جو ترے روئے درخشاں پہ نظر رکھتے ہیں
جو ترے روئے درخشاں پہ نظر رکھتے ہیں وہ خیالوں میں کہاں شمس و قمر رکھتے ہیں راستہ یہ تری چاہت کا نکالا ہم نے بس ترے چاہنے والوں پہ نظر رکھتے ہیں وہ بہت دور ہیں اس بات کا غم ہے لیکن یہ بہت ہے وہ مری خیر خبر رکھتے ہیں ہم ترے غم کو چھپائیں تو چھپائے کیسے دشمنی مجھ سے مرے دیدۂ تر ...