی یاد آتی ہے جب فلک پر گھٹا نہیں ہوتی وحشتیں اور بڑھتی جاتی ...

مزید پڑھیے

دلوں کے راز سپرد ہوا نہیں کرتے

دلوں کے راز سپرد ہوا نہیں کرتے ہم اہل دل ہیں تماشا بپا نہیں کرتے کبھی گلوں کی وہ خواہش کیا نہیں کرتے جنہیں عزیز ہیں کانٹے گلہ نہیں کرتے ہمارے نام سے زندہ ہے سنت فرہاد ہم اپنے چاک گریباں سیا نہیں کرتے دلوں میں آئے کہاں سے یقین کی تاثیر دعا تو کرتے ہیں دل سے دعا نہیں کرتے یہ عشق ...

مزید پڑھیے

محبت

نظر کے تیر سے اک درد سا اٹھتا ہے سینہ میں پھر اس کے بعد سے ہی سب کا جی لگتا ہے جینے میں یہ ایسا درد ہے جو دن بہ دن بڑھتا ہی جاتا ہے چڑھے دریا محبت کا تو بس چڑھتا ہی جاتا ہے محبت جس میں رہتی ہے وہ من میلا نہیں ہوتا کہ جیسے چاندنی چھو لے تو تن میلا نہیں ہوتا اسی خوشبو کو لے کے رات کی ...

مزید پڑھیے

کتے

بھونکتے ہیں جو کتے ان کے سامنے کوئی ڈال دے اگر ہڈی جانتے ہیں کیا ہوگا یک نگاہ و یک آہنگ استخواں پہ جھپٹیں گے اور لوگ دیکھیں گے اتحاد باہم کا زہر پاش نظارہ دل خراش نظارہ ایک ان کی غراہٹ ایک پینترا ان کا ایک بھونکنا ان کا ایک کاوش پیہم رات کی خموشی میں جھلملائیں گے تارے سوئیں گے ...

مزید پڑھیے

اساڑھ

کتنی گرمی ہے عیاذاً باللہ زیر جاموں کے تلے جسم کے ہر گوشے میں چپچپاتا ہے پسینے کا نمک گرم پورب کی امستی ہوئی مرطوب ہوا اپنے نمناک لپکتے ہوں ہاتھوں سے جسے پرشکن بھیگے ہوئے سمٹے ہوئے آنچل میں جذب کر سکتی نہیں اور بھگو دیتی ہے اور ہمسائے کے مطبخ کی کھلی کھڑکی سے اک بھلستے ہوئے بیگن ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ خواہشوں کو مختصر کرتے رہے

رفتہ رفتہ خواہشوں کو مختصر کرتے رہے رفتہ رفتہ زندگی کو معتبر کرتے رہے اک خطا تو عمر بھر ہم جان کر کرتے رہے فاصلے بڑھتے گئے پھر بھی سفر کرتے رہے خود فریبی دیکھیے شمعیں بجھا کر رات میں ہم اجالوں کی تمنا تا سحر کرتے رہے ہم سفر جا پہنچے کب کہ منزل مقصود پر ہم خیالوں میں تلاش رہ گزر ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا تغافل ہے بتا کیوں نہیں دیتے

یہ کیسا تغافل ہے بتا کیوں نہیں دیتے ہونٹوں پہ لگا قفل ہٹا کیوں نہیں دیتے جو مجھ سے عداوت ہے سزا کیوں نہیں دیتے اک ضرب مرے دل پہ لگا کیوں نہیں دیتے دشمن ہوں تو نظروں سے گرا کیوں نہیں دیتے مجرم کو سلیقے سے سزا کیوں نہیں دیتے کس واسطے رکھتے ہو اسے دل سے لگائے چپ چاپ میرا خط یہ جلا ...

مزید پڑھیے

ہوس کی حکم رانی ہو رہی ہے

ہوس کی حکم رانی ہو رہی ہے محبت پانی پانی ہو رہی ہے بسر یوں زندگانی ہو رہی ہے کہ جیسے لن ترانی ہو رہی ہے سخنور ہو زباں اپنی سنبھالو سخن میں بد زبانی ہو رہی ہے پرایا ہے وہ اب میرا نہیں ہے کسی کو خوش گمانی ہو رہی ہے بلا کر مجھ کو محفل سے نکالا یہ کیسی میزبانی ہو رہی ہے بسا رکھی ہے ...

مزید پڑھیے

چاند رقصاں ہے ستارے رقصاں

چاند رقصاں ہے ستارے رقصاں ساتھ رادھا کے ہیں سارے رقصاں ظرف ملتا ہے جہاں دریا میں بس وہیں ہوتے ہیں دھارے رقصاں پاؤں میں فکر کی زنجیر لئے آج دنیا میں ہیں سارے رقصاں آج کا رقص ہے رقص محفل تم جو ہو ساتھ ہمارے رقصاں رقص سیکھا ہے بھنور نے ہم سے ہم جو رہتے ہیں کنارے رقصاں رقص ...

مزید پڑھیے

رونق تمہارے دم سے ہے لیل و نہار کی

رونق تمہارے دم سے ہے لیل و نہار کی تم آبرو ہو آمد فصل بہار کی لفظوں میں ہم بیاں نہیں کر پائیں گے کبھی کیسے سحر ہوئی ہے شب انتظار کی آ جا کہ تیرے عہد وفا کا بھرم رہے رہ جائے آبرو بھی مرے اعتبار کی ہر موڑ پر لکھا ہے مرا حال جان من کیا کیفیت بتاؤں دل بے قرار کی ہم تم سے دور رہ کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 118 سے 5858